Tag Archives: Class Struggle

Remembering Shaheed Fida’s Ideology

Haroon Baloch

اردو میں پڑھنے کیلئے کلک کریں

Most of us know and admire Shaheed Fida Ahmed Baloch for his being a popular leader of his time. In doing so what we forego is his ideology for which he stood until his death. On the anniversary of his martyrdom, the best homage would be to remember him for his ideas, not just his fame.

On his funeral on 3rd May 1988, Shaeed Fida was remembered by his comrades as the leader of the oppressed, a revolutionary, a thorn in the eyes of CIA, yes the US spy agency. The dependence of Baloch nationalists on the US and other capitalist powers is a thing of yesterday. Fida was known internationally being a staunch anti-imperialist and a strong opponent of US presence in the region.

During the 1980s when Fida Shaeed rose to leadership the external power with whom an oppressed nation of this region would align itself was the Soviet Union. Although, that dependence on the USSR was different from the contemporary bromance of nationalists with the West. The comradeship of Soviet era was less about Russia and more about the solidarity with the progressive forces at home.

Over the past two decades of nationalism, there has been a little reflection on the political evolution of post-1980s Balochistan and much selective appropriation of past into a new nationalism. The regressive form of nationalism begun during the 1980s, in contrast to Shaeed Fida’s thoughts. With his murder, and the subsequent failure of the so-called ‘Youth Movements,’ and the general set back faced by the left in Pakistan and internationally, both BSO and nationalism were stripped off their progressive essence. And Fida Baloch was appropriated accordingly, not just by the nationalists in the parliamentary politics but also by those non-parliamentary nationalists.

There is no justification for this diversion from progressive revolutionary nationalism to reactionary nationalism. Nawab Khair Bhakhsh Mari would identify himself a Marxist all his life and would die with dreams of a ‘socialist Balochistan.’ Even Mari’s hostility towards Punjabis was along with the Marxist lines based on the exploitative nature of the settler phenomenon. But this isn’t the case with nationalists who would call themselves Mari’s followers and Fida’s political heirs.

Shaeed Fida believed in the solidarity of the oppressed, and that BSO was not alone in its struggle for a just society. An objective that could only be achieved through collective action of progressive forces. No one has an impression of his being an idealist. Amid sheer optimism and strong belief on revolutionary solidarity he had a critical eye over the regional politics.

Fida believed in politics of the oppressed classes and their leading role in the struggle against all forms of exploitation. In one of his recorded speeches while lauding the Sindhi resistance Fida expresses skepticism towards MRD alliance calling it ‘good up to a point, but not the savior of the masses,’ saying that “the responsibility to take the movement to its ultimate objective rests on the shoulders of the forces who are against imperialism, revisionism, and national hegemony, and who believe in politics of the oppressed classes.”

While keeping his unwavering commitment with Balochistan, Fida never lost the sight of the bigger picture. He says in his speech, “Baloch youth in their cry against deprivation, and exploitation of their oppressed nation is not unaware that imperialists, and their agents have decided to turn this region into a major post” against the progressive forces. Fida encouraged the students and youth to “leave behind the narrow boundaries of struggle and focus on the real issues, identify the real enemy and strengthen the real forces.”

His nationalism was “the torchbearer of the rights of the exploited farmers.” He would join any progressive fight for the rights of the oppressed masses, the workers, peasants and the common men and women of the tribal society. Without being the voice of the oppressed people, he says, “the struggle cannot progress, the masses cannot be mobilized.”

The progressive nationalism of Fida’s time never lost its relevance as the major contradictions of his time remain unresolved till date. And so، his love among the masses. But sadly, this popular attachment has been exploited by the forces who have no regard for his ideology, but only for his fame.


Courtesy: https://haalhawal.com

طبقاتی جدوجہد یا طبقاتی نفرت؟

ایرّیکو مالتیستا (ستمبر۱۹۲۱) / ترجمہ: بی ایم آر

Click to read in English

میں نے میلان میں جیوری ( ججوں کی کمیٹی ) کے سامنے طبقہ اور پرولتاریہ سے متعلق چند خیالات کا اظہار کیا تھا جس پہ تنقید اورحیرت کا اظہار کیا گیا۔ یہ بہتر رہے گا کہ میں ان کا جواب دوں۔

میں نے اپنے خلاف نفرت ابھارنے کے الزام کے خلاف شدت سے احتجاج کیا؛ اور اس بات کی وضاحت کی کہ میں نے اپنے پرچار میں ہمیشہ یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماجی برائیاں ایک یا دوسرے آقا کی بد کرداری اور ظلم، ایک یا دوسرے حاکم پر منحصر نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا انحصار حکمرانوں اور حکومتوں کے بطوراداروں کے ہوتا ہے؛ اسی لیئے، علاج بھی انفرادی حاکموں کو بدلنے میں نہیں ہے، بلکہ یہ اہم ہے کہ اس اصول کو نیست و نابود کیا جائے جس کے ذریعے انسان دوسرے انسانوں پر غلبہ حاصل کرتا ہے؛ اورمیں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ میں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پرولتاری انفرادی طور ( شخصی طور پر) بورژوا سے بہتر نہیں ہوتے، جیسا کہ اس حقیقت سے عیاں ہے کہ ایک کارکن ( بہ معنی کام کرنے والا) ایک عام بورژوا کی طرح برتاوٗ کرنے لگتا ہے، یا اس سے بھی بدتر طور سے، جب وہ حادثاتی طور پر دولتمند یا طاقتور ہو جاتا ہے۔

ایسی بیانات کو توڑا مروڑا گیا، ان کا چربہ بنایا گیا، بورژوا پریس کی جانب سے ان کی غلط تعبیر کی گئی، اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ اس پریس کی، جسے، پولیس اور دھوکہ بازوں کے مفادات کی تحفظ کے لیئے پیسے دیئے جاتے ہیں، کا فرض بنتا ہے کہ وہ انارکزم کی حقیقت کو لوگوں سے چھپائیں اور کوشش کریں کہ اس کہانی کو تقویت دیں کہ انارکست نفرت سے بھرے غارتگر ہیں؛ پریس اپنا فرض سمجھ کر یہ کرتی ہے، لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ کبھی کبھی وہ یہ اچھی نیت کے باوجود بھی کرلیتے ہیں، وہ ایسا اپنی لاعلمی کی وجہ سے کرتے ہیں۔ چونکہ، صحافت، جو ایک مقدس بلاوے کی طرح تھا، اب محض نوکری یا کاروبار میں بگڑ کر تبدیل ہو چکا ہے۔ صحافی اخلاقی حس کھونے کے ساتھ ساتھ دانشوارانہ ایمانداری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو ان چیزوں کے بارے میں بات کرنے کے حوالے سے انسان کو روکتی ہے جس سے وہ لا علم ہو۔

چلیں ہم زر خرید لکھاریوں کو بھول جاتے ہیں، اور ان کی بات کرتے ہیں جو ہم سے مختلف خیالات رکھتے ہیں، اکثر فقط خیالات کے اظہار کے طریقوں میں ان کا اور ہمارا فرق ہوتا ہے، لیکن وہ ہمارے دوست رہتے ہیں کیونکہ ان کا اور ہمارا مقصد ایک ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی حیرانگی کا کوئی جواز نہیں ہے، اس حد تک کہ میں سوچتا ہوں کہ شاید کوئی بیرونی عنصر ان پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ وہ اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ میں یہ چیزیں پچاس سالوں سے لکھ اور بول رہا ہوں، اور یہی چیزیں سینکڑوں اور ہزاروں انارکست، میرے عہد میں، اور مجھ سے پہلے کہہ چکے ہیں۔

چلیں اختلاف پر بات کر لیتے ہیں۔

کچھ کارکن زہنیت کے لوگ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ کھردرے ہاتھوں کا ہونا الہامی طور پرانھیں تمام اچھائیوں سے لبریز کر دیتی ہے؛ وہ احتجاج پر اتر آتے ہیں اگر آپ نے یہ جرات کی کہ آپ لوگوں کی، اور انسانیت کی بات کریں، اور اگر آپ پرولتاریہ کے مقدس نام کی قسم کھانے میں ناکام ہوں۔

اب، یہ سچ ہے کہ تاریخ نے پرولتاریہ کو سماجی تبدیلی کا بنیادی آلہ بنایا ہے، اور وہ لوگ جو ایک ایسے سماج کی تعمیر و تشکیل کے لیئے لڑ رہے ہیں جہاں تمام انسان آزاد ہوں، اور انہیں اپنی آزادی کے اظہار کے لیئے تمام زرائع دستیاب ہوں، انھیں بنیادی طور پر پرولتاریہ پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

ابھی تلک، قدرتی وسائل اوراس سرمائے کی ذخیرہ اندوزی، جسے آج اور گذشتہ کل کی نسلوں نے تخلیق کیا، لوگوں کی محکومیت اور سماجی برائیوں کی زمہ دار ہے، یہ بات پھر قدرتی ہے کہ جن کے پاس کچھ نہیں، وہ لوگ براہ راست اور واضح طریقے سے پیداوار کے زرائع کو تقسیم کرنے میں دلچسپی رکھیں گے، اور وہی ظبطگی کے بنیادی ایجنٹ ہوں گے۔ اسی لیئے ہم اپنے پروپگینڈہ میں پرولتاریوں سے مخاطب ہوتے ہیں، جن کی حالت زندگی دوسری جانب، اس بات کو مشکل بنا دیتی ہے کہ وہ ایک اعلی آئیڈیل کی تخلیق اور تشکیل کر سکیں۔ البتہ، اس سب کے باوجود کوئی وجہ نہیں ہے کہ غریب کو ایک فیٹش میں تبدیل کیا جائے؛ اور نا ہی اس کو ان کے اندرنفسی طور پر برتری کے احساس کا سبب بنایا جانا چاہیے کہ کوئی بھی صورتحال جو ان کے اپنے کردار یا ان کے ارادوں سے نہ نکلتی ہو، انھیں یہ حق نہیں دیتی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ غلط طریقے سے پیش آئیں، اس برے سلوک کے بدلے جو ان کے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ چھالہ زدوہ ہاتھوں کا جبر( جو کہ عملاّ تب چند ایسے لوگوں کا جبر بن جاتا ہے جن کے ہاتھ مزید چھالہ زدہ نہیں ہوتے)، کم سخت، اور برا نہیں ہوتا، اور کہ یہ دستانے پہنے ہووّں کے جبر سے کم بدیوں کو جنم دینے والا بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ، یہ کم بصیرت والا اور زیادہ ظالمانہ ہوتا ہے: فقط اتنی سی بات ہے۔

غربت شاید اتنی ہولناک چیز نہ ہوتی، اگر یہ اخلاقی سفاکیت، مادی نقصان، اور جسمانی تنزلی کا باعث نہ بنتی، خاص طور پرجب یہ نسلوں تک چلتی ہے۔ غریبوں میں مراعات یافتہ طبقے کے مقابلے، جن میں برائی دولت اور طاقت کی فراوانی سے پیدا ہوتی ہیں، میں الگ قسم کی علتیں ہوتی ہیں، لیکن غریبوں کے عیب بس الگ ہوتے ہیں، بہتر نہیں۔

اگر بورژوا میں سے جولیٹی، گرازیانی، اورانسانیت پر ظلم کرنے والوں کی لمبی فہرست گزری ہے جن میں عظیم الشان فاتحوں سے لے کر نچلے درجے کے روز مرہ کے آقا شامل ہیں، وہیں دوسری طرف کیفیارو، ریکلس، اور کروپاٹکین جیسے لوگ جنھوں نے ہر عہد میں اپنے طبقاتی مراعات اس لیئے قربان کیئے کہ انسانیت کی جان خلاصی ہو بھی اسی طبقے سے ( یعنی بورژوازی) سے نکلے ہیں۔ اسی طرح سے، اگر پرولتاریہ نے انسانیت کی خاطر بے شمار شہید اور ہیرو دیئے ہیں، اسی طبقے سے وائیٹ گارڈز بھی نکلے، ایسے قصاب جواپنے ہی بھائیوں کا قتل عام اور ان سے غداری کرتے رہے، جن کے بغیر بورژوا ظلم ایک دن بھی نا چل سکتا۔

نفرت کو کس طرح انصاف کے اصولوں کے متبادل کے طور پر کھڑا کیا جا سکتا ہے، جبکہ انصاف کی مانگ ہی روشن فکری کا متقاضی ہے، اور یہ واضح ہے کہ بدی ہرسو ہے، اور برائی کے وجود کی وجوہات شخصی خواہشات اور زمہ داریوں سے اس پار جاتی ہیں؟

اگر طبقاتی جدوجہد سے مراد جابروں کے خلاف استحصال زدہ لوگوں کی جدوجہد ہے تاکہ استحصال کا خاتمہ ہو، تو بے شک طبقاتی جہدوجہد ہوتی رہے۔ بلاشبہ یہی جدوجہد، اخلاقی اور مادی بلندی کا راستہ ہے، اور یہی مرکزی انقلابی قوت ہے جس پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔

لیکن نفرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ پیار اورانصاف نفرت سے جنم نہیں لے سکتے۔ نفرت انتقام لے کر آتی ہے، اپنی سبقت کو مضبوط کرنے کی خواہش، اور دشمن کو زیر کرنے کی تمنا بھی اس کے ساتھ آتی ہیں۔ نفرت صرف نئی حکومتوں کی بنیاد ہو سکتی ہے، اگر کوئی جیت جائے، لیکن یہ انارکیت کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔

بدقسمتی سے، افتادگان کی نفرت سمجھ میں بھی آتی ہے، وہ جن کے جذبات اور جسموں نے معاشرے کی طرف سے صرف کرب اور عذاب دیکھا ہے: بہرحال، جیسے ہی جس جہنم میں وہ رہتے ہیں وہ ایک ارفع اور اعلی تصور سے روشن ہو جاتا ہے، نفرت غائب ہو جاتی ہے، اس کی جگہ اجتماعی بہبود کے لڑنے کا ایک جذبہ لے لیتا ہے۔

اسی وجہ سے ہمارے ساتھیوں میں سچی نفرت کرنے والے نہیں ملیں گے، البتہ اس سے متعلق لفاظی کرنے والے بہت ہیں۔ وہ شاعر کی طرح ہیں، جو کہ ایک اچھا اور پرسکون باپ ہوتا ہے، لیکن وہ نفرت کے گیت اس لیئے گاتا ہے کیونکہ ایسا کرنا اس سے اچھے مصرعے ترتیب دینے کا موقع میسر ہوتا ہے۔۔ یا شاید برے مصرعے۔ وہ نفرت کی بات ضرور کرتے ہیں، لیکن ان کا نفرت محبت سے بنا ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے میں ان سے محبت کرتا ہوں، بے شک وہ مجھے گالیوں سے نوازتے رہیں۔


بشکریہ: مارکسٹس انٹرنیٹ ارکائیو

Class struggle or class hatred?

Errico Malatesta

(September 1921)

اردو میں پڑھنے کیلئے کلک کریں

I expressed to the jury in Milan some ideas about class struggle and proletariat that raised criticism and amazement. I better come back to those ideas.

I protested indignantly against the accusation of inciting to hatred; I explained that in my propaganda I had always sought to demonstrate that the social wrongs do not depend on the wickedness of one master or the other, one governor or the other, but rather on masters and governments as institutions; therefore, the remedy does not lie in changing the individual rulers, instead it is necessary to demolish the principle itself by which men dominate over men; I also explained that I had always stressed that proletarians are not individually better than bourgeois, as shown by the fact that a worker behaves like an ordinary bourgeois, and even worse, when he gets by some accident to a position of wealth and command.

Such statements were distorted, counterfeited, put in a bad light by the bourgeois press, and the reason is clear. The duty of the press paid to defend the interests of police and sharks, is to hide the real nature of anarchism from the public, and seek to accredit the tale about anarchists being full of hatred and destroyers; the press does that by duty, but we have to acknowledge that they often do it in good faith, out of pure and simple ignorance. Since journalism, which once was a calling, decayed into mere job and business, journalists have lost not only their ethical sense, but also the intellectual honesty of refraining from talking about what they do not know.

Let us forget about hack writers, then, and let us talk about those who differ from us in their ideas, and often only in their way of expressing ideas, but still remain our friends, because they sincerely aim at the same goal we aim at.

Amazement is completely unmotivated in these people, so much so that I would tend to think it is affected. They cannot ignore that I have been saying and writing those things for fifty years, and that the same things have been said by hundreds and thousands of anarchists, at my same time and before me.

Let us rather talk about the dissent.

There are the “worker-minded” people, who consider having callous hands as being divinely imbued with all merits and all virtues; they protest if you dare talking about people and mankind, failing to swear on the sacred name of proletariat.

Now, it is a truth that history has made the proletariat the main instrument of the next social change, and that those fighting for the establishment of a society where all human beings are free and endowed with all the means to exercise their freedom, must rely mainly on the proletariat.

As today the hoarding of natural resources and capital created by the work of past and present generations is the main cause of the subjection of the masses and of all social wrongs, it is natural for those who have nothing, and therefore are more directly and clearly interested in sharing the means of production, to be the main agents of the necessary expropriation. This is why we address our propaganda more particularly to the proletarians, whose conditions of life, on the other hand, make it often impossible for them to rise and conceive a superior ideal. However, this is no reason for turning the poor into a fetish just because he is poor; neither it is a reason for encouraging him to believe that he is intrinsically superior, and that a condition surely not coming from his merit or his will gives him the right to do wrong to the others as the others did wrong to him. The tyranny of callous hands (which in practice is still the tyranny of few who no longer have callous hands, even if they had once), would not be less tough and wicked, and would not bear less lasting evils than the tyranny of gloved hands. Perhaps it would be less enlightened and more brutal: that is all.

Poverty would not be the horrible thing it is, if it did not produce moral brutishness as well as material harm and physical degradation, when prolonged from generation to generation. The poor have different faults than those produced in the privileged classes by wealth and power, but not better ones.

If the bourgeoisie produces the likes of Giolitti and Graziani and all the long succession of mankind’s torturers, from the great conquerors to the avid and bloodsucking petty bosses, it also produces the likes of Cafiero, Reclus and Kropotkine, and the many people that in any epoch sacrificed their class privileges to an ideal. If the proletariat gave and gives so many heroes and martyrs of the cause of human redemption, it also gives off the white guards, the slaughterers, the traitors of their own brothers, without which the bourgeois tyranny could not last a single day.

How can hatred be raised to a principle of justice, to an enlightened spirit of demand, when it is clear that evil is everywhere, and it depends upon causes that go beyond individual will and responsibility?

Let there be as much class struggle as one wishes, if by class struggle one means the struggle of the exploited against the exploiters for the abolition of exploitation. That struggle is a way of moral and material elevation, and it is the main revolutionary force that can be relied on.

Let there be no hatred, though, because love and justice cannot arise from hatred. Hatred brings about revenge, desire to be over the enemy, need to consolidate one’s superiority. Hatred can only be the foundation of new governments, if one wins, but it cannot be the foundation of anarchy.

Unfortunately, it is easy to understand the hatred of so many wretches whose bodies and sentiments are tormented and rent by society: however, as soon as the hell in which they live is lit up by an ideal, hatred disappears and a burning desire of fighting for the good of all takes over.

For this reason true haters cannot be found among our comrades, although there are many rhetoricians of hatred. They are like the poet, who is a good and peaceful father, but he sings of hatred, because this gives him the opportunity of composing good verses … or perhaps bad ones. They talk about hatred, but their hatred is made of love.

For this reason I love them, even if they call me names.


Courtesy: Marxists’ Internet Archive

مگسی نواب اور بلوچستان کا طبقاتی جبر

زمین کی ملکیت وہ بنیاد ہے جس پر قبائلیت کے چوغے میں جاگیرداری نظام بلوچستان کے وسیع اور زرخیز میدانوں میں نہ صرف قائم ہے بلکہ ظلم کے نہ بیان ہونے والے داستان رقم کر رہا ہے۔ برطانوی سامراج کے وفادار سردار و نوابوں کی باقیات اسی ملکیت کی بنیاد پر بلوچ سماج پر اپنی بالادستی قائم کیئے ہوئے ہیں ۔ زمین کی ملکیت اور اسکی پیداوار میں شرکت کا کوئی بھی دعوی ان کی بالادستی پر برائے راست حملہ ہے کیونکہ وہ دعوی ان بنیادوں پر حملہ کرتا ہے جن پر بالادستی اور ظلم و جبر کا سارا نظام قائم ہے۔ جھل مگسی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں زمین پر مگسی نوابوں کا قبضہ اور ان کے اور کسان خاندانوں کے درمیان جبر کا رشتہ بلوچ سماج میں موجود جاگیرداری رشتوں کی خالص شکل میں عیاں ہوتی ہے۔

قبائلی نظام بلوچ قوم کے سماجی ارتقاء کے ایک مخصوص مرحلے میں وجود میں آئی جس کا بنیادی مقصد قبائل کو قیادت فراہم کرنے کے ساتھ قبائل کی مشترکہ معاشی و سماجی مفادات کا تحفظ، اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنا اور قبائل میں انصاف کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر قائم رکھنا تھا۔ ابتدائی عہد میں قبائلیت کی بنیاد زرعی زمین اور چراگاہوں کی مشترکہ ملکیت پر ہوتی تھی اور قیادت کا چناؤ جمہوری عمل کے زریعے ہوتا تھا۔ قبیلے کے افراد ملکر ایک قابل، سمجھدار، اور بہادر شخص کو سردار کی زمہ داری سونپ دیتے تھے۔ یوں سردار کا عہدہ ایک رعایت یا استحقاق ہونے کے بجائے زمہ داری ہوتی اور اس کے کمزور یا طاقتور ہونے کا دارومدار سردار کی نجی ملکیت کے بجائے قبائلی عوام کے اعتماد پر ہوتا۔

عوام کی حمایت اور مشترکہ ملکیت پر کھڑی یہ جمہوری نظام جو اپنے ابتدائی دنوں میں قدیم کمونزم کی خصوصیات رکھتی تھی مختلف اندرونی اور بیرونی عوامل کے زیر اثر سردار کے ہاتھوں نجی ملکیت کے ارتقاز پر منتہج ہوا اور سردار اپنے طاقت کیلئے قبیلے کی حمایت کے بجائے نجی ملکیت پر انحصار کرنے لگے۔ برطانوی سامراج نے قبائلی سماج کی سابقہ ترقی پسند اور جہوری روایات کو مکمل طور پر لپیٹ کر قبائلیت کو ایک استحصالی نظام میں تبدیل کر دیا ۔ سردار وں کے ساتھ بالادست طبقے میں نواب کے ٹائٹل کا اضافہ ہوا۔ سردار اور قبائلی عوام کے درمیان عزت و احترام اور برابری کا رشتہ حاکم اور محکوم کے رشتے میں تبدیل ہو گیا۔ برٹش راج نے 1901 میں فرنٹیرز کرائمز ریگولیشن نافذ کرکے سرداروں کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ ان کو مالی مفادات اور بڑی بڑی جاگیروں سے نوازا۔ اس طرح سرداروں کے ہاتھوں دولت کے ارتکاز کا جو عمل تاریخی طور پر سست روی سے جاری تھا اسے انگریز سامراج نے ایک تاریخی جست کے زریعے باقائدہ طور پر جاگیرداری بنیادوں پر استوار کر لیا۔

انگریز سامراج کے اس خطے سے نکلنے کے بعد ان کے جانشین فوجی و سول حکمران طبقے نے اپنی غیر جمہوری تسلط کو برقرار رکھنے کے لے قبائلی سرداری نظام کو تقویت دی اور انگریزوں کی طرح عوام کو دبانے کے لے سرداروں کو معاشی, سیاسی, انتظامی اور سماجی حوالے سے طاقتور بنا دیا۔ جس سے بلوچستان میں نہ صرف جمہوری روایات پنپ نہ سکے بلکہ صوبے میں سماجی, انسانی اور معاشی ترقی بھی نہ ہوسکی۔ انگریزوں اور ان کے بعد سول و فوجی اشرافیہ کے زیر دست زمین اور دوسرے زرائع پیداوار پر سرداروں اور نوابوں کی بالادستی مزید مستحکم ہو گئی اور اسطرح بلوچ سماج کی طبقاتی بنیادیں استوار ہوئی ۔ اس طبقاتی تقسیم کے ایک سرے پر سردار، نواب ان سے منسلک پیداگیر گروہ اکھٹا ہونے لگے تو دوسرے سرے پر بزگر شوان، روزنداری پر کام کرنے والے محنت کش اور کم سے کم اجرت پر گزارہ کرنے والا ملازم طبقہ جن کے پاس اپنے محنت بیچنے کے علاوہ باقی تمام سابقہ قبائلی زرائع پیداوار مسدود ہوتے گئے۔

سردار و نوابوں اور فوجی و سول بیوروکریسی کی ملی بھگت سے بلوچستان کی سیاست، معیشت، انتظامیہ سمیت تمام شعبوں میں گزشتہ 73 سالوں سے اصلاحات کا رستہ منظم طریقے سے روکا ہوا ہے جس سے بلوچستان کے عوام اکیسویں صدی میں بھی زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں جبکہ عدل کا مساویانہ نظام، سیاسی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہی محال ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ ریاست کے برعکس جس کاایک فریضہ سرمایہ دارانہ طرز پیداوار کے سامنے حائل رکاوٹوں کا ہٹانا ہے بلوچستان جیسے خطوں میں قدیم طرز پیداوار اور بالادستی کے روایتی ڈھانچوں کا سہارہ لینے پر مجبور ہے۔ بلکہ ریاست بہت سی جگہوں پر اپنے کردار سے دست بردار ہوجاتی ہے اور یہی سردار و نواب ریاست کا روپ دھار لیتے ہیں۔

بلوچستان میں جھل مگسی ایک ایسا ہی علاقہ ہے جہاں نسلوں سے قبائلی حکمران خاندان اپنے آپ میں ریاست بن چکی ہے۔ انتظامی و عدالتی عہدے دار ملکی قانون کی پابند ہونے کے بجائے مقامی نوابوں کے احکامات پر عمل پیرا ہیں۔ جھل مگسی کا شمار بلوچستان کے پسماندہ ترین اضلاح میں ہوتا ہے جہاں پسماندگی معاشی ڈھانچوں سے نکل کر سماجی اور سیاسی ڈھانچوں میں سراعیت کر چکی ہے۔ زرعی زمینوں پر قبضہ، تشدد، خواتین کا اغوا اور غیرت کے نام پر قتل معمول کے واقعات ہیں۔ تمام زرعی زمینیں تقریبا نواب خاندان کے قبضے میں ہیں جنہیں بھائیوں نے آپس میں تقسیم کیا ہوا ہے اور ان کی منشا کے بغیر کوئی بھی خاندان زمین پر رہنے اور محنت مزدوری کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ سالوں زمین پر آباد خاندانوں کو بے گھر کرنا اور ان سے جدی پشتی زمینیں ہتھیانا ان کیلئے بڑی بات نہیں۔ ریاست کے نوابوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی وجہ بنیادی انسانی حقوق جن کی ضمانت ملکی آئین دیتا ہے سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔ اسی طرح سیاسی اختلاف کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔ 2013 میں مگسی نوابوں کے خلاف آزاد امیدوار عبدلفتاح مگسی کا دن دہاڑے قتل اور ان کے قتل میں نامزد ملزمان کے خلاف ریاست کی خاموشی ایک واضح مثال ہے ۔

طاقتور نواب خاندان کی جانب سے زمین پر قبضے کے خلاف بر سر احتجاج خیرالنسا اور ان کے خاندان کی کہانی نوابوں کے زیر دست عام عوام کی روز مرہ کی کہانی سے مختلف نہیں۔ ان کا تعلق جھل مگسی کے یونین کونسل میر پورسے ہے۔ میر پور بلوچستان کے ان سینکڑوں دیہاتوں میں سےایک ہے جہاں کی آبادی خشک سالی سے زرعی زمینوں کی پیداوار ختم ہوجانے کے سبب قریبی علاقوں میں ہجرت کرتے آرہے ہیں۔ خیرالنسا کے خاندان کے مطابق وہ بھی انہیں حالات سے دوچار صحبت پور ہجرت کرچکے تھے لیکن جب وہ واپس اپنی زمینوں کی طرف لوٹے تو ان پر قبضہ ہو چکا تھا۔ انہوں نے مقامی نوابوں کے اقتدار کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا اور اپنے آبائی زمینوں کی ملکیت کا حکم نامہ حاصل کر لیا ۔ لیکن عدالتی حکم نامے کے بعد انہیں زمین کا قبضہ ملنے کے بجائے مزید جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔خاندان کا سربراہ ایک جھوٹے مقدمے میں پابند سلاسل ہے اور کمسن خیر النسا کو اسی جرم میں ایک طویل مدت تک حبس بے جا میں رکھا گیا ۔متعلقہ زمین اب بھی مگسی برادران کے قبضے میں ہے اور متاثرہ خاندان بر سر احتجاج قانون کی عملداری کی دہائی دے رہا ہے۔

جھل مگسی سمیت بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں جاگیردار نوابوں اور سرداروں کے زیر دست کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کی زمین سے بے دخلی، اغوا اور قتل کوئی نئی بات نہیں۔ سرکار کے ہم پلہ قبائلی سردار و نواب بلوچستان میں بسنے والے محکوم عوام کے ساتھ ہر روز ایسے واقعات کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کام کیلئے انہیں حکومتی مشینری دستیاب ہے جبکہ طبقاتی نظام عدل جس کے شکنجے میں ایک غریب روٹی چوری کرنے کے جرم میں سالوں سڑتا رہا ہے مگر طاقتور نواب اور ان کی اولادیں جسمانی تشدد، اغوا اور قتل جیسے سنگین جرائم کر کے بھی دندناتے پھرتے ہیں۔ایسے واقعات ریاست کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں جو اپنے آئین اور قانون پر عمل درآمد نہیں کرواسکتا ہے اور اپنی وجود کو برقرار رکھنے کے لیئے سماج کے اندر موجود جابر اور استحصالی قوتوں کا سہارا لیتا ہے ۔ ان قوتوں کے خلاف مختلف شکلوں میں ابھرنے والی سیاسی مزاحمت اسی جبر کا رد عمل ہے جس کے رجحانات بلوچستان میں آئے روز دیکھے جاسکتے ہیں۔

بلوچستان کے زرعی علاقوں میں دولت کی سرداروں اور نوابوں کے ہاتھوں ارتکاز کی ایک شکل زمین کی ملکیت کا ارتکاز ہے جہاں پر طاقتور قبائلی ایلیٹ ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے اپنے مقبوضہ زمین کی حدود میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ پٹ فیڈر جیسے نہری آبپاشی نظام نے پہلے سے بنجر زمینوں کی قدر یکدم تبدیل کردی ہے جس سے ان بالادست سردار و نوابوں کے لیئے زمیں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جسے وہ کہیں پر قانون اور اسے نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے قبضہ کر رہے ہیں تو کہیں پر نجی کارندوں کے ہاتھوں لوگوں کو زرائع پیداوار سے بے دخلی کی شکل میں۔ اس طبقاتی تقسیم کے ایک جانب سردار و نوابوں کے ہاتھوں زرائع پیداوار کا تیزی سے ارتکاز اور بے گھر اور بے آسرا عوام کی تعداد میں اتنی ہی تیزی سے اضافہ ایک بڑھتے ہوئے طوفان کا پیش خیمہ ہے جس کے بطن سے مزاحمت اور انقلاب کی نئی شکلیں پھوٹ سکتی ہیں۔ زرائع پیداوار پر قابض سرداروں اور زمین سے بے دخل عوام کے درمیان تصادم کی شکل اختیار کرتے تضاد کا واحد انقلابی حل زرعی ملکیت کی از سرے نو تقسیم ہے ۔ اس تقسیم کی ایک شکل زرعی اصلاحات ہو سکتی ہیں۔ البتہ ریاست پر غالب سردار اور نواب جو کہ خود اس تضاد کے پیداوار ہیں ان سے زرعی اصلاحات کا مطالبہ ایک سہانے خواب کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس تضاد کو اسی طبقے کے ہاتھوں حل ہونا ہے جس کے منہ سے نوالہ، سر سے چھت اور پیروں تلے زمیں چھین لی گئی ہے ۔ جن کے پاس مارکس اور اینگلز کے الفاظ میں “کھونے کے لئے زنجیروں کے علاوہ کچھ نہیں”۔ یہی طبقہ بلوچستان میں طبقاتی جد وجہد اور سماجی انقلاب کے علمبردار ہیں جس کیلئے ضروری ہے کہ زمین سے بے دخل عوام طبقاتی شعور کی جانب گامزن ہوں اور دیگر پسے ہوئے طبقات کے سا تھ متحد ہو جائیں اور مراعات یافتہ قومی بورژواوزی قیادت کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے سماجی و معاشی برابری اور انصاف کے انقلابی جد وجہد کی قیادت خود کرتے ہوئے اسے منزل مقصود تک پہنچائیں ۔