Tag Archives: Shaheena Shaheen

شاہینہ شاہین کا قتل اور بلوچ عورت کا کرب

The Five Shaheen Sisters: Art by Shaheena Shaheen displayed in the University of Balochistan, Quetta on April 25, 2019.

Click here to read the article in English

شاہینہ شاہین کا قتل بلوچ سماج میں عورتوں کی گھمبیر صورتحال کو ایک مرتبہ پھر منظر عام پر لے آیا ہے۔ بلوچ خواتین خاص طور پر وہ جو پدرشاہی کی سرخ لکیر کو پار کرنے کی ہمت کرتی ہیں وہ اس پر خطر صورتحال میں سب سے زیادہ متاثرہیں۔

بلوچ سماج میں پدرشاہی اپنی تمام تر جاوجلال کے ساتھ وجود رکھتی ہے جہاں سماجی، سیاسی اور فکری زندگی میں مردوں کی بالادستی عورت کی شمولیت کو صرف اس تک ہی برداشت کرتی ہیں جہاں یا تو عورت کا کردار مردوں کی متعین کردہ حدود کے اندر بند ہو تا کہ وہ زندہ تو رہے لیکن اپنی زندگی پر مرد کی اجارہ داری کے خلاف کبھی نہ اٹھ سکے۔

جوں ہی اک بہادر عورت مرد کی متعین کردہ تنگ دائروں سے آزاد ہونے کے عزم کا اظہار کرتی ہے اسے نہ صرف ڈرا دھمکا کر خاموش کرایا جاتا ہے بلکہ تشدد کا نشانہ بنا کر دن دھاڑے قتل کردیا جاتا ہے اور قاتل آزاد گھومتے رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ 

ستمبر کی 5 تاریخ کو 25 سالہ شاہینہ کو تربت میں مبینہ طور پر ان کے شوہر مہراب گچکی نے قتل کیا اور لاش مقامی ہسپتال کے باہر چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ مہراب کے ساتھ شاہینہ کی شادی چند مہینے قبل ہوئی تھی۔ باخبر ذرائع کے مطابق شوہر نے قتل کے بعد بلا خوف و خطر شاہینہ کی ماں کو فون کیا اور انہیں ہسپتال سے اپنی بیٹی کی لاش اٹھانے کا کہا۔

مکران کے سماجی و سیاسی حالات میں مہراب گچکی کی اپنے انجام سے بے فکری قابل فہم ہے۔ سابق والی مکران گچکی خاندان کا فرد ہونے کہ وجہ سے مہراب کو ایک عو رت کے قتل پر نا قانون کا سامنا ہے اور نہ ہی کسی مقامی جرگے کا جس کا ڈر اسے کسی ایسے مزموم حرکت سے باز رکھتا۔ اگرچہ مکران سے قبائلی اثر رسوخ ختم ہوئے نصف صدی سے زائد گزر چکا ہے لیکن صدیوں پر محیط ظلم و جبر کی بنیاد پر قائم سماجی برتری اب بھی نہ صرف وجود رکھتی ہے بلکہ کھل کر اپنے وجود کا احساس بھی دلا رہا ہے۔

سابقہ قبائلی حیثیتیں نئے دور کے معاشی قوتوں بین الاقوامی منشیات کے کاروبار، مذہبی شدت پسندی اور تیل کے بیوپار سے وابستہ چند منظم گروہوں کے ساتھ مل کر مکران میں جرم کی نئی سلطنت چلا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات میں ان گروہوں کے کردار اور ان کو ملنے والی کھلی چھوٹ سے ان کی مقتدر اداروں سے وابستگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

شاہینہ کے قتل سے بلوچ سماج میں پہلے سے موجود بے چینی میں اضافہ ہوا ہے جو کہ عورتوں پر ہونے والے حملوں کی حالیہ سلسلے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے شاہینہ کے قتل کو بلوچ عورتوں پر ہونے والے حملوں کے تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عمومی تاثر یہ ہے کہ دہائیوں پر محیط کشیدگی پورے سماج کو متاثر کر چکا ہے جہاں مردوں کے ساتھ ساتھ اب خواتین بھی برائے راست نشانہ بن رہی ہیں البتہ سیاسی جبر کے علاوہ بلوچ سماج کے اندر جبر کی مختلف اندرونی شکلیں بھی وجود رکھتی ہیں جنہوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بلوچ سماج کا اندرونی جبر سیاسی کشیدگی کے زیر اثر ایک اندوہناک شکل اختیار کر چکا ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔پدرشاہی کا جبر انہی اندرونی جبر کی مختلف شکلوں میں سے ایک ہے جو سماج پر مرد کی بالادستی،عورت مخالف رویہ اور صنفی امتیاز کی عمومی اظہار کے ساتھ ساتھ عورتوں پر تشدد کی مختلف شکلوں میں منظر عام پر آرہا ہے۔ 

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاہینہ بلوچ سماج کی پدرشاہانہ ساخت میں موجود اندرونی جبر کا نشانہ بنی۔شاہینہ کو جوانی میں تشدد اور موت کا سامنہ کرنا پڑا کیونکہ وہ ایک عورت تھی جسے ہر حال میں اپنے شوہر کے خواہش کے مطابق زندگی گزارنی تھی چائے وہ خواہشات کتنی ہی مذموم کیوں نہ ہوں۔ اسے خود پر لگائی گئی بےجا پابندیاں قبول کرنی پڑیں، اپنی سماجی زندگی سے قطع تعلق کرنا پڑا، اپنے فن سے دستبردار ہونا پڑا، اور سب سے بڑھ کر اسے خاموش ہونا پڑا اس شاہینہ کو جسے دوسرے بے آواز عورتوں کی آوازبننا تھا۔ بلوچ سماج میں کسی بھی مرد کو اپنے صنف کی وجہ سے کبھی بھی ایسی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا  جن کی خلاف ورزی کی سزا موت ہو۔ بلا شبہ بلوچ مرد کو شدید سیاسی جبر کا سامنہ ہے جہاں وہ روزانہ کی بنیاد پر لاپتہ ہوتے ہیں، تشدد جھیلتے قتل کر دیئے جاتے ہیں لیکن بلوچ عورت کیلئے سیاسی جبر کے علاوہ صرف اس کا صنف قتل کا پروانہ ثابت ہو رہا ہے خاص طور پر ان خواتیں کیلئے جو مردوں کی تعین کردہ حدود سے آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ 

یہ کہانی صرف شاہینہ کی نہیں بلکہ بلوچستان کے ہر اس عورت کی کہانی ہے جو بدلتے معاشی و سماجی حالات میں تنگ دائروں سے نکل کر اس سماج زندگی کا حصہ بننا چاہتی ہے جس پر مردوں کا غلبہ ہے ان میں سے کچھ مرد گروہوں کی شکل میں نہ صرف منظم ہیں بلکہ مسلح بھی ہیں اور عورت پر اپنی مردانہ بالادستی قائم کرنے کیلئے معصوم زندگیوں سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

شاہینہ شاہین کون تھی؟

شاہینہ بی بی ماہ رنگ کی پانچ بیٹیوں میں سے سب سے بڑی تھی۔ شاہینہ کی ماں ماہ رنگ اپنے آپ میں پدرسری معاشرے کے خلاف جد و جہد کی ایک مثال ہیں۔ بیٹا نہ ہونے کی باعث پانچویں بیٹی کی پیدائش پرباپ نے جوان ماں کو بیٹیوں کے ساتھ بے آسرا چھوڑ کران سے قطہ تعلق کر لیا۔ بی بی ماہرنگ نے پدر شاہی کے سامنے ہار نہیں مانی اور اپنی بیٹیوں کو کسی مرد کے سہارے کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔انہیں تربت میں پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس نےاپنے بیٹیوں کو پالنے کیلئے خود گاڑی چلائی۔ آج بھی تربت شہر میں عورت کے گاڑی چلانے کو معیوب تصور کیا جاتا ہے اور بہت سے ایسے خواتین جو ملازمت کرتی ہیں اپنے خاندان کے مردوں کی دباؤ کی وجہ سے خود گاڑی نہیں چلا سکتے۔
 
شاہینہ کی پرورش ایک مضبوط عورت کی زیر سایہ ایک ایسے گھر میں ہوئی جہاں پدرشاہی کے قوائد و ضوابط نافظ کرنے والا بالادست مرد کوئی نہیں تھا۔ ان کی ماں نے مردوں کے سماج سے لڑتے ہوئے اپنی بیٹیوں کیلئے نئے مواقع پیدا کیئے جو کہ بلوچ سماج میں اکثر خواتین کے دست رس سے باہر ہوتی ہیں۔ شاہینہ یہیں سے اپنے جہدوجہد کا آغاذ اس مقصد کے ساتھ کرتی ہیں کہ جو مواقع اسے حاصل ہوئیں وہ بلوچستان کی تمام عورت کی حاصل ہوں۔ ماہ رنگ کی جدوجہد نئی نسل میں منتقل ہو چکی تھی جس نے اسے پورے سماج میں پھیلانے کا بیڑا اٹھایا۔

شاہینہ نے آغاز ‘دزگہار’ سے کیا جسے بلوچی زبان میں عورتوں کی پہلی میگزین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دزگہار کی پہلی جلد 2014 میں شایع ہوئی جس کا مقصد خاتون لکھاریوں کو عورتوں کیلئے مخصوص پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔دزگہار پہلی اشاعت کے بعد وقتی طور پر رک گیا لیکن شاہینہ کہیں نہیں رکیں۔ اپنے اگلے محاذ پر انہوں نے پی ٹی وی بولان کے اسٹیج کے توسط سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں قدم رکھا۔ شاہینہ کاکردار بطور میگزین ایڈیٹر خاص توجہ کا سبب نہیں بنا لیکن انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ایک عوامی مقام تھا جس کے اکثریتی ناظرین مردوں پر مشتمل تھی جو کہ اپنے ٹی وی اسکرین پر مردوں کی صنفی برتری اور سماج میں رائج مرد اور عورت کے مخصوص کردار کو تبدیل ہوتے ہوئے ناگواری کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔
   
اکیسیوں صدی کے ظہور کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کے آثار اگرچہ بلوچستان میں دیر سے پہنچے لیکن وہ پہنچے ضرور۔ٹیکنالوجی کی سرمادارانہ ترقی اور معاشی ڈھانچوں کی مونیٹایزیشن کے زیر اثر زوال پزیر سماجی ساخت میں نئے اور ترقی پسند پرتیں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ نئے مادی حالات رائج الوقت پسماندہ اقدار کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے تبدیلی کا سبب بنیں جس کے بطن سے سماجی وجود کے اظہار کی نئی شکلیں سامنے آئیں۔ 

شاہینہ سماجی تبدیلی کا چہرہ تھیں۔ انہوں نے اپنا زریعہ میڈیا کو بنایا جس کے توسط سے بلوچستان کے متوسط طبقے کے ہر گھر تک ان کی آواز اور ان کا پیغام پہنچا۔ شاہینہ اور ٹی وی اسکرین پر آنے والی ان جیسی بہت سی دیگر بلوچ خواتیں اگرچہ اکثر مرد ناظریں کیلئے انٹرٹینمنٹ کے علاوہ کچھ نہیں تھی لیکن مردوں کی دنیاں میں قید خواتین ناظرین کیلئے وہ ایک نئی دنیا کے ترجمان تھی ۔انہوں نے بلوچ خواتین کو اپنے خود ساختہ محافظ مردوں کی دنیا سے پرے دیکھنے کی ترغیب دی۔

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری نے شاہینہ کو مشہوری کی ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم بنایا جس سے وہ اس قابل ہوئی کہ سماج پر مردوں کی بالادستی اور اس کی نتیجے میں بننے والے ثقافتی اور مذہبی اقدار کو للکار سکے۔ شاہینہ نے آرٹ کے زریعے بلوچ عورت کے کرب کو کینوس پر اتارا جو کہ ہر بلوچ عورت کی طرح اس کی اپنی ذاتی زندگی کا کرب بھی تھا۔شاہینہ نے اپنی فنی علم کو وسیع کرنے کیلئے بلوچستان یونیورسٹی میں فنون لطیفہ کے شعبے میں داخلہ لیا جہاں سے 2015 میں انہیں ان کی قابلیت کے اعتراف میں گولڈ مڈل سے نوازا گیا۔ شاہینہ کا ماننا تھا کہ بلوچ خواتین کو مناسب مواقع فراہم ہوں تو وہ پدرشاہی نظام کے زنجیروں سے آزاد ہو کر ایک نئی دنیا تخلیق کرسکتی ہیں۔

مردوں کی بالادستی پر قائم اسٹیٹس کو کے خلاف جانے کی قیمت شاہینہ کو اپنی زندگی میں پل پل چکانا پڑی۔ انہیں نوجوانی میں اپنی کزن کے ساتھ ایک بے جوڈ شادی پر راضی ہونا پڑا کیونکہ مردانہ سماج ایک غیر شادہ شدہ عورت کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی تھی جو ان عورتوں کیلئے ایک مثال بننے جارہی تھی جن عورتوں کو مردوں نے اپنے سوچ کے تنگ دائروں میں قید رکہا ہوا ہے۔ شاہینہ نے بھی سوچا ہوگا کہ شاید شادی کے بعد ان پر انگلیاں اٹھنا بند ہو جائینگی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ان کی اس سمجھوتے کا نتیجہ ذاتی زندگی میں پیچیدگیوں اور بلاخر طلاق پر ختم ہوا۔ پہلے شوہر سے علیحدگی مختصر مدت کیلئے ہی سہی سکھ کا سبب بنی اور شاہینہ بھرپور انداز میں اپنے تخلیقی سرگرمیوں کی طرف لوٹ گئی۔ اسی دوران شاہینہ نے اپنے جوان خواب کی تعبیر میں دزگہار میگزین کی اشاعت دوبارہ شروع کی اور اپنے آرٹ کے زریعے ایک نئی پہچان بنانے لگی جو کہ ان کی بطور ٹی وی میزبان شناخت سے یکسر مختلف تھی۔ اپنی نئی زندگی میں شاہینہ کی ملاقات ان کے  ہونے والے شوہر اور مبینہ قاتل نوابزادہ مہراب گچکی سے ہوئی۔ 

شاہینہ پسماندہ سماج کے اونچ نیچ پر مبنی حد بندیوں اور تقسیم پر یقین نہیں رکھتی تھی۔وہ ایک ایسے راستے پر گامزن تھیں جو نہ صرف معاشی اور سماجی سرحدوں کے آر پار جاتی تھی بلکہ مکران کی سماجی درجہ بندی کی بنیاد ذات پات کے نظام کو بھی پامال کرنے سے نہیں کتراتی تھی۔قبائلی دور سے رائج ذات کا تصور غیر قبائلی مکران میں بھی اپنے پوری قوت سے قائم ہے۔ شاہینہ ان حدود کو چھو چکی تھیں جہاں تک ایک بلوچ عورت اپنی زندگی داو پر لگا کر ہی پہنچ سکتی تھی۔مہراب گچکی کی دنیا میں شاہینہ کیلئے کوئی جگہ نہیں جہاں سماجی رتبہ، جرم اور مذہبی انتہا پسندی سے جاملتی ہے ۔
  
قتل سے قریب چھ مہینے قبل شاہینہ نے اپنے ماں کے مخالفت کے باوجود مہراب گچکی کے ساتھ شادی کرلی لیکن ان کے شوہر نے اپنے خود ساختہ رتبے کو جواز بنا کر شادی کا کبھی کھلے عام اقرار نہیں کیا۔ ایک خفیہ شادی کے بعد شاہینہ کو مجبور کیا گیا کہ منظر عام پر نہ آئے کیونکہ شاہینہ کی شہرت انتہا پسند مذہبی گروہوں سے وابستہ ایک خود ساختہ نواب زادے کے رتبے کیلئے خطرہ تھا۔ شاہینہ کو نہ صرف اپنا پیشہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا بلکہ انکی سماجی اور تخلیقی سرگرمیوں پر بھی روک لگا دی گئی۔

قتل سے مہینوں قبل شاہینہ کو کسی سماجی نشست میں نہیں دیکھا گیا۔ 5 ستمبر بروز ہفتہ شاہینہ کو اس کا شوہر ایک مکان میں لے گیا جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ شاہینہ کا قاتل جسم اور چہرے پر تشدد کے نشانات کے ساتھ لاش کو اپنی گاڑی میں مقامی ہسپتال کی گیٹ پر چھوڑ کر اس خوف سے آزاد وہاں سے چلا گیا کہ ایک عورت کے قتل کا انجام کیا ہوگا۔

نوٹ: یہ تحریر بلوچستان مارکسسٹ ریویو ٹیم کی مشترکہ کاوش ہے۔

The Agony of Baloch Women

#JusticeForShaheenaShaheen Art by Majida Baloch Instagram @majida.baloch

تحریر اردو میں پڑھنے کیلئے کلک کریں

Shaheena Shaheen’s murder yet again brought into light the vulnerability of Baloch women—especially of those who dare to make their way across the invisible red lines of patriarchy. The Baloch variety of patriarchy also shares the key character of the said system: that the dominance of men over the social, political and intellectual structures, tolerates the inclusion & participation of women in social fields as long as the aspiring women limits herself within the abstractions set by the men. So that they can live, they must not resist appropriation in all of its manifestations. The very moment a daring woman shows any ambitions of outgrowing the narrow man made limits, she is not just threatened and subdued but also tortured and killed in broad daylight, that too with impunity.

On 5th of September, 25 years old Shaheena was murdered in Turbat town allegedly by her husband Nawabzada Mehrab Gichki with whom she was married for about six months. Sources privy to the matter claim that the husband, audaciously called Shaheena’s mother after the incident and asked her to collect the dead body from the district hospital. Gichki’s nonchalance is understandable, as he is a member of the (ex)aristocracy that once ruled Makuran. Although, formal tribal titles are now defunct in the region for over half a century. But the entitlement and social capital carried over, just like many other parts of the world. The bygone tribal aristocracy joined by international drug lords, religious militants, and oligarchs of oil smuggling rackets form and run the murky underworld of Makuran. As shown by repeated incidents in the region, this new criminal alliance has developed deep roots within the state structures as they also work to reinforce the writ of the state in these restive regions.

The unrest in the Baloch society, which was already agitated by the wave of violence targeting women, has further intensified after the murder of Shaheena. Therefore, the disturbing incident is also being viewed by the political class as a continuation of similar attacks on Baloch women. It is argued that the decades long conflict in Balochistan is impacting the entirety of its population, irrespective of gender where women are simply victims of political repression alongside their male counterparts. Beneath the cross gender political repression thesis certain sections of Baloch intelligentsia and the political elites try to cover its internal fault lines which have grown so sharp, intensified under the influence of new forces emerging from within the conflict, that they cannot be ignored any more. Among these fault lines patriarchal repression in the form of male dominance, misogyny, and gender segregation have also translated into violence.

We believe Shaheena became a victim of the patriarchal structures of the society. She had to suffer and embrace a cruel death at a young age because of her gender and because she was a woman who was supposed to obey the commands of her husband, regardless how ridiculous they were. She had to accept restrictions imposed upon her — to quit her social life, to distance herself from her art and to choose silence. Lest we forget, she wanted to be the voice for the voiceless. One must mention that none of the above is experienced by the heterosexual men of the society, nor they make a reason for their death. Of course, there is no denial that for Baloch men, abduction, torture, and death are a everyday reality. But for the women their gender and sexuality are a death sentence, specially for those who choose a liberated life for themselves

This is not just about Shaheena, but every Baloch woman exposed to the changing economic and social conditions. To came out into the public space which is already dominated by men whose most powerful sections in the Baloch society are organized and armed to the teeth poses special risks. This category of heterosexual men can go to any limits to reinforce their dominance at the cost of innocent lives.

Who was Shaheena Shaeen?

The Five Shaheen Sisters: Art by Shaheena Shaheen displayed in the University of Balochistan, Quetta on April 25, 2019.

Shaheena was the eldest among five daughters of Bibi Mahrang, a brave mother from Turbat who has been fighting her own fight against patriarchy. Her father, expecting a male child, left them when her mother gave birth to the fifth girl, leaving the family of five daughters and a mother to survive on their own. Shaheena’s mother embraced the challenges of patriarchy and raised her girls independent of any male support. She is also known as the first woman who drove a car to support her family in Turbat town where even today it is a taboo for most of the female professionals.

Shaheena grew up under a strong woman in a house with no dominant man to impose the patriarchal restrictions. Her mother’s struggle turned the challenges of patriarchy into new possibilities for her daughters, from there she set off on the journey to push further the boundaries for women in Baloch society. Here a generational struggle truly presents the larger Baloch society a immanent moment.

Shaheena began her journey with Dazgohar magazine, the first ever women’s journal in Balochi language to amplify the voice of Baloch women. The first edition of the magazine was published in 2014 when she was a young student. The immature journal stopped there, but she did not. She broke the next barrier by joining the entertainment industry through the state-run PTV Bolan. She started working as host of a morning show in September, 2012. Her role as a female editor of magazine did not attracted much attention. But the entertainment industry was a popular space with majority of its audience being male who could see their patriarchal power and the gender roles breaking apart on the screen.

However, such norms started changing with the capitalist advancement of technology across the globe on the eve of the new millennium. The change came to Baloch society much later and with a slow pace, but it did arrive. The breakdown of social structures created a new stratum of population that was forced by the material conditions of life to deviate against the established norms. The new opportunities created by the increasing monetization of economy and the new technology served as a tool for the growth of the new forms of expression and being within the Baloch society. Shaheena became the face of change. Her tool initially was the electronic media through which she gained outreach to almost every middle-class household in Balochistan. Although she along with a growing number of women in popular space were a source of entertainment for the male audience, but it also showed the women living under oppressive family structures the world beyond the boundaries enacted around them by their so called protectors.

The entertainment industry gave her fame and fortune which enabled her to confront the male dominance of the society and its religious and cultural dogmas. She chose the medium of art to express the agony of Baloch women of which her life story was just another chapter. She started studying fine-arts at the University of Balochistan in 2015 where she graduated with a gold medal. Her efforts indicate that she believed that Baloch women can break free from the chains of patriarchy with the right opportunities.

Her confrontation with the male dominated status quo did not go well for herself. She was forced to marry young with her mismatched cousin at the onset of her fame, as the male authority of the society could not tolerate a young unmarried woman becoming example for the women they suppress at home. She must have misjudged the Baloch patriarchy thinking that her marriage with her cousin will shut the criticism that were coming her way. This first major compromise of hers’ ended in complications and ultimately on divorce. This separation might have been a sigh of relief for her as she returned to her creativity, resuming her young dream of Dazgohar Magazine, and enriching her artistic capabilities in which she had started to craft her new image independent of her fame as a TV host. Her new life introduced her to new elite circles where she met her future husband and alleged murderer, Nawabzada Merhab Gichki.

Her marriage with a person of higher status was an ill-fated union. She knew no artificial boundaries of the regressive society and set on a path that cuts through not just economic and social status, but the notorious hierarchy of zat, the ‘tribal’ caste system of Makuran that still works as a major factor in social stratification. She made it to the glass ceiling, the limits of what a woman in Baloch society can achieve but no further. She had no place in the world of Mehrab Gichki, where crime meets social status and the armed religious dogmas.

Around six months before her murder she got married with Gichki despite her mother’s opposition to another mismatched union. Her husband for his so called status could not even openly admit the marriage. After a secret marriage she was forced to live a life away from the lime light, a life as desired by a criminal influenced by radical religious thoughts. She was forced to quit not just her profession as a host, but also to restrict her social and creative life. She was not seen in any social event for months before her murder. Her last wish was a child from her new marriage. On Saturday, the 5th of September she was taken to a house by her husband, where she was tortured and shot dead. Her murderer, allegedly her husband left the body with scars and slap marks, at district hospital’s entrance and walked away with no fear of whatever consequence her murder might bring.

Note: This feature story is written by Balochistan Marxist Review team in collaboration with the close companions and the family of Shaheena Shaheen.

Art and the Resistance: A Tribute to Shaheena Shaheen

When famous Spanish painter and artist Pablo Picasso painted one of the iconic paintings in history “Guernica” at his home in Paris, a Gestapo officer asked him “Did you do that?” to which Picasso replied, “No, you did it!”

Whether art should have a political purpose or not has for centuries been a subject of debate. Many argue that art cannot be separated from politics while others believe that the purpose of art is to please without any political objective.

The capitalist market forces commodify the very essence of art where its only purpose is to please the oppressive classes. But at the same time art has also been a form of struggle in the hands of revolutionary forces against oppression.

Our art is the art of resistance, the art of struggle, for a new world. We need to ignite the creative fire within us to untangle the false consciousness amongst our people through art. Art that could preserve our culture and identity. Art that could become a political force and bring a social change. Art that could decolonize our minds.

Shaheena Shaheen’s life was a struggle. Her art was resistance. She used her art to portray the resilience and struggle of women in Balochistan. Her self-portrait reminds us of Frida Kahlo that symbolises rebirth, miseries, but also a forlorn hope.

The art exhibition held in Mastung by various progressive groups pays tribute to her feminist art and her courage to become the voice of the voiceless.