Tag Archives: یوم مزدور

یوم مئی کا پس منظر

(1894) روزا لگسمبرگ

Click to Read in English

یہ خوشنما خیال کہ مزدوروں کی چھٹی کے ایک دن کو آٹھ گھنٹے محنت کی جد و جہد کا زریعہ بنایا جائے، سب سے پہلے آسٹریلیا میں پروان چڑھا ۔ وہاں کے مزدوروں نے 1856 میں آٹھ گھنٹے محنت کے حق میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک دن ایسا مقرر کیا جائے جس دن کام مکمل بند ہو اور مزدور پورا دن میل ملاپ اور تفریع میں گزاریں۔ چھٹی اور جشن کا دن 21 اپریل مقررہوا۔ شروع میں آسٹریلیا کے مزدوروں نے صرف ایک سال یہ دن منانے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن پہلے سال ہی آسٹریلیا کے مزدوروں پر اس دن کا بے مثال اثر ہوا۔ مزدوروں میں ہمہ گیر گرمجوشی پیدا ہوئی جس سے احتجاج کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اس دن کو ہر سال منایا جائے۔

حقیقتا ہمہ گیر کام بندی جس کا فیصلہ مزدوروں نے خود کیا ہو اس سے بہتر اورکیا ہوسکتا ہے جو انہیں اپنی قوت پر اس قدر بے مثال خود اعتمادی اور جرات فراہم کرے۔ فیکٹری کے دائمی غلاموں کو اس کے علاوہ ہمت کا بہتر زریعہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی قوت خود اکھٹی کریں اور اسے اپنے ہاتھوں میں لیں۔ لہٰذہ مزدوروں کے ایک دن کا تصور فوراََ ہی مقبول ہوا اور آسٹریلیا سے دوسرے ملکوں میں پھلنے لگا یہاں تک کہ دنیا بھر کے مزدور اس سے جڑ گئے۔

آسٹریلیا کے مزدوروں کے اولین پیروکارامریکی مزدور تھے۔ 1886 میں مزدوروں نے یہ فیصلہ کیا کہ یکم مئی عالمی کام بندی کا دن ہونا چاہیئے۔ اس دن دولاکھ مزدوروں نے کام بند کیا اور محنت کے اوقات آٹھ گھنٹے کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعد میں پولیس کے جبر اور قانونی ہراسگی کے سبب کچھ سالوں تک یہ دن منایا نہیں جا سکا۔ لیکن 1888 میں مزدوروں نے ایک مرتبہ پھر فیصلہ کیا کہ یکم مئی 1890 کو مزدوروں کے دن کے طور پر منایا جائیگا۔

اسی دوران یورپ میں مزدور تحریک مضبوط اور متحرک ہو چکی تھی۔ 1889 کے انٹرنیشنل ورکرز کانگریس میں تحریک کے مضبوطی کا پر جوش مظاہرہ ہوا۔ اسی کانگریس میں جس میں چار سو مندوبین شریک ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آٹھ گھنٹے کام کا دورانیہ اولین مطالبہ ہونا چائیے۔ بعد ازاں فرانسیسی یونین کے مندوبین نے یہ تجویز دی کہ اس مطالبے کو دنیا بھرمیں پھیلایا جائے جس کیلئے ایک دن عالمی سطح پر کام بندی کیا جائے۔ امریکی مندوبین نے اپنے کامریڈز کی جانب سے یکم مئی 1890 کو ہڑتال کا فیصلہ سامنے رکھا جس پر کانگریس نے فیصلہ کیا کہ اس دن کو عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جائیگا۔

اس طرح پہلی عالمی یوم مزدور سے تیس سال قبل آسٹریلیا کے مزدوروں نے صرف ایک دن مزدوروں کے نام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انٹرنیشنل ورکرز کانگریس نے فیصلہ کیا کہ کام کے اوقات کو آٹھ گھنٹے کرنے کے مطالبے کے حق میں یکم مئی 1890 کو دنیا بھر کے مزدور احتجاجی مظاہرے کریں گے۔ کسی نے بھی اگلے سال اس دن کو دوبارہ منانے کے بات نہیں کی۔ کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ کس تیزی کے ساتھ یہ تصورعام ہوجائیگا اوراسے مزدوروں کی مقبولیت ملی گی۔ البتہ، یہ محسوس کرنے اور سمجھنے کیلئے کہ یوم مئی ہر سال منایا جائے اس کیلئے ایک یوم مئی کا تجربہ ہی کافی تھا۔

پہلے یکم مئی کا مطالبہ تھا کہ مزدوری کا دورانیہ آٹھ گھنٹے کیا جائے۔ لیکن یہ مطالبہ منظور ہونے کے بعد بھی یکم مئی کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ جب تک بورژوازی اور بالادست طبقات کے خلاف مزدوروں کی جد و جہد جاری ہے اور جب تک تمام مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہر سال یوم مئی پر یہ مطالبات دوہرائے جائینگے۔ اور جب بہتر دنوں کا سورج طلوح ہوگا ،جب دنیا بھر کے مزدور اپنی دکھوں کا مداوا دیکھیں گے ،تب ماضی کی تکالیف اور سخت جد و جہد کے اعزاز میں عالم انسانیت یوم مئی منائے گئی۔


بشکریہ: مارکسسٹس انٹرنیٹ ارکائیو