Tag Archives: Marxism-Leninism

گرامچی اور انقلاب روس: مارکسی فکر میں توسیع اور تخلیق کاری کی ایک روداد

ایاز ملک

اطالوی دانشور اور کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کے بانی انٹونیو گرامچی کا شمار بیسویں صدی کےمایہ ناز مفکرین میں ہوتا ہے۔ نہ صرف مارکسی فکر کے اندر بلکہ گرامچی کے خیالات اور ان کے نظریات کو غیر مارکسی فکر کے پیشہ وران نے بھی خوب بڑھ چڑھ کر اپنایا ہے۔ دوسری طرف مارکسی فکر کے اند گرامچی کو اکثر “مغربی” ریاستوں اور ان کی سول سوسائٹی کا دانشور سمجھا گیا ہے اور ان کے” اجارہ داری” جیسے تصورات کو صرف ” مغرب” اور سرمایہ دارانہ طور پر ترقی یافتہ ممالک تک محدو د کر دیا گیا ہے۔جدھر گرامچی اور ان کے نظریات کا استمعال سماجی علوم کے تقریبا ہر شعبے میں ہی عام ہے، ان نظریات کا استمعال گرامچی کی اپنی مقصود تشریحات، ان کی روح اور ان کے سیاق و سباق سے الگ رکھ کر ہی کیا گیا ہے یوں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے گرامچی کو اپنی مشہوری کی سزا ان کے خیالات کی روح میں تبدیلی اور اکثر ان سے مکمل لا علمی کی صورت میں ملا ہے۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی گرامچی کی سوچ اور ان کے تصورات پر انقلاب روس کا گہرا اثر ہے۔ جدھر غیر مارکسی دانشوروں نے گرامچی کو اپنا کر ان کی سوچ کے انقلابی کاٹ کو کند کیا ہے، اسی طرح گرامچی کی انقلاب روس سے گہری وابستگی کو بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ یوں اس حقیقت سے منہ موڑ لیا گیا کے گرامچی نہ صرف کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کے بانی ممبران میں سے ایک تھے، بلکے انہوں نے کومنٹرن میں پہلے سوشلسٹ اور پھر کمیونسٹ پارٹی کے نمائندے کی حیثیت سے نہ صرف سوویت یونین میں بعد از انقلاب عمل کو بہت غور سے دیکھا بلکے اس دوران انہوں نے کومنٹرن کے اندر لینن سٹالن اور ٹراٹسکی وغیرہ کے ساتھ بھرپور بحث مباحثے میں بھی حصہ لیا ۔یوں گرامچی کی سوچ کو انقلاب روس سے الگ رکھ کر دیکھنا ہمیں ایک ادھورا تصور ہی فراہم کر سکتا ہے۔

اس مضمون میں ہم گرامچی کے سیاسی اور علمی عمل اور اس پر انقلاب روس کے مرتب کئے اثرات کا جائزہ لیں گے۔ پہلے حصے میں ہم گرامچی کے جیل بند ہونے سے قبل سیاسی و علمی تشکیل اور اس میں انقلاب روس کا جائزہ لیں گے۔ دوسرے اور تیسرے سیکشن میں ہم گرامچی کے عقوبت خانے میں لکھی نوٹ بکس اور ان میں خاص طور پر انقلاب روس سے متاثرہ “اجارہ داری” اور “سالم ریاست” کے تصورات کا جائزہ لیں گے۔

قبل از جیل گرامچی کی سیاست اور انقلاب روس

گرامچی کا تعلق اٹلی کے جنوب میں واقع سارڈنیا کے جزیرے سے تھا ۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اٹلی کا شمار “مغربی” دنیا کے پسماندہ ممالک میں ہوتا تھا، اور اٹلی کے اندر جنوبی علاقے بشمول سارڈنیا انتہائی زیادہ پسماندہ حالات میں تھے۔ یہاں کا سماجی ڈھانچہ اکثر و بیشتر کاشتکاری اور معدنیات کے استخراج پر قائم تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے صنعتی طور پر ترقی یافتہ شمالی اٹلی اور زرعی پیداوار پر انحصار کرنے والے جنوبی اٹلی کے درمیان ایک استحصالی یا نو آبادیاتی/نیو کالونیل رشتہ قائم تھا۔ ادھر کی زیادہ تر اشرافیہ کی بنیاد جاگیرداری اور ریاستی بیوروکریسی میں تھی۔ گرامچی کا اپنا تعلق ایک چھوٹے کاشکار خاندان سے تھا اور ان کے والد ایک نچلے لیول کے سرکاری افسر تھے (فیوری، ١٩٧١) ۔ گرامچی کے والد نے اپنی جوانی کا اکثر وقت جیل میں گزارا اوران کے خاندان نے اس دوران خوب اصوبتیں اور غربت برداشت کی۔ یوں گرامچی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ایک سارڈنین قوم پرست کے طور پر کیا۔ اپنے تمام بہن بھائیوں میں سب سے ذہین ہونے کے ناطے خاندان والوں نے ان کو شمالی اٹلی کے صنعتی اعتبار سے سب سے ترقی یافتہ شہر ٹیورن لسانیات پڑھنے یونیورسٹی بھیجا۔ ادھر گرامچی کا واسطہ سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی میں سرگرم کارکنان اور طلبا سے پڑا جس کی بنا پر گرامچی بھی کمیونسٹ سیاست کی طرف مائل ہوئے۔ اس دوران یہ مختلف ثقافتی و اخباری جریدوں کے لئے کالم لکھتے رہے اور آگے چل کر سوشلسٹ پارٹی کے چند دوستوں کے ساتھ ملکر لے اور ڈی نووو (نیا سماج) نامی اخبار بھی قائم کیا۔

انقلاب روس کے پہلے (بعد از فروری) مرحلے کے رد عمل میں گرامچی نے اپریل ١٩١٧ میں “انقلاب روس پر نوٹس” کے عنوان سے ایک کالم لکھا جس میں انہوں نے اس کو ایک “پرولیتاری عمل” قرار دیا (گرامچی، ٩١٧ ا)۔ یاد رہے کے بالشویک قیادت کے تحت پرولتاری انقلاب کی تاریخ اصل میں اکتوبر ١٩١٧ بتائی جاتی ہے۔ لیکن گرامچی نے فروری انقلاب کی روح کو پرولتاری قرار دے کر یہ بھی دعوہ کیا کہ اس عمل کا “فطری طور پر اگلا قدم ایک اشتراکی انقلاب ہے”۔ اس پیشن گوئی کی بنیاد گرامچی کا یہ مشاہدہ تھا کے روسی انقلاب کا عمل انقلاب فرانس کی طرح جیکوبن ماڈل پر نہیں تھا، اور اس کو عوام کی وسیع اکثریت کی حمایت حاصل تھی (جو کہ عالمگیر حق رائے دہی جیسے اقدامات میں نظر آتی ہے، اس کی ایک مصال عورتوں کو ووٹ کا حق دینا ہے)۔ دوسری اور زیادہ اہم بات یہ تھی کہ انقلاب کے اس پہلے مرحلے میں صرف سیاسی اقتدار میں تبدیلی ہی نہیں، بلکے گرامچی کے مطابق اس کا محور ایک نیا اخلاقی نظام اور اس سے جڑی نئی آزادانہ سوچ، شعور اور تمنائیں تھیں۔ اس سلسلے میں گرامچی نے ایسے واقعات کا حوالہ دیا جب انقلابیوں نے اوڈیسا جیل جا کر قیدیوں کو رہا کر دیا تو مجرموں نے خود ساختہ طور پر ایک دوسرے سے یہ عہد کیا کے اب دیانتداری کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور کسی حقدار کی محنت کے پھل کو نقب زن نہیں کریں گے۔

اکتوبر انقلاب کے جواب میں گرامچی نے ایک مشہور کالم میں اس کو “داس کپیٹل کے خلاف انقلاب” قرار دیا (گرامچی، ٩١٧ا)۔ یعنی کے منشیوک اور روسی بائیں بازو کے ان رجحانات کے برخلاف جو روس کو ایک “پسماندہ” اور ترقی یافتہ اقتصادی ملک نہ ہونے کی بنیاد پر اشتراکی انقلاب کے لئے غیر موضوع قرار دے چکے تھے، لینن اور ان کے بالشیوک ساتھیوں نے داس کیپٹل میں موجود کچھ نظریات سے انحراف کرتے ہوئے اس کی روح پر نہ صرف عمل کیا بلکہ اس کو ایک نئی توانائی بخش دی: جہاں “عام” حالات میں طبقاتی جدوجہد اور شعور کا ارتقا ایک طویل مدتی عمل ہے وہی روس میں پہلی جنگ عظیم کے مخصوص پریشر کے تحت “اجتمائی خواہشات اور شعور کے عمل میں ایک الگ برق رفتاری پیدا ہوئی۔” یوں روسی پرولتاریہ اپنے انقلاب میں صرف ملک روس کی حدود میں اقتصادی و شعوری ترقی کی قیدی نہیں، بلکے یہ تمام دنیا کی ترقی اور ان کی پرولتاری تاریخ کے اسباق ساتھ لے کر چلی ہے، “اس کا نقطہ آغاز اور جگہوں پر حاصل کی گئی کامیابیاں ہے جن کے تحت۔۔۔ انقلابی خود ہی اپنے آئیڈیل حالات تعمیر کریں گے اور یہ سب کچھ سرمایا دارانہ نظام سے کم وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا”۔

انقلاب روس کا اصل گہرا اثر گرامچی کی سیاسی سوچ اور عمل پر پڑا۔ ١٩١٩ میں گرامچی اور ان کے ساتھیوں کے “لے اور ڈی نووو” قائم کرنے کے کچھ مہینے بعد ہی ٹیورن کی آٹو موبیل صنعت میں بڑے پیمانے پر ہڑتالوں اور گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یاد رہے کے ٹیورن اس وقت اٹلی میں صنعتکاری کے لحاظ سے سب سے ترقی یافتہ شہر تھا اور ادھر آٹو موبیل انڈسٹری کی نمایاں کمپنیوں کے بڑے کارخانے مجود تھے (جیسے کے فیاٹ اور فیراری)۔ صنعتی پرولتاریہ کی بھاری تعداد ہونے کے ناتے ادھر اشتراکی اور انارکسٹ نظریات کا بول بالا تھا، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ابھار ہڑتالوں سے بڑھ کر فیکٹریوں میں مزدور کونسلوں کے قیام تک پہنچ گیا۔ یوں انقلابی روس کے طرز پر ادھر بھی سوویت نما تنظیموں کا قیام عمل میں آیا جن میں مزدوروں نےاپنی اپنی فیکٹریوں کی حد تک پیداواری فیصلوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ گرامچی کے “لے اور ڈی نووو” اخبار نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا، اور اس موقعے پر گرامچی پر امید تھے کہ سوشلسٹ پارٹی کی مخالفت کے باوجود ٹیورن کی فیکٹری کونسلیں اٹلی میں انقلابی تبدیلی کا محور بنیں گی (فیلیسے، ١٩٨٢)۔ اس تحریک کا اطالوی فوج کے زور پر بری طرح کچلا جانا اور اس کے ساتھ ساتھ اٹلی میں فاشزم کی ابھرتی فوقیت نے گرامچی کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔

اسی دوران گرامچی اور ان کے “لے اور ڈی نووو” کے ساتھیوں نے سوشلسٹ پارٹی سے الگ ہو کر کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کا بھی بنیاد رکھا۔ اس اقدام کے پیچھے سوشلسٹ پارٹی کی ٹیورن تحریک کے لئے محدود حمایت اور جنوبی اٹلی میں کسانوں اور ہاریوں کی سیاست کے حوالے سے سوشلسٹ پارٹی کا قدامت پسندانہ رویہ تھا۔ لے اور ڈی نووو کے بانی سوشلسٹ پارٹی کے دنوں میں بھی کومنٹرن میں لینن اور اس کی سوچ کے قریب سمجھے جاتے تھی اور ١٩٢٢ میں کمیونسٹ پارٹی کے قیام کے کچھ مہینے بعد گرامچی کو پارٹی نمائندے کے طور پر ماسکو بھیج دیا گیا حالانکہ گرامچی نے پچھلے سالوں میں فاشزم کے خلاف لڑائی میں سوشلسٹ پارٹی سے اتحاد کے تصور کو رد کیا تھا۔١٩٢١ میں کومنٹرن کی تیسری میٹنگ کے دوران جب لینن نے نیو اکنامک پالیسی اور متحدہ فرنٹ کی پالیسی کے حق میں دلائل دئے تو گرامچی بھی ان سے متاثر ہوئے۔

١٩٢٤ میں گرامچی واپس اٹلی پہنچے اور کمیونسٹ پارٹی کی ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ اسی دوران وہ اطالوی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر بھی منتخب ہوئے اور انہوں نے مسولینی کی فاشسٹ حکومت کے خلاف بائیں بازو کی تمام جماعتوں کا ایک متحدہ فرنٹ بنانے کی اپنی کاوشیں تیز کیں۔ سارڈنیا کے پسماندہ اور دیہی علاقے سے تعلق رکھنے کی بنا پر گرامچی کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کے کسانوں اور ہاریوں کے استحصال، یہاں پر ابھرنے والی “خود رو” تحریکوں اور ادھر کے سماجی ڈھانچے پر اطالوی کمیونسٹوں نے کبھی سنجیدہ طریقے سے غور و فکر نہیں کیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ادھر کیتھولک چرچ کا غلبہ اور ادھرکے مزدوروں اور کسانوں کی “غیر سائنسی” سوچ تھی جس کی وجہ سے شمالی اٹلی کی اکثر پارٹیاں (بشمول کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹی) ان کو منظم کرنے اور قومی دھارے میں لانے کی کوشش نہیں کرتی تھیں۔ گرامچی کے مطابق عین اسی وجہ سے یہاں کے محنت کش طبقات اطالوی بیوروکریسی اور فوج کے گروی تھے یہاں تک کے جنوب ہی کے کسانوں اور ریاست سے جڑی پیٹی بورژوا نہ صرف ٹیورن مزدور تحریک کے خلاف حکمران طبقات کے ہتھکنڈے بنے، بلکے مسولینی کی سماجی قوت بھی ان ہی طبقاتی گروہوں میں تھی۔ جیسے کے لینن نے نیو اکنامک پالیسی کے تحت روسی پرولتاریہ اور کسانوں کے درمیان ایک دور رس مادی اور ثقافتی یکجہتی کی بنیاد رکھی جس سے سوویت انقلاب اور اس میں پرولتاریہ کی اجارہ داری اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوئی، یوں گرامچی نے اس یقین کا اظہار کرنا شروع کیا کے اٹلی میں شمالی صنعتی پرولتاریہ اور جنوب میں دیہی کسانوں اور مزدوروں کے درمیان مضبوط اتحاد کے بغیر اٹلی میں انقلاب کی جڑیں سماجی اور علاقائی طور پر محض سطحی ہی رہیں گی (گرامچی، ١٩٢٦)۔ ان خیالات کا اظہار گرامچی اپنے پمفلٹ “جنوبی سوال کے چندپہلو” میں کر ہی رہے تھے کے ١٩٢٦ میں پارلیمنٹ کے ممبر ہونے کے تحت استثنِیِ کے باوجود ان کو فاشسٹ حکومت نے گرفتار کر کے بیس سال قید کی سزا سنا دی۔ جاتے جاتے عدالتی مستغیث نے یہ تک کہا کہ “ہم نے اس شخص کو سزا تو سنا دی ہے، لیکن ہمیں اس ذہن اور اس کی ذہانت کو بیس سال تک کام کرنے سے روکنا ہو گا”۔ واقعتا ہوا یہ کہ فیکٹری کونسل تحریک، کومنٹرن کی بحثوں میں گرامچی کی شرکت، فاشزم کے خلاف ان کی سیاسی سرگرمی اور “جنوبی سوال کے چند نکات” کی تحریر، گرامچی کے انقلاب روس سے اسباق اخذ کرنے کا پہلا مرحلہ تھا۔ دوسرا اور مارکسی فکر کے حوالے سے کہیں زیادہ دلچسپ مرحلہ عقوبت خانے کی قید میں شروع ہونے والا تھا۔

” سالم ریاست”: انقلاب روس اور ریاست کی “سچائی”

جیل میں سب سے پہلے گرامچی نے یورپی اور اطالوی تاریخ کا ایک تفصیلی جائزہ لینے کے پراجکٹ کا آغاز کیا۔ اس کے تحت گرامچی کا ارادہ یہ ہی تھا کہ اطالوی سیاسی ارتقا میں ان کمزوریوں کا احاطہ کیا جائے جن کے پریشر میں ادھر بیسویں صدی میں ایک توانا پرولیتاری تحریک ہونے کے باوجود فاشزم برسر اقتدار آئی۔ اس مطالعے کے تحت گرامچی اس نتیجے پر پہنچے کے پچھلی ڈیڑھ صدی کے دو واقعات ١٧٨٩ میں انقلاب فرانس اور ١٩١٧ میں انقلاب روس اس خطے بلکے پوری دنیا کی تاریخ میں عصریاتی حیثیت رکھتے ہیں (گرامچی، ١٩٧١ :١١٩-١٢٠)۔ ١٧٨٩ کے فرانسیسی انقلاب کے بعد یورپ میں عظیم عوامی تحریکوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت پورے یورپ میں جمہوری فتوحات کی ایک لہر دوڑی۔ اس لہر کے رد عمل میں دیگر ممالک کے حکمران طبقات خاص طور پر جاگیردار، شاہی اشرافیہ اور ابھرتے ہوئے سرمایادار طبقات میں ایک مضطرب اتحاد طے پایا۔ اور اس اتحاد کے ذریعے نچلے طبقات کے بڑھتے سیاسی و معاشی مطالبات کو روکا یا کسی نہ کسی طرح تبدیل ہوتے ہوئے حکمران اتحادوں میں جذب کیا گیا۔ کہیں اس عمل کو ظلم و بربریت اور بندوق کی نوک پر آگے بڑھایا گیا، جس کی سب سے اہم مثال ہمیں ١٨٧١ کے پیرس کمیون اور اس میں فرانس اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے خون میں ڈبویے جانے میں ملتی ہے۔ دوسری طرف کئی جگہوں پر نچلے طبقات اور ان کے نمائندوں کو حکمران بلاک میں اس طرح جذب کیا گیا کہ محنت کش طبقات کو ایک ماتحت پوزیشن میں رکھتے ہوئے، حکمران طبقات ایک محدود قسم کی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ ریاست کی طرف بڑھے۔

یوں گرامچی کے مطابق ١٧٨٩ سے یورپی سیاست میں جو ایک انقلابی لہر دوڑی تھی جس کا عمومی رجحان بڑی عوامی تحریکوں اور بالادست طبقات کی ریاست پر براہ راست اٹیک کی طرف تھا، سیاست اور ریاست کی اس جہت میں ١٨٤٨ اور خاص طور پر ١٨٧١ کے بعد ایک فیصلہ کن تبدیلی آئی۔ یہاں تک کے ١٧٨٩ سے شروع ہوئی انقلابی لہر کی آخری کڑی ١٩١٧ میں انقلاب روس ہی تھا۔ یوں بعد از ١٨٧١ اور خاص طور پر ١٩١٧ کے بعد پورے یورپ اور وسیع تر مغربی دنیا میں “غیر متحرک انقلاب” یا “انقلاب بحالی” کا وہ جدلیاتی عمل شروع ہوا جس کے تحت بالادست طبقات کے حق میں ریاست نے خود ایک نیم بوناپارٹسٹ یا آزادانہ رول اختیار کیا۔ یوں ریاستی طبقات نے اپنی بالادست پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لئےنچلے طبقات کو جبر اور رضامندی کے ایسے جدلیاتی عمل کے ذریعے ساتھ جوڑا جس میں جبر کا پہلو حاوی تھا اور ذیلی طبقات کے دانشوروں اور تنظیموں (جیسے کے ٹریڈ یونینوں) کو بدلتے حکمران بلاک میں جذب کیا گیا۔ اس کی ایک مثال گرامچی ۔ اور لینن ۔ ذیلی اور متوسط طبقات کے ان دانشوروں اور اداروں کے حوالے سے دیتے ہیں جن کو نو آبادیاتی قبضے اور سرمایہ دارانہ استعمار کے تحت پیدا ہونے والے منافع کے ذریعے حکمران بلاک میں جذب کیا گیا۔اٹلی میں مخصوص جہت کی ریاستی ارتقا اور فاشزم کی بالادستی کو بھی گرامچی نے ایسے ہی “غیر متحرک انقلاب” کے تناظر میں دیکھا (گرامچی،١٩٧١ :١٢٠)۔ یوں بعد از ١٨٧١سرما یہ دارانہ نظام کے استعماری دور میں “غیر متحرک انقلاب ایک مخصوص تاریخی دور میں جدیدیت کی عمومی شکل بن کر ابھرا… ایک المناک روداد جس میں انسانیت کی اکثریت کو محض تماشائی بنا دیا گیا” (تھامس، ٢٠٠٦ :٧٣)۔

گرامچی کے مطابق اسی غیر متحرک انقلاب کے دور میں بورژوا سر مایہ دارانہ ریاست اپنی مکمل وسیع تر پیچیدگی میں سامنے ابھرتی ہے (تھامس، ٢٠٠٩ :١٤٨-٩. )۔قبل از ١٩١٧ /١٨٧١ کے دور میں سیاسی ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان رشتہ کم آشکار تھا، اور یوں حکمران طبقات کے تختے کو بھرپور عوامی تحریکوں اور براہ راست حملے کی حکمت عملی کے تحت الٹا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کے سیاسی /پولیٹکل سوسائٹی یا ریاست سے مراد وہ ادارے ہیں جیسے کے فوج پارلیمنٹ عدلیہ وغیرہ جو عام طور پر “ریاست” کا جز سمجھے جاتے ہیں ، جبکہ سول سوسائٹی سے مراد وہ “نجی” ادارے ہیں جو بظاہر ریاست سے الگ ہوتے ہیں اور جن میں الحاق ” رضاکارانہ “طور پر ہوتا ہے جیسے کے چرچ، ٹریڈ یونین، میڈیا وغیرہ۔ لیکن “غیر متحرک انقلاب” کے دور میں، مختلف وجوہات کی بنا پر (جیسے کے پیداواری قوتوں کی ترقی اور استعماری منافع) سیاسی سوسائٹی/ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان رشتہ اور ان کی آپس میں جڑت مزید پیچیدگی اختیار کر گئی تھی۔ اسی پیچیدگی کی بنا پر گرامچی نے بورژوا اجارہ داری کے اس دور میں سول سوسائٹی کو ریاست میں بالادست طبقات کی حکمرانی کے گرد “جنگی خندقوں” کا سا کردار ادا کرتے دیکھا (گرامچی، ١٩٧١ :٢٤٣)۔

یوں انقلاب فرانس اور خاص طور پر روس میں پرولتاری انقلاب کے بعد سرمایا دارانہ ریاست ایک وسیع تر” سالم ریاست” کے طور پر ابھرتی نظر آتی ہے جس میں سیاسی سوسائٹی اور سول سوسائٹی کے درمیان رشتے کو ایک جدلیاتی جڑت کے طور پر دیکھنا ہو گا اور جس میں “مماثلت بمع تفریق” نظر آتی ہے۔ حالانکہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ حکمران طبقات کی اجارہ داری اور ریاست کا مرکزی حصہ یعنی کے اس کا کور اس کے جبر ی اداروں میں ہی ہے لیکن بورژوا اجارہ داری کو سمجھنے کے لئے ہمیں ریاستی اداروں کے سول سوسائٹی سے جدلیاتی-عضویاتی رشتہ پر غور کرنا ہو گا۔ گرامچی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے سول سوسائٹی کے تمام ادارے سو فیصد ریاست یا بالادست طبقات کی اجارہ داری میں زم ہو جاتے ہیں، بلکے یہ کے جدید دور میں بورژوا حکمرانی، اس کی پاۓ داری اور اس کی ممکنہ کمزوریوں کا احاطہ سول سوسائٹی اور پولیٹکل سوسائٹی (جس میں محدود طور پر تشریح دی گئی “ریاست” اور سیاسی پارٹیاں شامل ہیں) کے درمیان جدلیاتی، متحرک اور نا ہموار رشتے کو سمجھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور دوسری طرف یہ بھی کے سول سوسائٹی میں تسلط اور برتری کا انحصار حتمی طور پر پولیٹیکل سوسائٹی میں اختیار پر ہے۔ بہت حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کے گرامچی ریاست کے اس وسیع تر تصور کی طرف واپس جاتے ہوئے اس کا جدید دور میں ترجمے کرتے ہیں جس کی طرف کارل مارکس نے “لوئی بوناپارٹ کی اٹھارویں برومیئر” اور “فرانس میں خانہ جنگی” جیسی تحاریر میں اشارہ کیا تھا۔ پولیٹکل سوسائٹی اور سول سوسائٹی، رضاکارانہ حمایت اور جبر، اور سالم ریاست کو گرامچی ایک متضاد یکجہتی کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں “مسلسل طور پر غیر مستحکم توازن قائم اور تبدیل کئے جاتے ہیں” (گرامچی، ١٩٧١ :١٨٢)۔ یوں سالم ریاست کو گرامچی “ریاست + سول سوسائٹی، اجارہ داری+ آمریت” کا ایک جدلیاتی مجموعہ قرار دیتے ہیں، یعنی کہ “اجارہ داری جس پر جبر کی حفاظتی زرہ بکتر چڑھا دی گئی ہو” (گرامچی، ١٩٧١ :٢٦٣)۔

سالم ریاست کی اس ابھرتی فوقیت اور پختگی ہی کی بنیاد پر گرامچی نے لینن سے اتفاق کرتے ہوئے انقلابی سیاست کی شکل اور حکمت عملی میں تبدیلیوں پر زور دیا۔ یوں “١٩١٧ سیاست کے فن اور سائنس کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے” (گرامچی، ١٩٧١ :٢٣٥ )جس کی روشنی میں انقلابی تحریک اور پرولتاری حکمت عملی کو اب ریاست اور بالادست طبقات پر براہ راست حملے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکے اس کا احاطہ مخصوص جائے وقوع اور اس کی صورت حال، پولیٹکل سوسائٹی۔سول سوسائٹی کےمخصوص جدل کی روشنی میں ہو سکتا ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہ براہ راست حملہ اس وقت میں سب سے مستفید لائحہ عمل نہ ہو۔ یوں انقلابی حکمت عملی براہ راست حملے سے پوزیشنل جنگ کی طرف بڑھتی ہے، جس کے ذریعے نچلے اور محنت کش طبقات کے زیادہ سے زیادہ حصے کو انقلابی دھارے کے اندر لیا جا سکے۔خیال رہے کہ ترمیم پسند تشریحات کے برعکس گرامچی یہ ہرگز نہیں کہہ رہے ریاست پر براہ راست حملے کے بوجھ کو کسی غیر مقفل مستقبل کے کاندھوں پر لادھ دیا جائے۔ محض یہ کے سالم ریاست کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف سیاسی طاقت ہاتھ میں لینے سے پرولتاری اجارہ داری کمزور اور اس کو دشمن طبقات کی سازشوں کا خطرہ لاحق رہے گا اجارہ دا ری (ہیجیمونی) کا سیاسی عمل الگ اوقات اور جگہوں پر مختلف اشکال اختیار کرے گا اور اس کو غیر متحرک انقلاب کے دور میں سالم ریاست کی جہت کو مد نظر رکھنا ہو گا۔ یوں ١٩٢١ کے بعد سوویت یونین میں لینن کا نیو اکنامک پالیسی کا فروغ اور گرامچی کا فاشزم مخالف متحدہ فرنٹ بنانے کی کاوشیں اسی سالم ریاست کی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے سیاسی حکمت عملی تشکیل دینے کی کوشش تھی۔ جیل سے پہلے گرامچی نے جس طرح اپنی پرانی سیاسی حکمت عملی کا جائزہ لیا اور کمیونسٹ پارٹی کو اٹلی میں جنوبی سوال کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی، اور جیل میں گرامچی کا روسی انقلاب کی روشنی میں یورپی اور اطالوی تاریخ کا جائزہ، ان تمام کاوشوں کا نتیجہ گرامچی کے لئے ریاست کی اس “سچائی” کا عیاں ہونا تھا جس کو انہوں نے “سالم ریاست” کی اصطالح دی۔ اور ان بدلتی زمینی حقائق اور صورتحال کا مایہ ناز عملی اور نظریاتی پیکر لینن ہی ہے جس کو گرامچی “فلسفہ عملی غور و فکر (یعنی مارکسزم) کا عظیم ترین جدید مفکر” قرار دیتا ہے (گرامچی، ١٩٧١ : ٥٦ فٹ نوٹ)۔ لینن اور گرامچی کا یہ ہی ملاپ اور جدل ہمارے اگلے اور آخری سیکشن کا مرکز ہے۔

تفریق، اجماع اور”اجارہ داری”: گرامچی (اور لینن) کی آخری وصیت

جیسا کہ ہم نے پچھلے سیکشن میں دیکھا کہ گرامچی نے یورپی اور اطالوی تاریخ اور خاص طور پر “سالم ریاست” کے ارتقا پر روشنی ڈالنے کے لئے انقلاب روس کے تجربے کو ایک “تاریخی-سیاسی معیار” اور وسیلے کے طور پر استمعال کیا۔ سالم ریاست کے اسی تصور کے ساتھ گرامچی نے ان بدلتے حالات میں پرولتاری سیاسی حکمت عملی پر بھی نظر ثانی شروع کی۔ یہ گرامچی کے اس پراجکٹ کی کڑی تھی جس کا انتباہ ہمیں ان کی کومنٹرن میں نیو اکنامک پالیسی کے دنوں میں شرکت اور “جنوبی سوال” پر ابھرتے خیالات سے ہوتا ہے۔ ان تجربات کی روشنی میں جیل کے اندر گرامچی نے قبل از انقلاب بالشیوک حلقوں میں زیر بحث “اجارہ داری” کے تصور کو نئی شکل دی۔ ١٩٢١ میں کومنٹرن اجلاس میں لینن کی نیو اکنامک پالیسی کے تحت ایک محدود لیول پر سرمایہ داری کو بحال کرنے پر بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک میں خوب بحث چھڑی تھی (تھامس، ٢٠٠٩ :٢٣٤)۔ گرامچی نے اس عمل کے پیچھے اس مصلحت اور لینن کی حکمت عملی کو بھانپا جس کے تحت پرولتاری انقلاب کا اگال مرحلہ روس کے کسانوں اور ہاریوں میں اپنی جڑوں کو مزید گہرا کرنا تھا۔ لینن کے مطابق یہ عمل اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ روس کے کسان اور ہاری نے ہی استعمار کی مسلط زدہ جنگ کے تحت سب سے زیادہ مصیبتیں برداشت کی تھیں۔

انقلاب کو آگے بڑھنے اور اس میں پرولتاری اجارہ داری اور قیادت کو ٹھوس بنیاد پر قائم کرنے کے لئے پرولتاریہ کو اپنے اتحادی طبقات (جیسے کے کسان طبقات) کی حمایت میں کچھ قربانیاں دینی ہونگی۔ اس طرح جو طبقہ اپنے اتحادی طبقات کی قیادت کرنا چاہتا ہے اس کو اپنے اتحادیوں کے لئے کچھ ایسے مادی اور نظریاتی رعایت کرنی ہو گی۔ ایسی ہی رعایات اور قربانیوں کے ذریعے سربراہی کی خواہش رکھنے والا سماجی گروہ “نچلے طبقات کے مفادات کے ساتھ حقیقی طور پر منظم اور یکجا ہو سکے گا” (گرامچی، ١٩٧١ :١٨٢)۔گرامچی اس حقیقی یکجہتی کے لئے “اجارہ داری” کے علاوہ “معاشی اور سیاسی مقاصد میں یکجہتی” اور “علمی اور اخلاقی یکجہتی” کی اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں۔ یاد رہے کے جیل سے پہلے گرامچی کا پرولیتاری قیادت کا تصور – جو کہ ہمیں “جنوبی سوال کے چند پہلو” میں نظر آتا ہے- نچلے طبقات، ہاریوں اور دانشوروں کے ساتھ محض ایک اتحاد کے تصور میں ملتا ہے۔ حالانکہ “جنوبی سوال” میں گرامچی اس بات پر قائل ہیں کہ پرولتاریہ کو اپنی قیادت منوانے کے لئے دیہی طبقات کے حوالے سے متعصب اور متفرانہ تصورات کو خیر بعد کہنا ہو گا، لیکن “اجارہ داری” کے مندرجہ بالا اضافی اور نئے تصور تک گرامچی جیل میں انقلاب روس کے تجربات اور لینن کے سیاسی و علمی عمل پر غور و فکر کرنے کے بعد ہی پہنچتے ہیں (موف، ١٩٧٩)۔ یوں “اجارہ داری” کی روح وہ عمل ہے جس کے تحت با قیادت گروہ اور طبقات کچھ مخصوص مادی نظریاتی و ثقافتی رعایات کے ذریعے اپنے اتحادی طبقات اور سماج میں موجود “متفرق مقاصد رکھنے والی کثرتی ارادیتوں کو ایک مقصد کے گرد جوڑتا ہے” (گرامچی، ١٩٧١ : ٣٤٩)۔

گرامچی کے مطابق لینن کے ” اجارہ داری” کے تصور کی علمی اور عملی طور پر وضاحت ہی اس کو مارکسی نظریےکا “عظیم ترین جدید مفکر” بناتا ہے۔ آج کے دور کے مایہ ناز مارکسی دانشور جیسے کے لوئی التھزر اور الائین باڈیو کے برعکس، گرامچی لینن کو محض “مخصوص جائے وقوع کی ساخت اور توسیع”کا مفکر نہیں سمجھتا۔ بلکے بعد از انقلاب سوویت یونین کی سالم ریاست کی وسعت میں “اجارہ داری” کا سیاسی تصور و عمل اور اس میں پرولتاری حکمت عملی کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہی لینن کا مارکسی فکر میں فیصلہ کن اضافہ تھا۔ سرمایہ دارانہ دور کے پس منظر میں “اجارہ داری” کا قائم ہونا وہ مخصوص سیاسی عمل ہے جو پولیٹکل سوسائٹی اور سول سوسائٹی کے درمیان حدود کو پار کرتے ہوئے سالم ریاست کی جدلیاتی اور متحرک یکجہتی کو ٹھوس بنائے “ (تھامس، ٢٠٠٩ :١٩٤-٥)۔ لینن نے بھی نیو اکنمک پالیسی اور پوزیشنل جنگ کے ذریعے “پرولتاری آمریت” کو “اجارہ داری” کی وہ شکل دینے کی کوشش کی جس کے تحت پرولتاری قیادت کو اتحادی طبقات کے ساتھ معاشی، ثقافتی اور اخالقی طور پر جوڑا جا سکے۔ پوزیشنل جنگ اور اجارہ داری کی سیاست لینن کی طرف سے محنت کش طبقات کی ایک عمومی اکثریت کو ساتھ ملانے اور ان کے ساتھ ایک “ثقافتی- اخلاقی یکجہتی” قائم کرنے کی کوشش تھی جس کا مقصود ایک بلکل منفرد قسم کی سالم ریاست کا قیام تھا: یعنی کے “پرولتاری سالم ریاست” ایک ایسی”اجارہ داری” جو پرولتاری آمریت کا تکمیلی جز ہو (تھامس، ٢٠٠٩ :٢٣١-٢ ،٢٣٧)۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ “اجارہ داری” کا عمل اور اس سے جڑی متحدہ فرنٹ کی سیاسی سٹریٹجی “غیر متحرک انقلاب” کے دور میں پرولتاری سیاسی عمل کو ایک عمومی شکل دینے کی کوشش تھی۔ اور یہ ہی وجہ ہے کے لینن کی طرف سے “اجارہ داری” کے تصور کی توسیع اور اس کو عملی جامہ پہنانا گرامچی کے لئے مارکسی فکر میں “نہ صرف عملی-سیاسی طور پر بلکہ یہ ایک عظیم فلسفیانہ پیش قدمی بھی تھی” (گرامچی، ١٩٧١ :٣٣٣)۔

جدھر آج کے رجعتی دور کے بارے میں سوچنے اور اس کو تبدیل کرنے کے لئے ہمیں گرامچی (اور لینن) کے تصورات انتہائی با اثر نظر آتے ہیں، اس بات کو مد نظر رکھنا ہو گا اجارہ داری کی مادی، ثقافتی اور نظریاتی یکجہتی سے مراد یہ ہرگز نہیں کے انقلابی تحریکیں مختلف موضوعی حالات و تجربات کو (مثال جو جنس،لسانیت اور مذہبی تفریق کے گرد ترتیب گئے ہوں) ختم یا نظر انداز کریں۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو یہ عیاں ہے کے “اجارہ داری” اصل میں ہے ہی وہ سیاسی عمل جو مختلف موضوعی تجربات اور “کثرتی ارادیتوں کو ایک مقصد کے گرد” (گرامچی، ١٩٧١ :٣٤٩ )اس طرح جوڑے کے وہ ایک جدلیاتی اور متحرک اتحاد بنے، یعنی کے “مماثلت بمع تفریق”۔ اجارہ داری وہ سیاسی عمل ہے جو کے پولیٹکل اور سول سوسائٹی کی “حدود” پار کرنے اور ان کے درمیان ایک متحرک یکجہتی قائم کرنے کے دوران “متنوع باہمی موضوعی شعور اور نظریات کو ایک نئی شکل دیتا ہے” (مورٹن، ٢٠٠٧ :٩٣)۔ گرامچی کے لئے بھی اجارہ داری کے تصور کی بنیاد اٹلی میں جنوبی اور شمالی محنت کشوں کے متنوع معروضی اور موضوعی حالات و تجربات ہی تھے۔ جبکہ لینن کے لئے بھی اجارہ داری کا عمل مختلف موضوعی تجربات و توقعات (جیسے کے خانہ جنگی کے بعد پرولتاریہ اور ہاری کسان طبقات) کے درمیان ثالثی کرنے اور ان کو جوڑنے کی سیاسی حکمت عملی تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گرامچی کے لئے اجارہ داری کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو “ایک نئی نظریاتی زمین قائم کرے، اور جو شعور اور نظریہء علم کی کلی طور پر اصلاح کرے” (گرامچی، ١٩٧١ :٢٦٥- ٦)۔

عمومی سماجی حالات اور خاص طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے اندر نا ہمواری کا اثر غالب رہتا ہے۔ اس ناہمواری کے محور اکثر وہ علاقائی اور سماجی رشتے ہوتے ہیں جو پھر کسی بھی ملک یا خطے اور اس میں تشکیل پانے والی سیاسی تحریکوں کے لئے چیلنج کے طور پر ابھرتے ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال ہم کسی بھی خطے اور خاص طور پر پاکستان میں جنسی جبر (پدر شاہی) اور لسانی و مذہبی تفریق کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شعوری ناہمواری کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے جس کے تحت انسانوں کے شعور اور ان کے نظریات میں متضاد عناصر کی نشاندھی کی جا سکتی ہے۔ گرامچی اس کو “دو نظریاتی شعور یا ایک متضاد شعور” کے طور پر مخاطب کرتے ہیں (گرامچی، ١٩٧١ :٣٣٣)۔ شعور کے ان متضاد عناصر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جدھر اپنے کچھ روز مرہ کے عوامل میں انسانوں میں ایک دوسرے سے یکجہتی کا امکان ہوتا ہے (جیسے کے مشترکہ مزدوری کے عمل میں) اسی طرح سماجی عمل و شعور کے کچھ عناصر انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ اور کبھی متنفر بھی کرتے ہیں۔ یوں مارکسی فکر اور خاص طور پر “اجارہ داری” کے عمل کا ایک کلیدی حصہ اس تنقیدی شعور کو پروان دینا ہے جو محنت کش عوام کے متضاد شعور و عمل میں نصب ہو کر اس کی اندرونی اصلاح کرے۔ اس طرح “اجارہ داری” وہ سیاسی، معاشی، ثقافتی و نظریاتی عمل ہے جس کے تحت مختلف سماجی رشتے )جیسے کے جنس، لسانیت اور مذھب کے ارد گرد ترتیب( اور متنوع عملی شعور “اجماعی جدوجہد اور تنظیم کے عمل میں ایک باہمی تبدیلی سے گزریں” اور “ملاپ کی مخصوص صفت میں ساتھ ملیں” (کپفر اور ہارٹ، ٢٠١٣ :٣٣٨)۔

کیوں کہ انقلاب روس کے دوران اور پھر سوویت یونین میں اجارہ داری کے نظریے کی نہ صرف نظریاتی طور پر توسیع کی گئی بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہنایا گیا، اسی لئے انقلاب روس اور خاص طور پر لینن نے مارکسی فکر کو ایک نئے عملی و علمی پیمانے سے آراستہ کیا۔ یوں گرامچی کے لئے لینن کا “اجارہ داری” کا تصور نہ صرف ایک سیاسی حکمت عملی تھا بلکے یہ مارکسی فکر میں “ایک عظیم ‘باطنی’ واقعہ” تھا جس کی اہمیت ایک نظریہ علم کی سی تھی (گرامچی، ١٩٧١ : ٣٥٧ ،٣٣٣)۔ اس کے ساتھ عام فہم، فلسفے، شعور اور اس کے عناصر کی اصلاح کو “اجارہ داری” کے عمل سے جوڑ کر لینن نے ان پر سیاسی فکر و عمل کی افضلیت کو عیاں کیا۔ نتیجتا گرامچی کہتے ہیں کے “سب کچھ سیاسی ہے، بشمول فلسفہ اور مختلف فلسفیانہ نقطہ نظر ، اور واحد ‘فلسفہ’ عمل میں تاریخ اور اس کی حرکت ہے… یوں ہم ‘سیاست و فلسفے’، عمل و فکر کے درمیان برابری اور ‘ترجمہ’ کے رشتے پر پہنچتے ہیں… یعنی کہ ایک فلسفہ عملی غور و فکر (ما رکسزم)” (گرامچی، ١٩٧١ :٣٥٧)۔

مارکسزم کو “فلسفہ عملی غور و فکر” قرار دینا محض گرامچی کی فاشسٹ جیل کے محتسب سے بچنے کی حکمت عملی نہیں تھی، بلکے مارکس کے “فیور باخ پر تھیسس” میں اس انتباہ کی طرف بھی اشارہ تھا کہ “انسانی سوچ کی سچائی کا سوال محظ ایک نظریاتی سوال نہیں، یہ ایک عملی سوال ہے… وہ سارے اسرار و رموز جو سوچ کو محض تصوف و باطنیت کے دھندلکے میں گم کریں، ان کا حل انسانی عمل اور اس کی سمجھ بوجھ میں ہی ملتا ہے” (مارکس، ١٨٤٥)۔گرامچی اور لینن “اجارہ داری” کے تصور کی نظریاتی و عملی توسیع کے ذریعے مارکس کے اس مشہور مقالے کی تعبیر کرتے نظر آتے ہیں جس میں وہ کہتا ہے کہ “فلسفیوں نے محض دنیا کی تشریح کی ہے، لیکن اصل کام اسے بدلنا ہے”۔ لینن کے سیاسی عمل نے اور اس پر گرامچی کی علمی و فکری توسیع نے مارکسزم کو ایک “فلسفہ عملی غور و فکر” کی روپ میں نئی جان بخشی جس نے “فلسفہ کے تصور کی سر سے لے کر پیر تک مکمل تجدید کی” (گرامچی، ١٩٧١ :٤٦٤)۔ یوں “غیر متحرک انقلاب” اور رجعتی قوتوں کی فوقیت کے دور میں انقلاب روس اور اس سے اخذ کئے گئے سیاسی، نظریاتی اور تاریخی وسائل (جیسے کہ اجارہ داری، سالم ریاست، پویشنل جنگ اور متحدہ فرنٹ کا تصور) ہمیں ایک متبادل جدیدیت اور اس سے جڑی سیاسی اور ثقافتی اشکال کا انتباہ دیتے ہیں۔ آج کی سرمایہ داری اور لینن اور گرامچی جس سرمایہ داری کا سامنا کر رہے تھے، ان میں جدھر واضح فرق ہے تو ادھر ان سے کہیں زیادہ مماثلتیں بھی ہیں۔ اور آج انقلاب روس کے سو سال بعد اور گرامچی کی وفات کے ٨٠ سال بعد ہمیں بھی اسی سوال کا سامنا ہے کے کیا ہم ان کے تجربات اور ان تجربات میں پیدا ہوئے تصورات اپنے حالات کے بارے میں سوچنے کے لئے ایک وسیلے کے طور پر استمعال کر سکتے ہیں۔ معاشی بحران، مسلسل جنگ، سماجی انتشار، ماحولیاتی بحران اور ان سے جڑی ان گنت صعوبتیں سرمایہ دارانہ نظام کی طرف سے ہمیں نوازے گئے تحائف میں سے ہیں۔ کیا ہم آج کے حالات و بحران میں انقلاب روس، لینن، گرامچی اور ان کے عملی تصورات کا “ترجمہ” کر سکتے ہیں۔ جیسے کے مارکس کہتا ہے “لڑائی یا موت۔ خونی جدوجہد یا معدومیت۔ ہر قدم اور ہر موقعے پر ہمارے سامنے یہ سوال ایک نا گزیر اور اٹل حقیقت ہے۔”

حوالہ جات

Felice, Franco De. (1982). “Revolution and Production”. In Approaches to Gramsci, edited by Anne Showstack Sassoon, 188-199. London: Writers and Readers Publishing.  

Fiori, Guiseppe. (1971). Antonio Gramsci: Life of a Revolutionary. Translated by Tom Nairn. New York: Dutton.  

Gramsci, Antonio. (1917, April 29). “Notes on the Russian Revolution.” Il Grido del Popolo.  

Gramsci, Antonio. (1917, December 24). “The Revolution against ‘Capital”. Avanti!   

Gramsci, Antonio. (1926). “Some Aspects of the Southern Question.” In Selections from Political Writings, 1921-1926. Translated and edited by Quintin Hoare. London: Lawrene and Wishart, 1978.  

Gramsci, Antonio. (1971). Selections From the Prison Notebooks of Antonio Gramsci. Translated and edited by Quintin Hoare and Geoffrey Nowell Smith. New York: International Publishers.  

Kipfer, Stefan and Hart, Gillian. (2013). “Translating Gramsci in the Current Conjuncture.” In Gramsci: Space, Nature, Politics, edited by M. Ekers, G. Hart, S. Kipfer and A. Loftus, 323-343. West Sussex, UK: Wiley-Blackwell, 2013.  

Marx, Karl. (1845). Theses on Feuerbach.  

Marx, Karl. (1852). The Eighteenth Brumaire of Louis Bonaparte. Moscow: Progress Publishers, 1937.

Morton, Adam David. (2007). Unravelling Gramsci: Hegemony and Passive revolution in the Global Political Economy (Vol. 139). London: Pluto Press. 

Mouffe, Chantal. (1979). “Hegemony and ideology in Gramsci”. In Gramsci and Marxist Theory, edited C. Mouffe, 168-204. London: Routledge & Kegan Paul.  

Thomas, Peter. (2006). Modernity as “passive revolution”: Gramsci and the Fundamental Concepts of Historical Materialism. Journal of the Canadian Historical Association/Revue de la Société historique du Canada, 17(2): 61-78.  

Thomas, Peter. (2009). The Gramscian Moment: Philosophy, Hegemony and Marxism. Leiden, Netherlands: Brill.