Tag Archives: Class Conflict

طبقاتی جدوجہد یا طبقاتی نفرت؟

ایرّیکو مالتیستا (ستمبر۱۹۲۱) / ترجمہ: بی ایم آر

Click to read in English

میں نے میلان میں جیوری ( ججوں کی کمیٹی ) کے سامنے طبقہ اور پرولتاریہ سے متعلق چند خیالات کا اظہار کیا تھا جس پہ تنقید اورحیرت کا اظہار کیا گیا۔ یہ بہتر رہے گا کہ میں ان کا جواب دوں۔

میں نے اپنے خلاف نفرت ابھارنے کے الزام کے خلاف شدت سے احتجاج کیا؛ اور اس بات کی وضاحت کی کہ میں نے اپنے پرچار میں ہمیشہ یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماجی برائیاں ایک یا دوسرے آقا کی بد کرداری اور ظلم، ایک یا دوسرے حاکم پر منحصر نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا انحصار حکمرانوں اور حکومتوں کے بطوراداروں کے ہوتا ہے؛ اسی لیئے، علاج بھی انفرادی حاکموں کو بدلنے میں نہیں ہے، بلکہ یہ اہم ہے کہ اس اصول کو نیست و نابود کیا جائے جس کے ذریعے انسان دوسرے انسانوں پر غلبہ حاصل کرتا ہے؛ اورمیں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ میں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پرولتاری انفرادی طور ( شخصی طور پر) بورژوا سے بہتر نہیں ہوتے، جیسا کہ اس حقیقت سے عیاں ہے کہ ایک کارکن ( بہ معنی کام کرنے والا) ایک عام بورژوا کی طرح برتاوٗ کرنے لگتا ہے، یا اس سے بھی بدتر طور سے، جب وہ حادثاتی طور پر دولتمند یا طاقتور ہو جاتا ہے۔

ایسی بیانات کو توڑا مروڑا گیا، ان کا چربہ بنایا گیا، بورژوا پریس کی جانب سے ان کی غلط تعبیر کی گئی، اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ اس پریس کی، جسے، پولیس اور دھوکہ بازوں کے مفادات کی تحفظ کے لیئے پیسے دیئے جاتے ہیں، کا فرض بنتا ہے کہ وہ انارکزم کی حقیقت کو لوگوں سے چھپائیں اور کوشش کریں کہ اس کہانی کو تقویت دیں کہ انارکست نفرت سے بھرے غارتگر ہیں؛ پریس اپنا فرض سمجھ کر یہ کرتی ہے، لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ کبھی کبھی وہ یہ اچھی نیت کے باوجود بھی کرلیتے ہیں، وہ ایسا اپنی لاعلمی کی وجہ سے کرتے ہیں۔ چونکہ، صحافت، جو ایک مقدس بلاوے کی طرح تھا، اب محض نوکری یا کاروبار میں بگڑ کر تبدیل ہو چکا ہے۔ صحافی اخلاقی حس کھونے کے ساتھ ساتھ دانشوارانہ ایمانداری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو ان چیزوں کے بارے میں بات کرنے کے حوالے سے انسان کو روکتی ہے جس سے وہ لا علم ہو۔

چلیں ہم زر خرید لکھاریوں کو بھول جاتے ہیں، اور ان کی بات کرتے ہیں جو ہم سے مختلف خیالات رکھتے ہیں، اکثر فقط خیالات کے اظہار کے طریقوں میں ان کا اور ہمارا فرق ہوتا ہے، لیکن وہ ہمارے دوست رہتے ہیں کیونکہ ان کا اور ہمارا مقصد ایک ہوتا ہے۔ ان لوگوں کی حیرانگی کا کوئی جواز نہیں ہے، اس حد تک کہ میں سوچتا ہوں کہ شاید کوئی بیرونی عنصر ان پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ وہ اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ میں یہ چیزیں پچاس سالوں سے لکھ اور بول رہا ہوں، اور یہی چیزیں سینکڑوں اور ہزاروں انارکست، میرے عہد میں، اور مجھ سے پہلے کہہ چکے ہیں۔

چلیں اختلاف پر بات کر لیتے ہیں۔

کچھ کارکن زہنیت کے لوگ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ کھردرے ہاتھوں کا ہونا الہامی طور پرانھیں تمام اچھائیوں سے لبریز کر دیتی ہے؛ وہ احتجاج پر اتر آتے ہیں اگر آپ نے یہ جرات کی کہ آپ لوگوں کی، اور انسانیت کی بات کریں، اور اگر آپ پرولتاریہ کے مقدس نام کی قسم کھانے میں ناکام ہوں۔

اب، یہ سچ ہے کہ تاریخ نے پرولتاریہ کو سماجی تبدیلی کا بنیادی آلہ بنایا ہے، اور وہ لوگ جو ایک ایسے سماج کی تعمیر و تشکیل کے لیئے لڑ رہے ہیں جہاں تمام انسان آزاد ہوں، اور انہیں اپنی آزادی کے اظہار کے لیئے تمام زرائع دستیاب ہوں، انھیں بنیادی طور پر پرولتاریہ پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

ابھی تلک، قدرتی وسائل اوراس سرمائے کی ذخیرہ اندوزی، جسے آج اور گذشتہ کل کی نسلوں نے تخلیق کیا، لوگوں کی محکومیت اور سماجی برائیوں کی زمہ دار ہے، یہ بات پھر قدرتی ہے کہ جن کے پاس کچھ نہیں، وہ لوگ براہ راست اور واضح طریقے سے پیداوار کے زرائع کو تقسیم کرنے میں دلچسپی رکھیں گے، اور وہی ظبطگی کے بنیادی ایجنٹ ہوں گے۔ اسی لیئے ہم اپنے پروپگینڈہ میں پرولتاریوں سے مخاطب ہوتے ہیں، جن کی حالت زندگی دوسری جانب، اس بات کو مشکل بنا دیتی ہے کہ وہ ایک اعلی آئیڈیل کی تخلیق اور تشکیل کر سکیں۔ البتہ، اس سب کے باوجود کوئی وجہ نہیں ہے کہ غریب کو ایک فیٹش میں تبدیل کیا جائے؛ اور نا ہی اس کو ان کے اندرنفسی طور پر برتری کے احساس کا سبب بنایا جانا چاہیے کہ کوئی بھی صورتحال جو ان کے اپنے کردار یا ان کے ارادوں سے نہ نکلتی ہو، انھیں یہ حق نہیں دیتی ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ غلط طریقے سے پیش آئیں، اس برے سلوک کے بدلے جو ان کے ساتھ روا رکھا گیا تھا۔ چھالہ زدوہ ہاتھوں کا جبر( جو کہ عملاّ تب چند ایسے لوگوں کا جبر بن جاتا ہے جن کے ہاتھ مزید چھالہ زدہ نہیں ہوتے)، کم سخت، اور برا نہیں ہوتا، اور کہ یہ دستانے پہنے ہووّں کے جبر سے کم بدیوں کو جنم دینے والا بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ، یہ کم بصیرت والا اور زیادہ ظالمانہ ہوتا ہے: فقط اتنی سی بات ہے۔

غربت شاید اتنی ہولناک چیز نہ ہوتی، اگر یہ اخلاقی سفاکیت، مادی نقصان، اور جسمانی تنزلی کا باعث نہ بنتی، خاص طور پرجب یہ نسلوں تک چلتی ہے۔ غریبوں میں مراعات یافتہ طبقے کے مقابلے، جن میں برائی دولت اور طاقت کی فراوانی سے پیدا ہوتی ہیں، میں الگ قسم کی علتیں ہوتی ہیں، لیکن غریبوں کے عیب بس الگ ہوتے ہیں، بہتر نہیں۔

اگر بورژوا میں سے جولیٹی، گرازیانی، اورانسانیت پر ظلم کرنے والوں کی لمبی فہرست گزری ہے جن میں عظیم الشان فاتحوں سے لے کر نچلے درجے کے روز مرہ کے آقا شامل ہیں، وہیں دوسری طرف کیفیارو، ریکلس، اور کروپاٹکین جیسے لوگ جنھوں نے ہر عہد میں اپنے طبقاتی مراعات اس لیئے قربان کیئے کہ انسانیت کی جان خلاصی ہو بھی اسی طبقے سے ( یعنی بورژوازی) سے نکلے ہیں۔ اسی طرح سے، اگر پرولتاریہ نے انسانیت کی خاطر بے شمار شہید اور ہیرو دیئے ہیں، اسی طبقے سے وائیٹ گارڈز بھی نکلے، ایسے قصاب جواپنے ہی بھائیوں کا قتل عام اور ان سے غداری کرتے رہے، جن کے بغیر بورژوا ظلم ایک دن بھی نا چل سکتا۔

نفرت کو کس طرح انصاف کے اصولوں کے متبادل کے طور پر کھڑا کیا جا سکتا ہے، جبکہ انصاف کی مانگ ہی روشن فکری کا متقاضی ہے، اور یہ واضح ہے کہ بدی ہرسو ہے، اور برائی کے وجود کی وجوہات شخصی خواہشات اور زمہ داریوں سے اس پار جاتی ہیں؟

اگر طبقاتی جدوجہد سے مراد جابروں کے خلاف استحصال زدہ لوگوں کی جدوجہد ہے تاکہ استحصال کا خاتمہ ہو، تو بے شک طبقاتی جہدوجہد ہوتی رہے۔ بلاشبہ یہی جدوجہد، اخلاقی اور مادی بلندی کا راستہ ہے، اور یہی مرکزی انقلابی قوت ہے جس پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔

لیکن نفرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ پیار اورانصاف نفرت سے جنم نہیں لے سکتے۔ نفرت انتقام لے کر آتی ہے، اپنی سبقت کو مضبوط کرنے کی خواہش، اور دشمن کو زیر کرنے کی تمنا بھی اس کے ساتھ آتی ہیں۔ نفرت صرف نئی حکومتوں کی بنیاد ہو سکتی ہے، اگر کوئی جیت جائے، لیکن یہ انارکیت کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔

بدقسمتی سے، افتادگان کی نفرت سمجھ میں بھی آتی ہے، وہ جن کے جذبات اور جسموں نے معاشرے کی طرف سے صرف کرب اور عذاب دیکھا ہے: بہرحال، جیسے ہی جس جہنم میں وہ رہتے ہیں وہ ایک ارفع اور اعلی تصور سے روشن ہو جاتا ہے، نفرت غائب ہو جاتی ہے، اس کی جگہ اجتماعی بہبود کے لڑنے کا ایک جذبہ لے لیتا ہے۔

اسی وجہ سے ہمارے ساتھیوں میں سچی نفرت کرنے والے نہیں ملیں گے، البتہ اس سے متعلق لفاظی کرنے والے بہت ہیں۔ وہ شاعر کی طرح ہیں، جو کہ ایک اچھا اور پرسکون باپ ہوتا ہے، لیکن وہ نفرت کے گیت اس لیئے گاتا ہے کیونکہ ایسا کرنا اس سے اچھے مصرعے ترتیب دینے کا موقع میسر ہوتا ہے۔۔ یا شاید برے مصرعے۔ وہ نفرت کی بات ضرور کرتے ہیں، لیکن ان کا نفرت محبت سے بنا ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے میں ان سے محبت کرتا ہوں، بے شک وہ مجھے گالیوں سے نوازتے رہیں۔


بشکریہ: مارکسٹس انٹرنیٹ ارکائیو

طبقاتی سوال سے منکر تو کیسے؟

تحریر: مشکین بلوچ

دنیا میں تمام کلچر، زبان اور روایات وہاں کے جغرافیہ اور اور ذرائع معاش سے ہمہ وقت جڑی ہوتی ہیں۔ کارل مارکس تاریخی مادیت کو واضح الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”انسانی تاریخ دو طبقات کے بیچ تضادات و کشمکش کی تاریخ ہے۔ جب دو طبقات اپنے درمیان عدل نہیں کر سکے تو ان کے بیچ اس تضاد نے نئے نظام کی بنیاد رکھی ہے۔“

اس بات سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے کہ صنعت کی بلندی سے ذرائع پیداوار کو ایک ہی بلڈنگ کے اندر اور ترسیل کو دنیا کے اندر تک پھیلایا گیا جس میں شروعات میں تو یہ تضاد چونکہ موجود تھا جبکہ انسانی زندگی میں مسلسل بہتری کی وجہ سے اظہار نہیں ہو سکا۔ جیسے جیسے بحران بڑھتا گیا تو بحران شدید تر ہوتا گیا اور سرمایاداری کے نامیاتی بحران میں یہ وحشت ناک شکل اختیار کر گیا جس نے نہ صرف صنعتی شہروں میں ہلچل مچا دی بلکہ نیم صنعتی اور ذراعت کے شعبے تک پہنچ گئی۔ آج دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی ذد میں پوری دنیا آچکی ہے۔

سرمایہ داری کی بحران کا اظہار دنیا کے ہر کونے میں اپنے بساط اور کردار کے مطابق ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں کسانوں کی بڑی تعداد نے ٹریکٹر مارچ کا آغاز کرکے مودی اینڈ کمپنی حکومت کو مفلوج کردیا ہے۔ امریکہ جیسے عظیم طاقت ریاستوں میں بلیک لائیوز میٹر کے نام پر عوام اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس طرح مشرق میں بھی عرب اسپرنگ کے بعد اٹھنے والی مسلح اور عوامی تحریکیں تھم نہ سکی ہیں۔ ان دو دہائیوں میں دنیا بھر میں مختلف تحریک مرحلہ وار ابھرتے رہے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے انقلابی قیادت کی عدم موجودگی کی وجہ سے ذائل ہو گئے ہیں۔

اس طرح بلوچستان میں ساحل و وسائل کے مالک بلوچ عوام پے در پے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتی رہی ہے جہاں شروعات میں سرداروں نے اس تحریک کی سربراہی کی اور قبائلی طرز پر تحریک کے دائرے محدود تھے۔ قبائلی داخلی تضادات کے اردگرد ہی اتحاد اور تحریک کا رویہ چلتا رہا جبکہ تیسرے مرحلے میں اس تحریک کی قیادت عام بلوچ مڈل کلاس کے ہاتھ آگیا اور قومی تحریک مسلح اور غیر مسلح بنیادوں پر چلتا رہا۔ مختلف رکاوٹوں کے باوجود تحریک کمزور ضرور ہوا لیکن خاتمہ نہ ہو سکا۔

بلوچستان میں چلنی والی تحریک براہ راست تو قومی تحریک تھی لیکن اس میں ایندھن طبقاتی ہی رہی ہے۔ قیادت اگر اوپر کے طبقے کے پاس رہا تو نیچے کارکن ہمیشہ نچھلا طبقہ ہی رہا اور سیاست بھی اسی نچھلے طبقے کے ارد گرد رہا ہے۔ اور اس تحریک میں اگر کوئی دلیل دیا جاتا تو اسی نچھلے طبقے کی”نت شپادی، بزگی، لاچاری، لنگڑی“کا چہرہ دنیا کو دکھا کر تحریک کے لیے سفارتکاری کی گئی ہے۔اس تحریک کی کامیابی بھی سن اکہتر کے بعد نچھلے طبقے کو شامل کرنے بعد زیادہ زور پکڑتا گیا اور تحریک کی منشور کا جائزہ لیا جائے تو منشور نچھلے طبقے کی ہی ہے۔ اب یہاں بات یہ آتی ہے کہ دانشور مسلسل قومی تحریک اور طبقاتی سوال کو آپس میں متصادم قرار دیتے ہیں جبکہ یہ دونوں ازل سے ایک دوسرے کے ساتھ انٹر لنکڈ ہیں۔بلوچ قومی تحریک میں بلوچ نچھلے طبقے کی بات کرکے نچھلے طبقے کے بلوچ کو بنیاد بنا کر مسلسل جڑت قائم کی جاتی رہی ہے۔ تو اس تحریک پر طبقاتی سوال واضح اور غالب ہے۔

یہاں طبقاتی سوال کو صرف چند سرداروں کی چند مثال پیش کرکے جٹلایا جاتا ہے کہ یا ان کے چند قربانیوں سے غیر طبقاتی جدوجہد قرار دیتے ہیں بلکہ اوپر کے طبقے کو برابر کا حصہ دار قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ جدید نوآبادیات میں ایک نئے اوپری طبقے کی جنم بھی ہوتی ہے۔ نئے میٹروپولیسس تعمیر ہوتی ہے۔ پرانے افسر شاہی کی جگہ مقامی افسر شاہی لیتی ہے۔ مقامی لوگ ہی استحصالی مشینری کے پرزے بن جاتے ہیں اور جہاں پچھلے جاگیردار کارآمد نہیں ہوتے تو نچھلے طبقے سے کچھ لوگوں کو پورا اختیار اور طاقت دے کر پرزا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں جدید نوآبادی اپنے استحصال اور ظلم کو ساختیت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

کبھی کبھار غیر صنعتی شہروں میں طبقاتی سوال کو اس لیئے بھی رد کیا جاتا ہے کہ وہاں سرمایہ داری نے ابھی تک جنم نہیں لی جبکہ دیکھا جائے تو سرمایہ داری کی منڈی وہاں موجود ہوتی ہے اور دو طبقات مکمل طور پر واضح ہوجاتے ہیں۔ لیکن وہ جدید نیولبرل چارم نظر نہیں آتا جبکہ سرمایہ داری کی نقل و حرکت جاری رہتی ہے اور کہیں خام مال بھی نکالا جاتا ہے جوکہ بنیادی طور پر سرمایہ داری کو زندہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔ جیسے دیکھا جائے خلیج میں آج تک سرمایہ دارانہ انقلاب تو برپا نہیں ہوا لیکن سرمایاداری اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اوپر اثر رسوخ کے ساتھ موجود ہیں اور ایک بہت بڑی مارکیٹ کی ترسیل بھی موجود ہے۔

تو یہاں پر بات یہ آتا ہے کہ قومی سوال میں اگر طبقاتی استحصال موجود نہیں ہوتا تو کیوں ان امیروں کے بچوں کو موضوع بنا کر پیش نہیں کیا جاتا۔ ان کے گھر اور کھانا پکاتے عورتوں کے تصویر دکھا کر ہمدردی نہیں وصول کیا جاتا، یا پریس کلب کے سامنے آئے روز آنے والے کس طبقے سے وجود رکھتی ہیں۔ لاپتہ افراد میں کس طبقے سے زیادہ لوگ ہیں۔ پوری کی پوری تحریک کا موضوعی عنصر صرف غریب اور استحصال ذدہ طبقہ ہی ہے۔ تو پھر قومی جدوجہد سے طبقاتی نقطہ کو نکالنا غیر منطقی اور ذیادتی ہے اور نا ہی اس سے انکار ممکن ہے۔


بشکریہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن