Tag Archives: Land Question

بحریہ ٹاون اور کراچی کے مقامی باشندوں کی زمین سے بے دخلی

Pic: Indigenous Rights Alliance

Click to read in English

کراچی کے مقامی باشندے بالخصوص گوٹھوں میں آباد سندھی اور بلوچ قبائل ملک ریاض کی سرپرستی میں منظم سرمایہ داروں کے ہاتھوں اپنی آبائی زمینوں سے بے دخلی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ان مقامی قبائل کی زمین سے بے دخلی کا عمل در حقیقت برطانوی استعماریت کے دوران شروع ہوتی ہے جہاں اس نے انیسویں صدی میں اشتراکی زمینوں پر جبری طورپر نوآبادیاتی و نجی ملکیت مسلط کر دیا۔ قدیم سندھی اور بلوچ گوٹھوں سے مقامی لوگوں کو جبری طورپر بے دخل کرنے کا تاریخی سلسلہ اب بحریہ ٹاؤ ن کی شکل میں اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جہاں جبری طورپر تمام سماجی سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کو ہٹا کر کراچی کے زراعتی سماج کی مکمل خاتمے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری، رشوت اور خصوصی رعایتوں کے ذریعے جمع کی گئی لوٹ کسوٹ کی دولت کو مزید بڑھانے کیلئے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ کالا دھن اپنی مزید بڑھوتری و اضافے کےلیے لازماً قانونی معیشت میں حصہ داری کی راہیں ڈھونڈ نکالتا ہے۔

کراچی کے مقامی باشندے

زراعت پیشہ سندھی اور بلوچ آبادیاں کراچی کے مقامی باشندے ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں۔ وہ اپنی تاریخ اٹھارویں صدی میں ابھرنے والے قلعہ بند تجارتی شہر سے بہت پہلے کا بتاتے ہیں جو کہ بعد میں ایک اہم نوآبایاتی بندرگاہ اور پاکستان کا پہلا دارالخلافہ بنا۔ شہر کراچی 1729 میں ہندو تاجروں کی قلعہ بند بستی سے ابھرا جو 1839 میں برطانوی قبضے کے بعد اپنے قدرتی بندرگاہ کی وجہ سے نو آبادیاتی تجارت کے مرکز کی شکل اختیار کر گیا جس سے قریبی خطوں سے لوگ کراچی ہجرت کرنے لگے اور شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ نو آبادیاتی حکمرانی میں ایک دہائی کے اندر ہی شہر اپنے دیواروں سے باہر پھیلنا شروع ہو گیا ۔ لیاری ندی اور پرانے شہر کے مضافات میں محنت کشوں کی بستیاں آباد ہونے لگی۔ بڑھتی نوآبادیاتی تجارت کے ساتھ ساتھ مہاجرت میں اضافہ ہوا ۔ برطانوی قبضے کے وقت شہر کی آبادی جو کہ اندازاً 14000 تھی اگلے پانچ دہائیوں میں ایک لاکھ سے بڑھ گئی اور کراچی کو باقائدہ طور پر شہر کا درجہ ملا۔

قلعہ بند بستی کی نو آبادیاتی بندرگاہ میں تبدیل ہونے اور آبادی میں یکسر اضافے سے بہت پہلے سندھی اور بلوچ قبائل ملیر کی زرخیر وادی میں دریا کے ساتھ ساتھ زرعی آبادیوں کی شکل میں اور قدرتی بندر گاہ سے وابستہ مچیروں کی بستیوں کی شکل میں آباد چلی آرہی تھی۔ ان قبائل میں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مکران اور آس پاس کے علاقوں سے لوگ آکر آباد ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطے کے فطری معیشت کا حصہ بن گئے۔ اکثر دانشور اس نقطے پر متفق ہیں کہ اولین قبائلی آبادیاں اور برطانوی یلغار سے قبل کی مہاجرتیں مجموعی طور پر کراچی کی مقامی آبادی تشکیل دیتے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے ھاتھوں بے دخلی کا سامنا کرنے والے بہت سے سندھی اور بلوچ گوٹھ اپنا حسب نامہ انہی قبل از نوآبادیاتی باشندوں سے جوڑتے ہیں جنہیں شہر کے نوآبادیاتی بڑھوتری کے دوران اپنی سرزمین سے بے دخل نہیں کیا جا سکا تھا۔ ان قدیم زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ باشندوں کیلئے زمین وجود کا ایک ناقابل انتقال ذریعہ تھاجس کی بنیاد پر انہیں ہم نو آبادیاتی ترقی کے دوران آباد ہونے والوں کی نسبت مقامی باشندے قرار دے سکتے ہیں۔مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کی نسبت نوآبادیاتی دور میں آباد ہونے والے اکثر گروہ مقامی زرعی معیشت سے منسلک ہونے کے بجائے اکثر بندر گاہ کے توسط سے نو ابادیاتی تجارت سے منسلک ہوتے رہے۔

زمین سے بے دخلی کا نوآبادیاتی تسلسل

بلوچ آبادیاں جو کہ لیاری ندی کے آس پاس 18 ویں صدی کے آخری ادوار میں آباد ہوئے، انہیں سب سے پہلے زمین سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑھا۔ نو آبادیاتی تجارت سے ہونے والے شہری پھیلاؤ میں انہیں زمین کے ساتھ اپنی جڑت سے دستبردار ہونا پڑھا۔ یہ بلوچ گوٹھ جو بعد میں محنت کش طبقہ کے مضافات میں تبدیل ہوگئے شہری پھیلاؤ کا مرکز بن گئے۔برطانوی راج کے خاتمے کے وقت تک لیاری کی مقامی معیشت اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھی جو کہ اگلے ایک دہائی میں غیر معمولی اندرونی مہاجرت کی وجہ سے مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گئی۔ لیاری کے قدیم گوٹھوں کے برعکس شہری پھیلاؤ، اور بعد از نوآبادیات معاشی ساخت کے ملیر کے دیہاتی علاقوں پر اثرات ابتدائی طور پر نسبتاََ کم تھے۔ اگرچہ اولین ایام سے ہی مقامی وڈیروں میں زمین سے علحیدگی کے رجحانات موجود تھے۔ وڈیرے مقامی سماجی ڈھانچے میں بالادست مقام رکھتے اور نو آبادیاتی قوانین کی روح سےگوٹھ کی مشترکہ زمین کے انتقال کا اختیار رکھتے تھے۔ مقامی وڈیروں میں گوٹھ کی زمین سے دستبرداری اور پیسوں کے عوض انتقال کے رجہان کی بنیادی وجہ ان کے طبقاتی حیثیت کی میں تبدیلی تھی جو کہ ایک عام کسان سے جاگیردار میں تبدیل ہو گئے اور بعد از نوآبادیاتی معیشت میں حصہ دار ہو کر چھوٹے سرمایہ دار بن گئے۔ سندھی اور بلوچ زراعتی آبادیوں میں گوٹھ کی سطح پر ” وڈیرہ“ اعلٰی ترین جاگیردارانہ لقب ہے جو کہ سماجی ڈھانچے میں بالادست مقام رکھتا ہے۔ قبل از نوآبادیاتی دور کا وڈیرہ جس کا تعلق کسی قبائلی ڈھانچے سے ہوتا تھا، براہ راست قبائلی سربراہ کی جانب سے بطور نمائندہ متعین کیا جاتا تھا یا پھر دیہاتوں کی طرف سے نامزد شخص کو قبائلی سربراہ سربراہ کے طورپر توثیق کرتا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ابھرنے والے خودمختار بلوچ قبائل جن کا کسی بھی بڑے قبائلی ڈھانچے سے کوئی الحاق نہیں تھا، اپنے آپ کو غیر قبائلی آبادیوں کے طور پر گوٹھوں میں منظم کیا جن کی سربراہی مقامی طور پر نامزد کوئی نمایاں شخصیت کرتا تھا۔

گاؤں کے یہ سربراہ اس وقت غیر رسمی و غیر اعلانیہ وڈیرہ بن گئے جب انگریز استعمار نے مختلف نو آبادیاتی حکم ناموں اور قوانین کے تحت اشتراکی زمینوں پر نجی ملکیت کو مسلط کیا ان قوانیں نے ملکیتی رشتوں کو بدل کر قدیم آبادیوں کو فقط قابل کاشت زمینوں تک محدود کر دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ناقابل کاشت یا بنجر زمینیں الگ ہو کر براہ راست نوآبادیاتی انتظامیہ کے ھاتھوں میں آگئیں۔ برطانوی سامراج نے ایسی زمینوں کو مقامی آبادیوں پر اپنی بالادستی قائم کرنے اور اپنے وفاداروں کے کردار کو مستحکم کرنے کیلئے استعمال کیا۔ غیر آباد و بنجر زمین جنہیں نوآبادیاتی ریونیو بورڈ نے اپنے قبضے میں لیا تھا، ان زمینوں کو وفاداری کے عوض مقامی قبائل اور وڈیروں کو یا پھر باہر سے ہجرت کرنے والے لوگوں کو بطور انعام یا پھر لیز پر عطا کیا گیا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نوآبادیاتی حکم نامے کے ذریعے بڑے پیمانے پر زمین کی نجی ملکیت کےلیے راستہ ہموار کیا گیا۔ وہ لوگ جو مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے زمین لیز پر حاصل کرتے تھے انہیں یک مشت بڑی زمینیں لینے کی اجازت دے دی گئی جس کی بدولت بڑی بڑی جاگیریں وجود میں آگئیں اور اس کے ساتھ ہی جاگیردار طبقہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔

بعد از نو آبادیاتی ریاست کے سرمایہ داروں نے باہر ہجرت کرنے والے غیر مسلم تاجر طبقے کی جگہ لی جنہوں نے اپنے پیچھے ایک تیار مارکیٹ چھوڑا تھا۔سرمایہ داروں کے اس نئے گروہ نے جو کہ کراچی کی سطح پر اکثر باہر سے آنے والے مہاجرین پر مشتمل تھی انہیں نومولود ریاست میں نوآبادیاتی ملکیتی رشتے ورثے میں ملے اور زمین سے بیگانگی کا نو آبادیاتی سلسلہ جاری رہا۔ اشتراکی زمینوں کی نجکاری اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگوں کی ان کے زرائع پیداوار سے بیدخلی کے ذریعے بنیادی طورپر غیر سرمایہ دار معیشت میں سرمایہ داروں کی دولت کی بڑھوتری کے مواقع پیدا کیئے گئے۔ دیہی کراچی کے بلوچ اور سندھی آبادیو کی ان کے گوٹھوں سے بے دخلی کا ایک اور لہر 1960 کی دہائی میں شروع ہوا۔زرعی اصلاحات کے نام پر گوٹھوں کے آس پاس کی زمینیں جاگیرداروں کے نام کر کے ان کی نجکاری کیلئے راہ ہموار کی گئی جبکہ ریوینو بورڈ کے زیر قبضہ زمینیں بڑے صنعت کاروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے شخصیات کو سونپ دی گئیں۔ یہ سلسلہ مختصر وقفوں کے ساتھ سنہ 2000 تک جاری رہا جب نئی بلدیاتی حکومت کے ذریعے زرعی زمین پر ڈاکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جس میں دیہی زمین کے شکل مکمل طور پر تبدیل کرنے کیلئے میدان تیار کیا گیا۔

بحریہ ٹاؤن کراچی، سرمایا دارانہ توسیع پسندی کی ایک نئی شکل

جنرل پرویز مشرف کے آمریت میں سرمایہ داروں کو اپنے سرمایہ کے توسیع کیلئے نئے مواقع ہاتھ آئے۔ پاکستان کا ابھرتا ہوا سرمایہ دار طبقہ جس میں کاروباری اور سیاسی و عسکری بالادست گروہوں کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے وہ جاگیردار بھی شامل ہیں جو قبائلی و جاگیردارانہ خطابات کے علاوہ سرمایہ دارانہ معیشت میں بھی قابل زکر حصہ رکھتے ہیں۔ ریاستی معیشت کے علاوہ سرمایہ دار طبقہ بڑی حد تک غیرقانونی متوازی معیشت پر انحصار کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ گروہ ریاست کے انتظامی اور عدالتی اداروں سے نالاں ہے جو کہ سرمایہ دار طبقے کی خدمت گزاری کے ساتھ ساتھ قانون سے ماورا طریقوں سے اپنے لیئے فوائد سمیٹنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ نتیجتاََ اکثر اوقات ریاستی عہدیدار خود ہی بڑے بڑے سرمایہ داروں کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔ انہوں نے مارکیٹ میں ھیرا پھیری کے ذریعے اپنے انتظامی حیثیت کو دولت کے ارتکاز کا زریعہ بنایا ہوا ہے ۔ یقیناً انہیں اپنے کاروباری مخالفین کے مقابلے میں زیادہ برتری حاصل ہے۔ عمومی طور پر کاروباری طبقے کو دفتری رکاوٹیں دور کرنے کےلیے انہی ریاستی عہدیداروں سے رجوع کرنا پڑھتا ہے ۔

طویل عرصے سے جاری آمرانہ طرز حکمرانی نے ملک میں ایسے حالات پیدا کیئے ہیں جہاں سرمایہ داروں کو اپنے سرمایہ کو پھیلانے کےلیے مکمل استثنٰی حاصل ہے ۔ سرمایہ دار طبقہ متوازی معیشت میں جمع کیئے گئے دولت یا کالے دھن کو بہ آسانی قانونی معیشت میں منتقل کرسکتے ہیں اور اس کالے دھن کے زور پر دولت کے ارتکاز کو اس نہج پر پہنچا سکتے ہیں جو عام طور پر مارکیٹ کے حدود کی وجہ سے ممکن نہیں اور منطقی طور پر معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے ہی حالات مشرف کے آمرانہ دور میں پیدا کیئے گئے جب کراچی کے بلدیاتی حکومت کو سندھی اور بلوچ گوٹھوں میں زمین کے انتقال کے بڑے پیمانے پر اختیارات سونپے گئے۔سرکاری عہدیداروں کی طرف سے نجکاری کے عمل کو اپنے ھاتھ لینے سے جو کہ خود اس عمل میں منافع کما رہے تھے، نے زمین کے نجکاری کو مزید بد تر بنایا جس کی وجہ سے منافع خوری، فرضی ادائیگیاں، اور ملکیت کے جعلی دعوے عام ہوئے جس کی بنیادپر آگے جا کر مقامی لوگوں کے قانونی ملکیت کے دعوؤں کو متنازعہ قرار دیا گیا۔

ریاستی عہدیداروں کے کردار کا منتظم سے مارکیٹ ایجنٹ میں تبدیل ہونے کے عمل نے مارکیٹ کی حد بندیوں کو مزید ڈھیلا کردیا۔ قابل ٹیکس قانونی معیشت اور غیر قانونی معیشت کے درمیان حائل رکاوٹیں کم ہونے سے بحریہ ٹاؤن جیسے سرمایہ دارانہ پراجکٹ ممکن ہوا. بحریہ ٹاؤن کراچی کو شہر کے اندر ایک اور شہر قرار دیا جا رہا ہے جو یکے بعد دیگرے دیہات پر دیہات ہڑپ کرتا جا رہا ہے ۔ سرمایہ کے طاقت کے بل بوتے پر ملک ریاض اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ سرمایہ کے ارتکاز کے سامنے آنے والے ہر رکاوٹ کو عبور کرتا جارہاہے۔ دفتری کاموں میں رکاوٹوں کو اپنے مخصوص انداز میں فائلز کو پہیے لگا کر دور کرتا ہے، قانونی پیچیدگیوں پر حاوی ہونے کےلیے سیاسی بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور اس کےلیے وہ سیاسی و عسکری قوتوں سے کاروباری معاہدے کرکے انہیں ان کی دیہاڑی دیتا ہے اور اپنے عوامی تاثر کو مثبت رکھنے کےلیے وہ سمجھوتوں کے شکار الیکٹرانک میڈیا کا رخ کرتا ہے۔

ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کی شکل میں ریاست کے کردار اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کو ایک مثالی شکل میں یکجا کر دیا ہے جو کہ ملکی سیاسی نظام کی غیر فطری بڑھوتری کے سبب ممکن نہ ہوتا۔ انہی مخصوص حالات میں بحریہ ٹاؤن مسلسل اپنے حدود میں توسیع کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ توسیع پسندی صرف زمین پر قبضے تک محدود نہیں بلکہ اس سے بیک وقت ماحولیاتی نظام، مقامی لوگوں کی نقل و حرکت اور گوٹھوں کی بجلی و پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔نیز ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس سے مقامی لوگوں گے گرد گھیرا تنگ کر کے انہیں نقل مقانی پر مجبور کیا جا سکے تا کہ چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں جمع غیر معمولی سرمایہ کو بحریہ ٹاؤن کی شکل میں کراچی کے تمام دیہی رقبے تک پھیلایا جا سکے۔

زمین اور بقاء کا سوال: نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکس کے خیالات

Click to read in English

اسٹیو ڈارسی

اس مختصر تعرفی تحریر کا مقصد کارل مارکس کے نو آبادیات مخالف خیالات قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے جنہیں ہم چار اہم پہلوں سے دیکھنے کی کوشش کرینگے۔

مارکس کا نو آبادیاتی نظام کی اخلاقی مذمت۔
نوآبادیت کے جڑوں کا سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہونے کا مارکسی تجزیہ۔
مقامی لوگوں کے طرز زندگی اور سماج میں کارل مارکس کی دلچسپی جنہیں مارکس سرمایہ دارانہ نظام کے بعد ایک غیر سرمایہ دارانہ مستقبل کے حوالے سے ہمارے نقطہ نظر پر تنقیدی بصیرت کیلئے اہم سمجھتا تھا۔
اور آخر میں سوشلسٹ حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کی مرکزی اہمیت پر مارکس کا ٹھوس اور مدلل نقطہ نظر۔

اگرچہ مارکس کے نوآبادیات مخالف سیاست پر ایک مفصل جائزے کیلئے ضروری ہے کہ مارکسی تجزیہ کے بہت سے حدود و قیود کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے لیکن یہاں ان حدود و قیود کے بجائے ہماری توجہ ان سیاسی طور پر موثر اور سبق آموز پہلوں پر ہوگی جن پر آج بھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نو آبادیاتی نظام کا اخلاقی زوال

مارکس اپنے شاہکار کتاب ”سرمایہ“ کی پہلی جلد میں بنا کسی لگی لپٹی کے براہِ راست سرمایہ دارانہ نوآبادیاتی نظام پر بات کرتا ہے اور مقامی لوگوں بلخصوص نو آبادیاتی نظام کے زیر دست محکوم اقوام پر اس کے تباہ کن اثرات کا برملا ذکر کرتا ہے۔ مارکس نشاندھی کرتا ہے کہ ”نوآبادیاتی انتظامیہ کی تاریخ غداری، بدعنوانی، قتل عام اور کمینہ پن کے ایک غیر معمولی رشتے کی تاریخ ہے ۔“ اور جس طرع ” نو آبادیاتی نظام قدرِ زائد (یا منافع ) کو انسانیت کا سب سے اہم اور حتمی مقصد گردانتا ہے“ مارکس کھلے لفظوں “شرم اور شعور سے عاری یورپی رائے عامہ” کی مذمت کرتا ہے جس کی بنیاد پر یورپی عوام نو آبادیات میں ہونے والی نسل کشی اور لوٹ مار سے صرف نظر کرتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نوآبادیاتی نظام کے نسل کش رجحانات پر خاص طورپر بات کرتے ہوئے مارکس لکھتا ہے کہ (نو آبادیات میں)”مقامی لوگوں کے ساتھ بد ترین وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا خاص طور پر ایکسپورٹ ٹریڈ کیلئے قائم کیئے گئے پلانٹیشن کالونیوں جیسا کہ ویسٹ انڈیز میں اور امیر گنجان آباد ممالک جیسے میکسیکو اور انڈیا جنہیں مکمل طور پر لوٹ کسوٹ کے حوالے کیا گیا”۔

مارکس مزید لکھتا ہے “حتٰی کہ نام نہاد نوآبادیات میں (جنہیں آج سیٹلر کالونیز کہا جاتا ہے) پروٹسٹنٹ ازم کے نمائندوں، نیو انگلینڈ کے پیوریٹنز ، نے 1703 میں اپنے اسمبلی کے مختلف فیصلوں کے زریعے ہر انڈین شہری کو قیدی بنانے یا اسے قتل کر کے سر کے اوپری حصے کی کھال پیش کرنے پر 40 پاؤنڈ انعام مقرر کیا۔ 1720 میں اس رقم کو بڑھا کر 100 پاؤنڈ کر دیا گیا ۔ اسی طرح 1744 میں سفید فام آبادکاروں کیلئے امریکہ کے شمال مشرقی ساحل پر قائم میساچوسٹس بے کالونی کی جانب سے کسی مخصوص قبیلے کو باغی قرار دیے جانے کے بعد اس قبیلے کے افراد کو قتل یا گرفتار کرنے پر مندرجہ ذیل انعام مقرر کیا گیا۔ 12سال اور اس سے زائد عمر کے مرد کو قتل کرنے پر 100 پاؤنڈ ، کسی مرد کو قیدی بنا کر پیش کرنے پر 105 پاؤنڈ جبکہ کسی عورت یا بچے کو قیدی بنانے یا قتل کرنے پر 50 پاؤنڈ انعام مقرر کیا گیا”۔

مارکس “سرمایہ” میں ایک اور جگہ لکھتا ہے “امریکہ میں سونے اور تانبے کی دریافت، مقامی آبادیوں کو غلام بنانا اور انہیں ان(سونے، چاندی کے) کانوں میں دفن کرکے صفہ ہستی سے مٹانا، ایسٹ انڈیز پر قبضہ اور لوٹ مار اور افریقہ کو سیاہ فام لوگوں کے کاروباری شکارگاہ میں بدلنا سرمایہ دارانہ پیداوار کے “گلابی صبح” کے آغاز کی علامتیں تھی”۔

نوآبادیاتی نظام (اور مقامی اقوام کی غلامی) کو مارکس سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی بد ترین شکل کے طور پر دیکھتا ہے۔ یورپ میں سماجی ترقی در حقیقت نوآبادیوں میں مقامی اقوام کی نسل کشی اور ان کی زمین سے بے دخلی سے منسوب ہے۔ جیسا کہ مارکس کے نظریاتی ساتھی و معاون اینگلز کہتا ہے” کوئی اس بات سے صرف نظر نہیں کر سکتا کہ انگریز شہریوں کی نام نہاد آزادی کی بنیادیں نو آبادیات میں روا رکی گئی ظلم و جبر پر قائم ہیں”۔

نوآبادیاتی نظام کی بنیادیں: زمیں کی لوٹ کسوٹ اور دولت کا ارتکاز

مارکس1850 کی دہائی میں لکھے گئے اپنے کتاب گرنڈریسہ میں زمین کوبنیادی اہمیت دیتا ہے جوکہ مارکس کے مطابق “تمام پیداوار اور وجود کا بنیادی ماخذ ہے۔” نوآبادیاتی نظام کیلئے خاص طور پر زمین مرکزی اہمیت رکھتا ہے جس کے حصول کیلئے نو آبادکار تمام تر دستیاب وسائل بشمول معاہدے اور فوجی قوت استعمال کرکے مقامی لوگوں کو بے دخل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ مارکس لکھتا ہے ” ان تمام حربوں کا مقصد مقامی لوگوں سے ان کی زمین ہتھیانا ہے۔۔۔ اس لیے نوآبادیاتی سوال فقط قومیت کا سوال نہیں بلکہ زمین اور انسانی وجود کا بھی سوال ہے۔ ایسے میں(محکوم اقوام کیلئے) دو ہی صورتیں باقی رہتی ہیں انقلاب یا بربادی۔“ 1870 میں مارکس اسی فکر کو دُہراتے ہوئے کہتا ہے کہ نو آبادیوں میں “زمین کا سوال ہمیشہ سے سماجی سوال کا ایک مخصوص شکل رہا ہے کیونکہ زمین کا سوال (مقامی لوگوں کی) ایک بڑی اکثریت کیلئے ان کے وجود، زندگی اور موت کا سوال ہے۔۔۔ جسے قومی سوال سے الگ نہیں کیا جاسکتا”۔

مارکس نوآبادیات میں آبادکاری کو مقامی لوگوں کے لیےایک سنگین خطرہ گردانتا ہے۔ مارکس کے مطابق جب یورپی سفید فام لوگوں کو آباد کرنے کیلئے سیٹلر کالونی بنائے گئے تو اس کے پیچھے منصوبہ یہ تھا کہ مقامی لوگوں سے ان کی زمین چھین کر ان کا صفایا کیا جاسکے اور ان کی جگہ نوآبادکار لا کر بسائے جا سکیں۔ مارکس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کی نوآبادیاتی شکل اختیار کرنے کے پیچھے کئی اسباب اور محرکات تھے جیسے زمین پر قبضہ جس سے آبادکار ملک کی منڈی کو خام مال سستے ترین داموں مل جاتی ہیں، مقامی آبادی کی بے دخلی اور جبری نقل مکانی تاکہ نو آبادیاتی سرمایہ کو محفوظ بنایا جا سکے، استحصال کے شکار مقامی مزدوروں کی فراہمی جس سے سرمایہ داروں کو اجرتیں کم کرنے اور ملکی سطع پر محنت کشوں کی مادی اور اخلاقی قوت توڑنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح حاکم و محکوم قوم کےمحنت کش طبقے کے درمیان نفرت اور دشمنی کے جزبات پیدا کر کے سرمایہ دار دونوں طرف کے استحصال زدہ طبقہ کی قوت کو کمزور کرنے کو کوشش کرتا ہے۔

مارکس “سرمایہ” میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سرمایہ داری نظام کے زیر دست ” زمین کے وہ حصے جو مقامی لوگوں کی ملکیت میں تھے انہیں ایک زمانے سے باقائدہ منصوبہ بندی سے قبضہ کیا جاتا رہا ہے۔ ” نوآبادیاتی نظام میں زمین کو ”منظم منصوبہ بندی سے ہتھیانے“ کا تصور نوآبادیات مخالف نظریے میں مارکس کی کتاب سرمایہ کا سب سے اہم اضافہ ہے جس پر گلین کھلتارڈ اور روزا لکسمبرگ سمیت بہت سے دوسرے مفکروں نے بار بار زور دیا ہے۔

خطرے سے دوچار متبادل : انسانیت کے مستقبل کیلئے مقامی طرز زندگی کی اہمیت پر مارکس کا موقف

کارل مارکس (اور بعد میں اینگلز ) کا ماننا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاص پہلو انسانیت کی تذلیل اور سفاکیت کے برخلاف مقامی کمیونٹیز کا روایتی سماجی اور قانونی نظام برابری، اجتماعیت اور ہم آہنگی پر مبنی ریاست کے بغیر خود مختاری کی بنیاد پر قائم ہے۔ (اس نقطہ پر مارکس نے مشرقی گریٹ لیکس خطے کے مقامی آبادیوں کے مطالہ میں خاص طور پر زور دیا ہے) مارکس نے مساوات و برابری پر مبنی قبل از نوآبادیات مقامی نظام کو یورپی بائیں بازو کیلئے ایک سبق آموز مثال قرار دیا جوکہ سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بعد پوری انسانیت کیلئے مستقبل کا ایک تصور ہو سکتا ہے۔

مارکس کو جدید دور (انیسویں صدی) کے مقامی آبادیوں کے متعلق جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یورپ کے نسبتاََ ٹوٹ پھوٹ کے شکار سیاسی اور قانونی نظام کے مقابلے میں مقامی معاشروں کی سیاسی و قانونی نظام کا ترقی یافتہ ہونا تھا۔ شمالی امریکہ کے ہوڈونوشونی اقوام میں قبائلی بنیاد پر قائم سیاسی نظام کا تجزیہ کرتے ہوئے مارکس کہتا ہے ”کاؤنسل یا جرگہ ایک ایسا انتظامی ادارہ ہے جسے قبیلہ، خاندان اور قبائلی اتحاد پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ عوامی معاملات قبائلی ادارے کاؤنسل کے سامنے فیصلے کیلئے پیش کیے جاتے ہیں۔“ انفرادی قبائل کی سطح پر کاؤنسل ایک جمہوری اسمبلی کی شکل اختیار کرتا ہے جہاں “ہر بالغ مرد اور عورت کو زیر غور مسئلہ پر اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔۔۔ ہوڈونوشونی قبائلی اتحاد میں شامل ہر قبیلے کے تمام ممبران انفرادی طور پر آزاد انسان ہیں جن پر واحد پابندی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی کا دفاع کرینگے۔ اس طرع مراعات اور حقوق میں سب برابر ہیں”۔

مارکس 1845 میں اپنے کتاب “مقدس خاندان” میں ابتدائی سوشلسٹ چارلس فیورر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے ”عورت کی آزادی در حقیقت عام (سماجی) آزادی کا فطری پیمانہ ہے۔“ 1868 میں مارکس اپنی بات دھراتے ہوئے کہتا ہے کہ ”سماجی ترقی کا معیار عورت کے سماجی حیثیت کو جانچ کر ناپا جاسکتا ہے۔“ اس تناظر میں مارکس نے یورپی عورتوں کے مقابلے میں ہوڈونوشونی قبائل میں عورت کے اعلی رتبے میں خصوصی دلچسپی لی ہے۔ اسی طرح ایک ابتدائی ماہر بشریات کے الفاظ میں مارکس شمالی امریکہ کے سینیکا قبائل میں قبائلی ماؤں کے اہم کردار کا ذکر کرتا ہے ”قبائل کے درمیان اور کہیں بھی عورتیں عظیم قوت تھیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ قبائلی سربراہ کا سامنا کرنے اور اسے بیدخل کرنے جیسا کہ کہا جاتا ہے اس کے سر سے سینگ اتار کر اسے عام جنگجوؤں میں واپس بھیجنے سے کبھی نہیں ھچکچاتے تھے۔ قبائلی سربراہ کی نامزدگی کا اختیار ہمیشہ ان کے پاس ہوتا تھا”۔

مقامی قبائل کے سماجی اداروں سے سیکھنے کی کاوش میں مارکس جس گہرائی تک گیا ہے میں اس کے مقابلے میں یہاں سطع تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ مارکس کی تحریروں میں موجودہ کینیڈا کے متعدد مقامی اقوام کے قبائلی ساخت، سماجی اور مذہبی رسومات اور قانونی و سیاسی اداروں پر تفصیلی نوٹس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، مارکس نے انیشنابے قوم کے تمام قبائل کا ایک ایک کر کے ذکر کیا ہے- (جس میں مختلف قبائل کے درمیان متفرق اور یکساں روایات کا خاص طور پرخیال رکھا گیا ہے۔) مارکس نے ہوڈونوشونی اقوام کے قبائلی اداروں میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والے تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی مشائدات کو بھی قلم بند کیا ہے۔ مارکس کہتا ہے کہ مقامی اقوام خاص طور پر انیشنابے قوم میں قبائلی نظام نو آبادیاتی اثرات کی وجہ سے زوال پزیر ہوا ہے۔ سیپیوں سے سجے بیلٹس کی ہوڈونوشونی سفارتکاری میں کردار کا بھی ذکر مارکس کی تحریروں میں ملتا ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ صرف مارکس کو پڑھ کر مقامی آبادیوں سے متعلق ان تمام تر مدعوں کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان موضوعات میں دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص آج مارکس کی نسبت معلومات تک بہتر رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مارکس نے مقامی آبادیوں کے تجزیے میں جس توجہ اور انہماک سے ثقافتی اور تاریخی باریکیوں کو جانچا ہے وہ سوشلسٹوں کیلئے ایک سبق ہے( جس سے وہ مقامی آبادیوں کے حوالے سے اپنے تجزیوں کو سدھار سکتے ہیں)۔ مقامی اقوام کے روحانی اور قانونی روایات، ان کی تاریخ اور سماجی اداروں کے متعلق عمومیت کا رجحان (جس میں تمام مقامی اقوام کو ایک جیسا قرار دے کر ان کی انفرادی خصوصیات کو انظر انداز کر دیا جاتا ہے) مارکس کیلئے انیسویں صدی میں بھی قابل قبول نہیں تھا جبکہ اس موضوع پر معلومات اکھٹا کرنے میں اسے بے حد دشواریوں کا سامنہ تھا۔ آج ہمارے پاس زہنی کاہلی، عمومی اور نامکمل تجزیے کیلئے کوئی جواز نہیں مگر پھر بھی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایسے چند ہی سوشلسٹ ہونگے جنہوں نے مقامی اقوام کی مخصوص ثقافت اور تاریخ کا اس حد تک تفصیلی جائزہ لیا ہو۔

یہ غورطلب بات ہے کہ مارکس نے ان مقامی اقوام کی طرز زندگی اور سماجی اداروں کو سمجھنے کی اتنی جستجو اس لیے کی کیونکہ ان مقامی معاشروں میں اسے جدید دنیا کا سب سے زیادہ جمہوری اور مساوات پر مبنی سیاسی نظام نظر آتا تھا۔ اینگلز کی طرح مارکس بھی مقامی اقوام کے سیاسی اداروں کے پختگی اور استحکام اور خاص طور پر ہوڈونوشونی اقوام کے “بہترین دستور” سے متاثر تھا جو چار صدیوں سے قبائل میں نافذ العمل تھا۔ اینگلز لکھتا ہے “یورپی سیاسی نظاموں کے برعکس یہاں نہ کوئی پولیس، شرفا، بادشاہ، نائب، جج، جیل ہیں اور نہ ہی کوئی مقدمات ہر چیز اپنے معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے۔ تمام تر جھگڑے اور تنازعات متاثرہ کمیونٹی مل بیٹھ کر حل کرتا ہے۔ فیصلے متعلقہ لوگ کرتے ہیں، اور اکثر معاملات صدیوں پرانے روایات کے مطابق پہلے سے ہی حل ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی غریب اور ضرورت مند نہیں ہو سکتا۔ اشتراکی قبیلہ بوڑھوں، بیماروں اور جنگ میں معذور ہونے والوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں جانتا ہے۔ تمام لوگ برابر اور آزاد ہیں بشمول عورتوں کے۔” جدید دور میں کسی ایسے معاشرے کا وجود جہاں جمہوریت اور برابری کی روح رچی بسی ہو مارکس اور اینگلز کیلئے یورپ کے عدم مساوات، سماجی محرومی، استحصال اور جبر پر مبنی سماج کی ایک واضح مذمت تھی۔ مقامی آبادیوں میں انہیں سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بعد ممکنہ کمیونسٹ مستقبل کی تعمیر کی امید اور اس کی اک جلک نظر آئی۔

مارکس کی سیاسی حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف یکجہتی کی مرکزیت

مارکس کے خلاف جھوٹے الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ سرمایہ داری نظام کے خلاف مزدور طبقے کی جدوجہد پر حد سے زیادہ زور دیتے ہوئے نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کو دوسرے درجے پر رکھتا ہے اور اسے مزدوروں کی جدوجہد کی کامیابی سے مشروط کر تا ہے۔ لیکن جب ہم اس مسئلے پر مارکس کے اصل تحریروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کے برعکس خیالات ملتے ہیں جہاں نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد مزدوروں کی معاشی استحصال کے خلاف روایتی جدوجہد سے زیادہ اہم نظر آتا ہے, نو آبادیاتی نظام کے خلاف بغاوت اولین اہمیت حاصل کر لیتا ہے اور مزدوروں کی سرمایہ داروں کے خلاف جد و جہد دوسرے درجے پر چلاجاتا ہے۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مارکس مزدوروں کے جدوجہد کی اہمیت کم کر رہا ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ کے بطور نو آبادیاتی طاقت کے مسئلے پر مارکس نے نو آبادیات مخالف مزاحمت کو انگلینڈ میں مزدور انقلاب کیلئے ضروری قرار دیا۔ مارکس واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر یورپی بائیں بازو اپنے ممالک کے مزدوروں اور نوآبادیوں کے مقامی مزدور طبقہ کے درمیان اتحاد قائم کرسکے تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ یہاں مارکس کہتا ہے کہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف جد و جہد کو پس منظر میں رکھنے کے بجائے اسے پیش پیش رکھنا چاہیے اور استعماری ممالک کے مزدوروں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیے کہ نوآبادیاتی نظام سے مقامی لوگوں کی آزادی کا مسئلہ تصوراتی عدل یا انسانی ہمدردی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی آزادی کیلئے اولین شرط ہے۔ دوسرے لفظوں میں مارکس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مزدور طبقہ کی معاشی آزادی کی جد و جہد کے ساتھ ہی نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہدکا آغاز کیا جائے جس کے بغیر مزدوروں طبقہ کی کامیابی ممکن نہیں۔ جیسا کہ مارکس 1872 میں شائع ہونے والے ایک لیفلٹ میں لکھتا ہے، نو آبادیاتی نظام کے جبر سے متاثرہ لوگوں کے خلاف “دشمنی کے نسل پرستانہ جزبات مزدور طبقے کی آزادی کی ہر تحریک کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔“ مارکس نے انگلینڈ جیسے نوآبادکار ممالک کے سرمایہ دار مخالف بائیں بازو کی سیاسی حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے مخصوص اصطلاحات جیسے شرط لازم، بنیادی شرط اور اولین مقصد کو بار بار دوہرایا ہے۔

اسی تصور کے آگے لےجاتے ہو ئے اینگلز 1872 میں لکھتا ہے کہ محکوم اقوام کو ہمیشہ عالمی مزدور تحریک میں خودمختار قومی تنظیم بنانے کا حق حاصل ہونا چاہیے ”اگر کوئی نوآبادیاتی قبضہ گیر قوم مقبوضہ اور زیردست قوم سے اپنے مخصوص قومیت اور مقبوضہ حیثیت کو فراموش کرنے اور قومی اختلافات کو ترک کردینے کا مطالبہ کرے تو یہ”بین الاقوامیت “ کے بجائے محکوم قوم کو جبر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی تبلیغ کے مترادف ہوگا جس کا مقصد بین الاقوامیت کی آڑ میں قابض کی بالادستی کو طول دینا اور اسے جواز فرائم کرنا ہے۔ ایسے مطالبات انگریز مزدوروں میں پائے جانے والے اس تصور کو تقویت دیتی ہیں کہ وہ مقامی اقوام کے مقابلے میں اعلٰی لوگ ہیں۔ وہ سیاہ فام لوگوں کے خلاف غلامی کے حامی ریاستوں کے سفید فام اشرافیہ کی طرح خود کو مقامی لوگوں کے مقابلے میں ویسے ہی اشرافیہ سمجھنےلگتے ہیں۔

ہم “مقبوضہ اقوام” کے بجائے “نو آبادیاتی نظام کے زیر تسلط اقوام” کی اصطلاح کو زیادہ ترجیح دینا چائینگے۔ جیسا کہ مارکس سرمایہ جلد اول میں لکھتا ہے ”نوآبادیوں میں سرمایہ دارانہ نظام کو ہر قدم پر مقامی پیداواری قوتوں کی مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے۔“ عمومی طورپر مارکس اور اینگلز نے جو اصطلاحات اپنے دور میں استعمال کیئے وہ پرانے اور متروک ہوچکے ہیں لیکن اہم نقاط پر ان کا موقف آج بھی درست اور کارگر ہے۔ خاص طورپر “بین الاقوامیت” جو ان کا منشور تھا اور ”قومی اختلافات کو رد کرنے کی فرمائش“ جسے انہوں نے بین الاقامیت کی غلط تشریع قرار دیتے ہے مسترد کر دیا تھا آج بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف سوشلسٹ سیاست کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

خلاصہ

اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی رد کرنے کی ضرورت ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے حوالے سے مارکس کے تصورات میں  واضح خامیاں ہیں۔ مارکس کبھی کبھار انیسویں صدی کے ماہرین بشریات کے ڈگر پر چلتے ہوئے مقامی معاشروں کے حوالے سے بنا تنقیدی جائزے کے قدیم سماج، بربریت بمقابلہ تہذیب اور ان جیسے دوسرے اصطلاحات کو دوہراتا ہے۔ یہی وہ چند نسل پرستانہ اور غیر سائنسی نقاط ہیں جو مارکس کیلئے قابل قبول تھے لیکن ہم انہیں رد کرتے ہیں۔ مارکس کا نوآبادیاتی نظام کے خلاف موقف ہم میں سے بہت سوں کو “یورپ کی مرکزیت” کے تصور سے متاثر نظر آتا ہے اگرچہ مارکسی نقطہ نظر پر اس کے اثرات انیسویں صدی کے باقی مغربی دانشوروں کی نسبت اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہیں۔

یہ اور بہت سے دیگر خامیاں واضح کرتی ہیں کہ مارکس کو گزشتہ ایک صدی کے نوآبادیاتی نظام کے خلاف چلنے والی تحریکوں اور تحقیق کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکا جو ہمیں حاصل ہے اور نہ ہی مارکس کو فرانز فینن، جولیس نیریرے اور اینڈریا سیمسن سمیت بہت سے اہم نوآبادیات مخالف مفکرین کا تنقیدی نقطہ نظر دستیاب تھا۔ مارکس کے بعد آنے والے ان مفکرین نے ہمیں نو آبادیاتی نظام اور مقامی لوگوں کی جد و جہد کے ان پہلوں کو سمجھنے پر مجبور کردیا جنہیں مارکس نے نظر انداز کر دیا تھا۔

مارکس کے نوآبادیاتی نظام پر تنقیدی تجربے کو یکسر تسلیم کرنا یا مسترد کرناسنگین غلطی ہوگی بلکہ اس کے برخلاف مارکس نے جو کہا یا جو وہ کہ نہ سکا اس کا تجزیہ کرنا چاہیے اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکسی نظریات کو سنجیدگی کے ساتھ بیک وقت بطور ایک لازمی نقطہ نظر اور محدود تجزیہ پر مبنی ایک ناقص وراثت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکسی نقطہ نظر کو مکمل طورپر رد کر دینا کار آمد نہیں ہوگا کیونکہ مارکس کے تجزیہ میں جو موثر تنقیدی نقطہ نظر موجود ہے خاص طورپر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جد و جہد میں نو آبادیاتی نظام کی مخالفت کی بنیادی اہمیت پر مارکس کا اصرار دائیں بازو کی مخصوص(اور محدود) طرز سیاست سے نکلنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

____________

نوٹ: دی پبلک آٹونومی پروجیکٹ کیلئے اسٹیو ڈارسی کی تحریر کا بلوچستان مارکسسٹ رویو ٹیم کی جانب سے اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔

“A Question of Land and Existence”: An Introduction to Marx’s Anti-colonialism

“Oppressed colonial nations shall rise up against Imperialism under the banner of the Proletarian Revolution.” (Bolshevik poster.)

By Steve D’Arcy

Read in Urdu

In this short introductory article, my aim is quite modest. I want briefly to introduce readers to four key themes in Marx’s anti-colonialism: first, his moral condemnation of colonialism; second, his analysis of its roots in capitalism; third, his attentiveness to the importance of Indigenous modes of life and social practices as sources of critical insight and social innovation that can and should inform how we think about a post-capitalist future; and finally, fourth, his strong views about the centrality of anti-colonial solidarity in socialist strategy, not only in colonized places but more generally. Although a thorough assessment of Marx’s anti-colonial politics would have to devote substantial critical attention to its many limitations, my emphasis here is not on these limitations, but rather on aspects of Marx’s anti-colonialism that remain relevant, illuminating, and worthy of serious consideration today.

I. The Moral Catastrophe of Colonialism

Marx himself in his main work, Capital, Volume One, touches very directly, and without pulling any punches, on colonial capitalism and its disastrous impacts on Indigenous people, and on colonized people more generally. He points out that “the history of colonial administration…’is one of the most extraordinary relations of treachery, bribery, massacre, and meanness’,” and he denounces the way that “the colonial system … proclaimed surplus-value [i.e., profit] making as the sole end and aim of humanity,” in such a manner that “the public opinion of Europe had lost the last remnant of shame and conscience,” in its willingness to tolerate colonial plunder and genocide (Marx, Capital). 

Specifically addressing the genocidal aspect of capitalist colonialism, he notes that “the treatment of the indigenous population was, of course, at its most frightful in plantation-colonies set up exclusively for the export trade, such as the West Indies, and in rich and well-populated countries, such as Mexico and India, that were given over to plunder. But even in the colonies properly so called [that is, what we now call settler colonies]…, in 1703 those sober exponents of Protestantism, the Puritans of New England, by decrees of their assembly set a premium of £40 on every Indian scalp and every captured [Indigenous person]; in 1720, a premium of £100 was set on every scalp; in 1744, after Massachusetts Bay had proclaimed a certain tribe as rebels, the following prices were laid down: for a male scalp of 12 years and upwards, £100 in new currency, for a male prisoner £105, for women and children prisoners £50, for scalps of women and children £50.”

Elsewhere in Capital, he adds: “The discovery of gold and silver in America, the extirpation, enslavement and entombment in mines of the aboriginal population, the beginning of the conquest and looting of the East Indies, the turning of Africa into a warren for the commercial hunting of black-skins, signalised the rosy dawn of the era of capitalist production” (Marx, 1867). (Needless to say, he uses the expression “rosy dawn” in a sarcastic mode here.)

So, colonialism (along with slavery, which overlaps with it) was seen by Marx as the height of capitalism’s crimes against humanity. Even the achievements of social progress in Europe were tainted by their reliance on genocide and dispossession in the colonies, worldwide. As Marx’s main collaborator Friedrich Engels put the point, “one cannot fail to notice that the English citizen’s so-called freedom is based on the oppression of the colonies.”

II. The analysis of colonialism’s roots: land-theft and accumulation

In the Grundrisse, which he wrote in the 1850s, Marx places at the centre of everything what he calls “land, the source of all production and of all existence.” Obviously, land is particularly central to colonialism, which relentlessly pursues dispossession, by any means at its disposal, including but certainly not limited to treaties and military violence. “All these were means for robbing the [colonized] of their land….The [colonial] question is therefore not simply a question of nationality, but a question of land and existence. Ruin or revolution is the watchword” (Marx, 1867). In 1870, he repeated this idea, noting that in colonies “the land question has been up to now the exclusive form of the social question because it is a question of existence, of life and death, for the immense majority…, and because it is at the same time inseparable from the national question” (Marx, 1870).

Settler colonialism indeed poses a grave threat to colonized people, in Marx’s view. Typically, when settler colonies have been established, he noted, “the plan was to exterminate the [colonized]…, to take their land and settle…colonists in their place, etc….The avowed plan…: clearing the [territory] of the natives and stocking it with loyal [settlers]” (Marx 1867).

According to Marx, capitalism’s embrace of colonialism has had multiple motives: (1) acquisition of “land which provides the [colonising nation’s] market with meat and wool [and other products] at the cheapest possible prices”; (2) “reducing the [colonized] population by eviction and forcible emigration, to such a small number that [colonizing] capital (capital invested in land leased for farming) can function there with ‘security’” (Marx, 1870); (3) because it helps to draw super-exploited workers into the “labour market, and thus forces down wages and lowers the material and moral position of the [‘mother-country’] working class” (ibid); and (4) to establish and strategically deploy an “antagonism” between workers of the colonized and colonizing nations, in order to weaken the power of both sets of workers, and workers generally.

The result, as Marx notes in Capital, is that under capitalism “the pieces of land belonging” to colonized people, “from time immemorial, are systematically confiscated.” This notion of systemic confiscation of land is one of the most important contributions of Marx’s Capital to anti-colonial theory (a point repeatedly emphasized by Coulthard, by Luxemburg, and others).

III. The endangered alternatives: Marx on the importance of Indigenous forms of life to humanity’s future

In contrast to the atrocities and contempt for humanity characteristic of capitalism, Marx (and later, Engels) noted the egalitarianism, collectivism, and consensus-oriented forms of stateless self-governance frequently found in the traditional social and legal systems of Indigenous communities (a point Marx underlined especially, but by no means exclusively, in his studies of Indigenous societies in the Eastern Great Lakes region). Marx regarded these pre-colonial forms of Indigenous egalitarianism as models for the European left, and as prefigurations of a possible post-capitalist future for humanity as a whole.

Indeed, one of the things that interested Marx most about modern (19th-century) Indignenous societies was how advanced their political and legal systems were, compared to the relatively deficient ones in Europe. His understanding of how the clan-based political systems in the Haudenosaunee nations worked is expressed by him as follows: “The Council [is] an instrument of government and supreme authority over the clan, tribe, [and] confederacy…. [Matters] of general interest [are] submitted to the determination of the council [which] sprang from the clan organization — the Council of Chiefs.” At the level of clans, according to his understanding of the Haudenosaunee practice in the 19th century, a council took the form of “a democratic assembly, where every adult male and female member had a voice upon all questions brought before it…. All the members of a [Haudenosaunee-confederacy] clan [are] personally free, bound to defend each other’s freedom; equal in privileges and personal rights.” (These passages are from Marx’s Ethnological Notebooks.)

In 1845, Marx notes in The Holy Family (quoting early socialist Charles Fourier) that “​the​ ​degree​ ​of​ ​emancipation​ ​of woman​ ​is​ ​the​ ​natural​ ​measure​ ​of​ ​general​ ​emancipation.” In 1868, Marx repeated that “​Social​ ​progress​ ​can be​ ​measured​ ​exactly​ ​by​ ​the​ ​social​ ​position of [women].” In this connection, he took special interest in the superiority of women’s status in the Haudenosaunee nations, compared to that of women in Europe. Quoting an early anthropologist, he noted (in his Ethnological Notebooks) the importance of Clan Mothers among the Seneca: “The women were the great power among the clans, as everywhere else. They did not hesitate, when occasion required it, to ‘knock off the horns’, as it was technically called, from the head of a chief, and send him back to the ranks of the warriors. The original nomination of the chiefs also always rested with them.” 

In his effort to learn from Indigenous forms of social organization Marx goes into considerably more detail, and I can’t even scratch the surface here. He has, for example, detailed notes on the clan structure, social and spiritual practices, and legal and political institutions of countless Indigenous nations in present-day ‘Canada.’ For instance, he notes all the doodemag (clans) of the Anishinaabeg (attentive to both differences and overlap among Ojibwe, Odaawaa, and Potawatomi clan traditions). He notes the clans, too, for each of the Haudenosaunee nations, and documents his understanding of changes over time in the clan organization. He notes, too, that the clan system had been undermined — particularly, he thought, among the Anishinaabeg — by colonialism (“American and missionary influence”). He also notes the role that wampum belts play in Haudenosaunee-confederacy diplomacy. (All of these discussions are found in his Ethnological Notebooks, mostly around pages 145-184.)

Far from working with a generic and decontextualized notion of ‘Indigenous people’ generally, Marx made careful notes on dozens of specific Indigenous nations (and confederacies). Among those that he wrote about, in varying levels of detail, were the Mi’kmaq, the six nations of the Haudenosaunee confederacy (Marx writes “Hodenosaunian,” and sometimes uses this term to include other nations from the same linguistic group, like the Wendat, Attawandaron, and others), the Anishinaabeg (specifically, Ojibwe, Potawatomi, and Odawa, which Marx calls the “Gichigamian tribes,” a term he borrows from the Anishinaabemowin name for Lake Superior, the etymology of which he notes), Cree, Lenaape, Dene (“Athapaskans”), Salish, Sahaptin, Ktunaxa, Tlingit (although Marx uses the name Russians used for Tlingit, viz. Kolush), and many, many other Indigenous nations and linguistic groups.

It should go without saying that none of these matters are best studied by reading Marx. Any interested person has far better access today to information about these matters than Marx could ever have accessed. What socialists can learn from him, however, is the importance and value of curiosity and attention to the details of cultural and historical specificity. Overgeneralization about Indigenous societies, their spiritual lives, their legal traditions, their histories and forms of social organisation, were unacceptable to Marx in the 1800s, in spite of the difficulty (in his position) of finding out more. Today, we have far less justification for indulging in lazy and ill-informed generalizations than he had. But how many socialists in the Canadian state have made as detailed a study of the cultural and historical specificity of dozens of Indigenous nations in this region? Too few, it is fair to say.

It is also important to note that, if Marx was keenly interested in trying to understand the ways of life and social organization of Indigenous peoples, particularly the Haudenosaunee nations of the Eastern Great Lakes region, it was because he saw them as representing, in many respects, the most democratic and egalitarian political orders found in the modern world. Marx shared the conviction expressed by Engels, when he marvelled at the “wonderful constitution” under which members of the Haudenosaunee Confederacy “lived for over four hundred years and are still living today.” Unlike European political orders, it had “no gendarmes or police, no nobles, kings, regents, prefects, or judges, no prisons, no lawsuits — and everything takes its orderly course. All quarrels and disputes are settled by the whole of the community affected….The decisions are taken by those concerned, and in most cases everything has been already settled by the custom of centuries. There cannot be any poor or needy — the communal household and the [clan] know their responsibilities towards the old, the sick, and those disabled in war. All are equal and free — the women included” (Engels, 1884). The existence in modern times of societies so thoroughly imbued with a spirit of democracy and equality struck Marx and Engels as a standing condemnation of Europe’s brazen inequalities and relentless systems of social exclusion, exploitation and oppression. But it also represented for them a hopeful vision and a prefiguration of a possible ‘communist’ future for a post-capitalist Europe.

IV. The centrality of anti-colonial solidarity in Marx’s political strategy

One of the fabricated charges against Marx is that he so emphasized the importance of working-class struggles against capitalism that he placed other struggles, including anti-colonial ones, in a secondary or subordinate position. What we find when we look at Marx’s actual writing on this issue, however, is that at times he takes the exact opposite view, adopting the position that sometimes anti-colonial struggles take a higher priority than conventionally ‘economic’ struggles against the exploitation of workers as workers, so that anti-colonial revolt was of primary importance, and working-class struggles against capital were secondary (although this didn’t mean, obviously, that he ‘downplayed’ the struggles of workers as workers or considered them unimportant).

In the case of England as a colonial power, for example, Marx described the victory of anti-colonial resistance as “the preliminary condition for the proletarian revolution in England” (Marx, 1870; emphasis added). Marx explicitly argued that if the European Left could “bring about a coalition of [colonizer-nation] workers with the [colonized] workers,” this would be “the greatest achievement you could bring about now” (ibid.; emphasis added). Anti-colonial struggle, he said, should therefore be put “in the foreground” (ibid.), not the background. Even workers from colonizing nations should be alerted to the fact that “the national emancipation of [colonized nations] is not a question of abstract justice or humanitarian sentiment but the first condition of their own social emancipation” (ibid.; emphasis added). In other words, Marx argued that the economic self-emancipation of the international working class could only be achieved on the basis of a prior struggle against colonialism, without which it could not succeed. As Marx put the point in an 1872 leaflet he co-authored, racist antagonism toward those targeted by colonialism is “one of the main impediments in the way of every attempted movement for the emancipation of the working class” (Marx, et al., 1872). Again and again, Marx uses terms like ‘preliminary condition,’ ‘first condition,’ and ‘in the foreground’ to characterise the place of anti-colonial resistance movements in the political strategy of the anti-capitalist left within colonial nations like England.

It was in this spirit that, in 1872, Engels argued that colonized peoples should always have the right to form autonomous national organizations within the global working-class left, and he put the point this way: “If members of a conquering nation called upon the nation they had conquered and continued to hold down to forget their specific nationality and position, to ‘sink national differences’ and so forth, that was not Internationalism, it was nothing else but preaching to them submission to the yoke, and attempting to justify and to perpetuate the dominion of the conqueror under the cloak of Internationalism. It was sanctioning the belief, only too common among the English working men, that they were superior beings compared to the [colonized people], and as much an aristocracy as the mean whites of the Slave States considered themselves to be with regard to [Black people]” (Engels, 1872).

Today, we would want to refer to nations “subjected to colonial domination,” rather than “conquered” nations. (As Marx points out in Capital, Volume One: “In the colonies, the capitalist regime everywhere comes into collision with the resistance of the producer….”) More generally, the terminology of Marx and Engels is often old-fashioned and obsolete. But overall, their position on these strategic questions seems to hold up very well. In particular, this contrast between “internationalism” (which they embraced) and “sinking national differences and so forth” (which they rejected as a falsification of internationalism) remains extremely important in the context of anti-colonial socialist politics.

Conclusion

There’s no denying, and no need to deny, that there are serious and substantive defects in Marx’s account of colonialism. His sometimes uncritical adoption of theoretical frameworks from 19th-century anthropology, for instance, led him to parrot uncritically (at times) the now-discredited jargon of ‘primitiveness,’ ‘barbarism’ versus ‘civilisation,’ and so on, when talking about Indigenous societies. This is one of a number of points where we now rightly reject some of what Marx was willing to say as both racist and scientifically unsound. Moreover, even his anti-colonialism would be deemed by most of us to be affected in certain ways by a broadly ‘Eurocentric’ view of modern history, even if its Eurocentrism isn’t as egregious as that of other 19th-century European intellectuals. These and other defects reflect the fact that Marx could not benefit, as we can and must today, from over a century of anti-colonial movements and anti-colonial social research. He could not learn, for instance, from a critical engagement with figures like Frantz Fanon, Julius Nyerere, or Andrea Betasamosake Simpson, to name only a very few of the countless important anti-colonial thinkers after Marx who force us to grapple with matters that were misunderstood, overlooked, or even evaded by Marx.

It would be a grave error either to accept or to reject Marx’s critical analysis of colonialism wholesale. We have to be willing, on the contrary, to sift through what he says — and what he fails to say — to take Marx’s anti-colonialism seriously as both a source of indispensable insight and at the same time a flawed inheritance plagued by grave limitations. But my judgment is that a wholesale rejection would be particularly unfortunate, because the enduringly relevant critical insights in Marx, especially about the strategic “foregrounding” of anti-colonialism in the context of anti-capitalist struggle, are too important to the future of anti-systemic left politics to be cast aside carelessly

___________________

Courtesy: The Public Autonomy Project

Being Indigenous in Karachi

اردو میں پڑھنے کیلئے کلک کریں

Bahria Town and Expropriation of Sindhi & Baloch Goths  

The indigenous people of Karachi, mainly Sindhi & Baloch communities, living in rural villages called goths, are fighting for their land which is being forcibly occupied by the capitalists organised behind the real estate tycoon Malik Riaz. The expropriation* of these originally agricultural and pastoral communities from their land was initiated by the British colonial empire in the nineteenth century by enforcing colonial property relationships that encourage enclosure and private property on communal land. This historical process, the expropriation of indigenous Sindhi & Baloch Goths, is now reaching its conclusion with Bahria Town’s forceful removal of all barrier (both physical and social) to achieve complete annihilation of the agricultural communities of rural Karachi, to create new landscapes for the further growth of the capital that they have accumulated in the parallel economy – the shadow economy of tax evasion, bribery and kickbacks. Black money must find ways to enter the formal economy to continue its expansion.   

Being Indigenous in Karachi

Sindhi & Baloch agricultural communities claim of being indigenous in Karachi. They maintain that their history in the area dates back prior to the walled settlement that latter turned into an important colonial port city, and later went to become the first capital of Pakistan. The city of Karachi developed from within the walls of the fortified settlement of Hindu merchants built in 1729, which after the British occupation in 1839, started growing into a center of colonial trade through its natural harbor and attracted migrants from across the region. Within a decade of colonial rule, the town grew out of its walls and new working-class suburbs started to grow between the old city and the Lyari river that formed the western boundry of the town. The in-migration brought about by the increasing colonial trade through the port resulted in a surge in the population, estimated around 14000 at the time of British occupation, to 57,000 by 1856 and over 100,000 by 1890 earning Karachi the status of a city.    

Much before this population surge and the transformation of the fortified town into a colonial port city, these Sindhi & Baloch tribes have had populated the fertile riverbeds and the rain fed landscape of Malir valley besides the fishing villages along the natural harbor. The tribes were later joined by communities from Trans-Makkuran in the eighteenth and nineteenth century; with time they become a part of the natural economy of the region. The early tribal settlements and the in-migrants before British invasion collectively form the indigenous population of Karachi, most scholars agree.  

Many of the Sindhi-Baloch goths facing expropriation in the hands of Bahria Town find their lineage to these pre-colonial inhabitants of Karachi who could not be detached from the land during the colonial development of the city. These early agricultural and pastoral communities, for whom the land on which they were living was an inalienable mean of subsistence, can be designated as indigenous in relations to the other communities who settled in Karachi during its development into a colonial port city and were mainly affiliated with the port economy instead of work related to agriculture and livestock raising.   

Colonial Legacy of Expropriation

Baloch communities who settled along the Lyari river in late eighteenth century became the first to be expropriated, that is to lose their relationship with land as the means of subsistence, during the urban sprawling of colonial Karachi. These Baloch goths that later turned into working-class suburbs became the center of urbanization. By the time of partition, the rural economy of Lyari had diminished considerably and soon vanished in the face of the intensive in-migration during 1950s. Unlike the indigenous goths of Lyari, the impact of the urbanization and the post-partition economic structures, were initially minimal on the rural villages of Malir. Although, the temptation to part ways with land have been present since the early days of the partition among ‘Waderas’ – clan heads who dominated the social structure of the village and were legally entitled to sell the communal land – mainly due to their changing status from village heads to independent landowners and petty capitalists with increasing shares in the post-colonial political economy of Karachi.   

Wadera is the top rank feudal title in the structure of dominance at village level among the Sindhi & Baloch agricultural communities. In pre-colonial days, Wadera of a community belonging to larger tribal structure, has been either appointed directly by the tribal chief as his representative at village level or nominated by the villagers and endorsed by the chief as head of village community that formed a branch of the mother tribe. The independent Sindhi & Baloch communities who emerged during the eighteenth and nineteenth century, having no affiliation with any larger tribal hierarchy, organised themselves in non-tribal communal structures in the goths were normally led by a prominent personality endorsed by fellow villagers.  

These village heads became informal or ‘unofficial’ Waderas once private property was established over the communal land by the British empire through various colonial regulations that reshaped the property relations by enclosing the indigenous communities within the limits of the cultivated land; separating the non-cultivated grazing grounds, and bringing them in direct control of the colonial authorities; and entitling such figures to private ownership of the previously communally owned land considered to be part of the Goth. Non-cultivated land and the grazing grounds taken over by the colonial board of revenue was later given on lease to either the same tribes for their loyalty, or the in-migrating communities. The British during colonial rule used such land as bribe, the carrot in the proverbial ‘carrot and stick’ to control communities and strengthen the role of its loyalists. In the early twentieth century another colonial regulation paved the way for large private land ownership through ‘land consolidation’. Individuals who were leased small parcels of land at different sites were allowed to receive consolidated land at one place. The practice resulted in the creation of large estates and the growth of the landlord class.  

The Capitalists in the post-partition state – in Karachi’s case most of them being in-migrants who replaced the out-migrating Non-Muslim merchant class leaving behind a ready market for the newcomers – inherited the colonial property relations. The colonial legacy of land alienation was continued through privatisation of communal land and expropriation of the agricultural masses for the expansion of accumulation in an essentially non-capitalist space. Another wave of expropriation of the Sindhi-Baloch goths in rural Karachi began in 1960s with land reforms that resulted in large scale consolidation of property in the hands of the landlords coupled with the privatisation of the land held by the board of revenue to big industrialists and influential personalities, a process that continued sporadically until 2000 when under the new local government system, the land loot entered into a new phase setting ground for complete alteration of rural landscape.  

Bahria Town Karachi, A Phenomenon

General Perveez Musharaf’s dictatorship saw a new rise in arbitrary rule in Pakistan where the capitalists – commercial and politico-military elite, joined by ‘feudal lords’ of Sindh and ‘tribal chiefs’ of Balochistan who own big capitalist ventures besides their feudal-tribal titles – mainly relying on the parallel economy found new space for expansion of capital. Interestingly, this social group is frustrated with the growing role of the state functionaries who are at the same time rent seeking in their politico-economic behavior.  In other words, it seeks to ‘appropriate the appropriators’ by claiming a share of the profit being made both in the formal and informal economy. As a result, one often encounters state functionaries themselves as owners of massive capital. They have turned their offices positions into points of accumulation mainly through manipulation of the market. Of course, they have numerous advantages over those (market based) competitors who have to consult state functionaries in order to get past the bureaucratic barriers.  

This pattern of arbitrary rule, with a few intermittent breaks, only continued to create zones of exceptions for the capitalists: enabling them to bring-in their capital from parallel space to the formal economy and expand the accumulation beyond the limits of the market. Such zones of exception were created during early days of Musharaf rule when the new local government system enabled the district administration of Karachi to exercise land transfers in Sindhi-Baloch goths on massive scale. Takeover of the privatization process by the state functionaries being led by personnel who were at the same time also stake holders in the process, elevated the privatization of land beyond the limits of the market resulting in massive rent-seeking practices, shadowy transactions, and bogus claims that would be used to delegitimize the original claims of the indigenous people.  

Transformation of the role of state functionaries from regulators to market agents with personal business stakes helped ease the limits of the market. Further, they also lowered the barriers and boundaries between the regulated, taxed market and the unregulated parallel market which enabled the ever-growing phenomena of Bahria town, a city within a city, that is engulfing village after village with no end in sight. Using the might of the bourgeois accumulation of capital, Malik Riaz finds himself in the perfect position to do the necessary: he is able to resolve bureaucratic hurdles by putting proverbial ‘wheels to the files’, to get over the legal complications, he pays compensation, to build political consensus, by striking business deals with political and military leadership, and to improve his public image through highly compromised electronic media.  

The real-estate tycoon has combined all the essential components of a capitalist state and the bourgeoise interests into one place that would otherwise not been possible in the unnatural development of the political authority in the country. In this zone of exception, Bahria Town is continually expanding its direct domain by enlarging its physical boundaries, and its indirect domain by degrading the natural ecosystem, restricting the movement of indigenous people, disturbing the water and electricity supply to goths and finally, restricting the indigenous people into walled enclaves and using covert and overt force to compel them to relocate so that the housing project may expand to the entire rural landscape of Karachi.  

* Expropriation in Marx’s conception is specifically identified with “appropriation… without exchange,” i.e., appropriation minus the equality in all actual exchange relationships. Expropriation thus meant theft of the title to property. (Source: Monthly Review)

__________ 

Note: This article is a collective effort by Balochistan Marxist Review team.