Tag Archives: Feudalism

مگسی نواب اور بلوچستان کا طبقاتی جبر

زمین کی ملکیت وہ بنیاد ہے جس پر قبائلیت کے چوغے میں جاگیرداری نظام بلوچستان کے وسیع اور زرخیز میدانوں میں نہ صرف قائم ہے بلکہ ظلم کے نہ بیان ہونے والے داستان رقم کر رہا ہے۔ برطانوی سامراج کے وفادار سردار و نوابوں کی باقیات اسی ملکیت کی بنیاد پر بلوچ سماج پر اپنی بالادستی قائم کیئے ہوئے ہیں ۔ زمین کی ملکیت اور اسکی پیداوار میں شرکت کا کوئی بھی دعوی ان کی بالادستی پر برائے راست حملہ ہے کیونکہ وہ دعوی ان بنیادوں پر حملہ کرتا ہے جن پر بالادستی اور ظلم و جبر کا سارا نظام قائم ہے۔ جھل مگسی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں زمین پر مگسی نوابوں کا قبضہ اور ان کے اور کسان خاندانوں کے درمیان جبر کا رشتہ بلوچ سماج میں موجود جاگیرداری رشتوں کی خالص شکل میں عیاں ہوتی ہے۔

قبائلی نظام بلوچ قوم کے سماجی ارتقاء کے ایک مخصوص مرحلے میں وجود میں آئی جس کا بنیادی مقصد قبائل کو قیادت فراہم کرنے کے ساتھ قبائل کی مشترکہ معاشی و سماجی مفادات کا تحفظ، اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا اور قبائل میں انصاف کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھنا تھا۔ ابتدائی عہد میں قبائلیت کی بنیاد زرعی زمین اور چراگاہوں کی مشترکہ ملکیت پر ہوتی تھی اور قیادت کا چناؤ جمہوری عمل کے زریعے ہوتا تھا۔ قبیلے کے افراد ملکر ایک قابل، سمجھدار، اور بہادر شخص کو سردار کی زمہ داری سونپ دیتے تھے۔ یوں سردار کا عہدہ ایک رعایت یا استحقاق ہونے کے بجائے زمہ داری ہوتی اور اس کے کمزور یا طاقتور ہونے کا دارومدار سردار کی نجی ملکیت کے بجائے قبائلی عوام کے اعتماد پر ہوتا۔

عوام کی حمایت اور مشترکہ ملکیت پر کھڑی یہ جمہوری نظام جو اپنے ابتدائی دنوں میں قدیم کمونزم کی خصوصیات رکھتی تھی مختلف اندرونی اور بیرونی عوامل کے زیر اثر سردار کے ہاتھوں نجی ملکیت کے ارتقاز پر منتہج ہوا اور سردار اپنے طاقت کیلئے قبیلے کی حمایت کے بجائے نجی ملکیت پر انحصار کرنے لگے۔ برطانوی سامراج نے قبائلی سماج کی سابقہ ترقی پسند اور جہوری روایات کو مکمل طور پر لپیٹ کر قبائلیت کو ایک استحصالی نظام میں تبدیل کر دیا ۔ سردار وں کے ساتھ بالادست طبقے میں نواب کے ٹائٹل کا اضافہ ہوا۔ سردار اور قبائلی عوام کے درمیان عزت و احترام اور برابری کا رشتہ حاکم اور محکوم کے رشتے میں تبدیل ہو گیا۔ برٹش راج نے 1901 میں فرنٹیرز کرائمز ریگولیشن نافذ کرکے سرداروں کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ ان کو مالی مفادات اور بڑی بڑی جاگیروں سے نوازا۔ اس طرح سرداروں کے ہاتھوں دولت کے ارتکاز کا جو عمل تاریخی طور پر سست روی سے جاری تھا اسے انگریز سامراج نے ایک تاریخی جست کے زریعے باقائدہ طور پر جاگیرداری بنیادوں پر استوار کر لیا۔

انگریز سامراج کے اس خطے سے نکلنے کے بعد ان کے جانشین فوجی و سول حکمران طبقے نے اپنی غیر جمہوری تسلط کو برقرار رکھنے کے لے قبائلی سرداری نظام کو تقویت دی اور انگریزوں کی طرح عوام کو دبانے کے لے سرداروں کو معاشی, سیاسی, انتظامی اور سماجی حوالے سے طاقتور بنا دیا۔ جس سے بلوچستان میں نہ صرف جمہوری روایات پنپ نہ سکے بلکہ صوبے میں سماجی, انسانی اور معاشی ترقی بھی نہ ہوسکی۔ انگریزوں اور ان کے بعد سول و فوجی اشرافیہ کے زیر دست زمین اور دوسرے زرائع پیداوار پر سرداروں اور نوابوں کی بالادستی مزید مستحکم ہو گئی اور اسطرح بلوچ سماج کی طبقاتی بنیادیں استوار ہوئی ۔ اس طبقاتی تقسیم کے ایک سرے پر سردار، نواب ان سے منسلک پیداگیر گروہ اکھٹا ہونے لگے تو دوسرے سرے پر بزگر شوان، روزنداری پر کام کرنے والے محنت کش اور کم سے کم اجرت پر گزارہ کرنے والا ملازم طبقہ جن کے پاس اپنے محنت بیچنے کے علاوہ باقی تمام سابقہ قبائلی زرائع پیداوار مسدود ہوتے گئے۔

سردار و نوابوں اور فوجی و سول بیوروکریسی کی ملی بھگت سے بلوچستان کی سیاست، معیشت، انتظامیہ سمیت تمام شعبوں میں گزشتہ 73 سالوں سے اصلاحات کا رستہ منظم طریقے سے روکا ہوا ہے جس سے بلوچستان کے عوام اکیسویں صدی میں بھی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں جبکہ عدل کا مساویانہ نظام، سیاسی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہی محال ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ ریاست کے برعکس جس کاایک فریضہ سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کے سامنے حائل رکاوٹوں کا ہٹانا ہے بلوچستان جیسے خطوں میں قدیم طرز پیداوار اور بالادستی کے روایتی ڈھانچوں کا سہارہ لینے پر مجبور ہے۔ بلکہ ریاست بہت سی جگہوں پر اپنے کردار سے دست بردار ہوجاتی ہے اور یہی سردار و نواب ریاست کا روپ دھار لیتے ہیں۔

بلوچستان میں جھل مگسی ایک ایسا ہی علاقہ ہے جہاں نسلوں سے قبائلی حکمران خاندان اپنے آپ میں ریاست بن چکی ہے۔ انتظامی و عدالتی عہدے دار ملکی قانون کی پابند ہونے کے بجائے مقامی نوابوں کے احکامات پر عمل پیرا ہیں۔ جھل مگسی کا شمار بلوچستان کے پسماندہ ترین اضلاح میں ہوتا ہے جہاں پسماندگی معاشی ڈھانچوں سے نکل کر سماجی اور سیاسی ڈھانچوں میں سراعیت کر چکی ہے۔ زرعی زمینوں پر قبضہ، تشدد، خواتین کا اغوا اور غیرت کے نام پر قتل معمول کے واقعات ہیں۔ تمام زرعی زمینیں تقریبا نواب خاندان کے قبضے میں ہیں جنہیں بھائیوں نے آپس میں تقسیم کیا ہوا ہے اور ان کی منشا کے بغیر کوئی بھی خاندان زمین پر رہنے اور محنت مزدوری کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ سالوں زمین پر آباد خاندانوں کو بے گھر کرنا اور ان سے جدی پشتی زمینیں ہتھیانا ان کیلئے بڑی بات نہیں۔ ریاست کے نوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی وجہ بنیادی انسانی حقوق جن کی ضمانت ملکی آئین دیتا ہے سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔ اسی طرح سیاسی اختلاف کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ 2013 میں مگسی نوابوں کے خلاف آزاد امیدوار عبدلفتاح مگسی کا دن دہاڑے قتل اور ان کے قتل میں نامزد ملزمان کے خلاف ریاست کی خاموشی ایک واضح مثال ہے ۔

طاقتور نواب خاندان کی جانب سے زمین پر قبضے کے خلاف بر سر احتجاج خیرالنسا اور ان کے خاندان کی کہانی نوابوں کے زیر دست عام عوام کی روز مرہ کی کہانی سے مختلف نہیں۔ ان کا تعلق جھل مگسی کے یونین کونسل میر پورسے ہے۔ میر پور بلوچستان کے ان سینکڑوں دیہاتوں میں سےایک ہے جہاں کی آبادی خشک سالی سے زرعی زمینوں کی پیداوار ختم ہوجانے کے سبب قریبی علاقوں میں ہجرت کرتے آرہے ہیں۔ خیرالنسا کے خاندان کے مطابق وہ بھی انہیں حالات سے دوچار صحبت پور ہجرت کرچکے تھے لیکن جب وہ واپس اپنی زمینوں کی طرف لوٹے تو ان پر قبضہ ہو چکا تھا۔ انہوں نے مقامی نوابوں کے اقتدار کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا اور اپنے آبائی زمینوں کی ملکیت کا حکم نامہ حاصل کر لیا ۔ لیکن عدالتی حکم نامے کے بعد انہیں زمین کا قبضہ ملنے کے بجائے مزید جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔خاندان کا سربراہ ایک جھوٹے مقدمے میں پابند سلاسل ہے اور کمسن خیر النسا کو اسی جرم میں ایک طویل مدت تک حبس بے جا میں رکھا گیا ۔متعلقہ زمین اب بھی مگسی برادران کے قبضے میں ہے اور متاثرہ خاندان بر سر احتجاج قانون کی عملداری کی دہائی دے رہا ہے۔

جھل مگسی سمیت بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں جاگیردار نوابوں اور سرداروں کے زیر دست کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کی زمین سے بے دخلی، اغوا اور قتل کوئی نئی بات نہیں۔ سرکار کے ہم پلہ قبائلی سردار و نواب بلوچستان میں بسنے والے محکوم عوام کے ساتھ ہر روز ایسے واقعات کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کام کیلئے انہیں حکومتی مشینری دستیاب ہے جبکہ طبقاتی نظام عدل جس کے شکنجے میں ایک غریب روٹی چوری کرنے کے جرم میں سالوں سڑتا رہا ہے مگر طاقتور نواب اور ان کی اولادیں جسمانی تشدد، اغوا اور قتل جیسے سنگین جرائم کر کے بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ایسے واقعات ریاست کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں جو اپنے آئین اور قانون پر عمل درآمد نہیں کرواسکتا ہے اور اپنی وجود کو برقرار رکھنے کے لیئے سماج کے اندر موجود جابر اور استحصالی قوتوں کا سہارا لیتا ہے ۔ ان قوتوں کے خلاف مختلف شکلوں میں ابھرنے والی سیاسی مزاحمت اسی جبر کا رد عمل ہے جس کے رجحانات بلوچستان میں آئے روز دیکھے جاسکتے ہیں۔

بلوچستان کے زرعی علاقوں میں دولت کی سرداروں اور نوابوں کے ہاتھوں ارتکاز کی ایک شکل زمین کی ملکیت کا ارتکاز ہے جہاں پر طاقتور قبائلی ایلیٹ ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے اپنے مقبوضہ زمین کی حدود میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ پٹ فیڈر جیسے نہری آبپاشی نظام نے پہلے سے بنجر زمینوں کی قدر یکدم تبدیل کردی ہے جس سے ان بالادست سردار و نوابوں کے لیئے زمیں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جسے وہ کہیں پر قانون اور اسے نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے قبضہ کر رہے ہیں تو کہیں پر نجی کارندوں کے ہاتھوں لوگوں کو زرائع پیداوار سے بے دخلی کی شکل میں۔ اس طبقاتی تقسیم کے ایک جانب سردار و نوابوں کے ہاتھوں زرائع پیداوار کا تیزی سے ارتکاز اور بے گھر اور بے آسرا عوام کی تعداد میں اتنی ہی تیزی سے اضافہ ایک بڑھتے ہوئے طوفان کا پیش خیمہ ہے جس کے بطن سے مزاحمت اور انقلاب کی نئی شکلیں پھوٹ سکتی ہیں۔ زرائع پیداوار پر قابض سرداروں اور زمین سے بے دخل عوام کے درمیان تصادم کی شکل اختیار کرتے تضاد کا واحد انقلابی حل زرعی ملکیت کی از سرے نو تقسیم ہے ۔ اس تقسیم کی ایک شکل زرعی اصلاحات ہو سکتی ہیں۔ البتہ ریاست پر غالب سردار اور نواب جو کہ خود اس تضاد کے پیداوار ہیں ان سے زرعی اصلاحات کا مطالبہ ایک سہانے خواب کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس تضاد کو اسی طبقے کے ہاتھوں حل ہونا ہے جس کے منہ سے نوالہ، سر سے چھت اور پیروں تلے زمیں چھین لی گئی ہے ۔ جن کے پاس مارکس اور اینگلز کے الفاظ میں “کھونے کے لئے زنجیروں کے علاوہ کچھ نہیں”۔ یہی طبقہ بلوچستان میں طبقاتی جد وجہد اور سماجی انقلاب کے علمبردار ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ زمین سے بے دخل عوام طبقاتی شعور کی جانب گامزن ہوں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کے سا تھ متحد ہو جائیں اور مراعات یافتہ قومی بورژواوزی قیادت کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے سماجی و معاشی برابری اور انصاف کے انقلابی جد وجہد کی قیادت خود کرتے ہوئے اسے منزل مقصود تک پہنچائیں ۔