Category Archives: اردو

کریمہ : انقلاب کی ایک داستان

گزشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان جن تاریخی تبدیلیوں سے گزرا ہے ان میں عورت کے روایتی کردار کی تبدیلی اہم ترین تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ بلوچ عورت جس کی بہادری کے قصے اکثر اساطیری کہانیوں کے حوالوں سے مردوں کی زبانی بیان ہوتی تھی پہلی مرتبہ سیاسی منظر نامہ پر انقلاب کے نعرے کے ساتھ نمودار ہوئی۔ بانک کریمہ ان نمایاں خواتین میں سے ایک تھیں جنہوں نے بلوچ سماج میں مرد اور عورت کے صنفی تفریق پر مبنی روایتی مقام کو چیلنج کرتے ہوئے سیاسی عمل کا مردوں کیلئے مخصوص ہونے کے تصور کو نہ صرف رد کیا بلکہ سیاست میں عورتوں کے قائدانہ کردار کی بنیاد ڈالی ۔ اپنے ہم عصر دیگر خواتین جہد کاروں کی نسبت کریمہ ایک قدم آگے گئیں ، انہوں نے بلوچستان کے کونے کونے میں عورتوں کے ساتھ روابط قائم کر کے ان میں سیاسی بیداری کا تاریخی فریضہ سر انجام دیا اور خود اس بیداری کا اور بلوچ خواتین کے اس نئے کردار کا کلیدی چہرہ بن گئیں۔ ۲۲ دسمبر کو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ان کی گمشدگی اور پراسرار حالات میں شہادت کے بعد بلوچستان بھر میں عوامی غم و غصہ اور خاص طور پر بلوچ خواتین کا ان کے ساتھ جزباتی و سیاسی وابستگی اس بیداری کا پہلا عوامی اظہار تھا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا سیاسی جبر کے ماحول کے باوجود کریمہ کیلئے احتجاجی مظاہروں کی شکل میں باہر نکلنا اس حقیقت کا غماز ہے۔

بلوچستان میں جدید قومیت کی بنیاد پر سیاست کا آغاز ایک صدی قبل پدر شاہانہ قبائلی ماحول میں مردوں کی قیادت میں ہوا۔ سیاسی اور سماجی معاملات مردوں کا دائرہ کار ہوا کرتی تھیں اور خانہ داری عورتوں کیلئے مخصوص ہوا کرتی تھی۔ سامراجی سرپرستی میں بننے والا قبائلی جرگہ سب سے اہم سیاسی ادارہ بن چکا تھا جہاں عورتوں کی کوئی نمائندگی نہ تھی اسی طرح جو سیاسی ادارے سامراجی بالادستی کی مخالفت میں مزاحمت کی عملبردار بن کر ابھرے انہوں نے بھی قبائلی عورت کی حالت زار تبدیل کرنے کیلئے کوئی ترقی پسند لائحہ عمل اپنانے کے بجائے انہی پدر شاہانہ سماجی روایات کے ساتھ ہی مزاحمتی سیاست کی بنیاد رکھی۔ اس طرح جدید بلوچ قومی سیاست اپنے ابتدا ہی سے مردوں کیلئے مخصوص سرگرمی رہی ہے ۔ اگرچہ بلوچ تاریخ میں ایسی عورتوں کے انفرادی کرداروں کو رد نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے علاقائی سطح پر یا اپنے مخصوص قبائل میں مردوں کی نسبت سیاسی اور سماجی طور پر نمایاں کردار نبھایا لیکن عوامی سطح پر سیاست اور سماجی معاملات مجموعی طور پر ہمیشہ سے مردوں کیلئے مخصوص رہے ہیں۔ خواتین کا کردار اگرچہ کچھ تاریخی واقعات میں اہم، مگر ثانوی ہی بتایا جاتا ہے۔ اول، تو ان کا ذکر ہمیں ما سوائے لوک داستانوں میں نمایاں اور تفصیلی طور پر نہیں ملتا اگر کہیں ان کی بات کی بھی گئی ہے تو فقط حاشیوں میں۔

گزشتہ نصف صدی کے دوران خاص طور پر بلوچ سماج میں ہونے والے تیز رفتار تبدیلیوں کی وجہ سے مرد اور عورت سے منسوب روایتی صنفی کردار تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہ تبدیلی خاص طور پر مکران میں واضح طور پر نظر آتی ہے جہاں قبائلی سماجی ڈھانچہ تقریباََ ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ مشترکہ خاندانی نظام نے لے لی ہے۔ بلکہ اب تو مشترکہ خاندانی نظام بھی بحران کا شکار نظر آتا ہے۔ بہرحال، قبائلی نظام کی نسبت خاندانی نظام میں سماجی اقدار کو انفرادی سطح پر نافظ کرنے کا نظام کمزور ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اندرونی معاشی یا سماجی دباؤ کی صورت میں یا کسی بیرونی دباؤ کی وجہ سے مروجہ اقدار سے انحراف ممکن ہو پا تا ہے ۔ بیسیوں صدی کے نصف کے بعد مکران کے معاشی ڈھانچے میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں نے اس انحراف کیلئے راہیں ہموار کیں۔ جبکہ عورتوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کی شکل میں غیر زرعی معاشی مواقع اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم تک رسائی نے اس انحراف کو ایک معاشی و سماجی ضرورت میں تبدیل کر دیا ۔ بلوچستان کے دیگر حصوں میں بھی ملتے جلتے اثرات کے تحت روایتی قبائلی نظام کمزور ہوا ہے ۔ معاشی و سماجی طور پر زیر دست طبقوں کیلئے سابقہ سماجی نظام سے انحراف سرکاری ملازمتوں اور قریبی شہروں یا بیرونی ممالک میں ہجرت کی شکل میں ممکن ہو پایا جس کہ وجہ سے جہاں عام لوگوں کیلئے طبقاتی حالت سدھارنے کے مواقع پیدا ہوئے وہیں عورتوں کیلئے سابقہ قبائلی نظام کے روایات سے آزادی بھی ممکن ہوئی۔

کسی بھی ماحول میں جہاں ایک طرف بدلاو اور حرکت کے ڈھانچے اور ان سے جڑے عوامل موجود ہوتے ہیں، وہیں پرانے اور متروک شدہ ڈھانچوں کی باقیات بھی موجود ہوتے ہیں جن کی زوال پزیری کے سبب سماجی ترقی کے عمل میں پیدا ہونے والا ٹھراو، بلکہ سماجی سڑاند، بیماری کی حد تک معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ سماجی تبدیلی، نئے اور پرانے ڈھانچوں کے درمیان جدل کی داستان طویل اور وقت طلب ہے اگر صدیوں کی بات نہ بھی ہو تو کم از کم دہائیاں اس میں کھپ جاتی ہیں۔ نوآبادیاتی جبر اس پسماندگی کی صورتحال میں نہ صرف ایک اضافہ ہے بلکہ اس کی وجہ سے سماج کی فطری ارتقا کی شکل تبدیل ہو جاتی ہے اور سماجی تبدیلی کا عمل اندرونی طور پر پیچیدگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ سیاسی جبر و تشدد اور طاقت کا بلا دریغ استعمال نو آبادیاتی صورتحال کی بنیاد ہیں جس سے نہ صرف زیر دست سماج اندرونی طور پر گھٹن کا شکار ہوجاتا ہے بلکہ محکوموں کی نمائندگی کرنے والے سیاسی و سماجی گروہوں میں بھی رجعتی رویوں کے فروغ کا سبب بنتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ روایتی قوم پرست سیاسی اداروں جن میں پارلیمانی پارٹیاں سرفہرست ہیں ان کی سیاسی ساخت ، تصورات اور پالیسیوں نے عمومی طور پر سماج میں روایت پرستی کو فروغ دیا جس کا اظہار ہمیں ان کی سیاست میں قبائلیت اور اس سے جڑے عورتوں کے روایتی کردار کے دفاع و فروغ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اگرچہ کہیں کہیں معاشی و سماجی حالات کے دباؤ کے تحت عورتوں کے حقوق ان پارٹیوں کے ایجنڈے میں شامل ہو جاتے ہیں یا پھر لبرل جمہوریت سے بظاہر متاثر، لیکن اس کی روح سے عاری، ریاستی آئین کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے چند عورتوں کو برائے نام نمائندگی دی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے کہ ان کی سیاست عورت کے روایتی کردار میں کسی قابل ذکر تبدیلی کا سبب نہ بنے۔ ان کی یہاں عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کا انقلابی عمل برائے نام یا ٹوکن ازم تک ہی محدود رہتا ہے اور مجموعی طور پر، کوشش یہی رہتی ہے کہ سماجی طور پر عورتوں کی زیردست حیثیت کو سیاست میں بھی انہی بنیادوں پر برقرار رکھا جاسکے تا کہ سماج میں موجود بالادستی کا نظام جس سے وہ برائے راست مستفید ہو رہے ہیں، اسی حالت میں برقرار رہے ۔ کریمہ جیسے انقلابی کرداروں کے ابھرنے کیلئے روایتی پارلیمانی قوم پرستی کے مقابلے میں ایسی سیاسی قوتوں کو ابھرنا لازم تھا جو سماج میں مروج بالادستی کے نظام کا خاتمہ چاہتی ہوں اور زوال پزیر قبائلی اقدار کا دفاع کرنے، یا اس حوالے سے شد و مد میں مبتلا ہونے کے بجائے نسبتا ترقی پسند قومی۔جمہوری اقدار وسیاست کی ترویج کریں ۔

بلوچ مزاحمتی سیاست کے حالیہ ابھار کے عروج پر بی ایس او نے جہاں دوسرے کئی روایتی سیاسی و سماجی تصورات کو مسترد کیا وہیں کریمہ کے ہاتھوں تنظیمی قیادت سونپ کر عورتوں کے سیاسی کردار کو تبدیل کرنے کیلئے وہ تاریخی کردار ادا کیا جو روایتی قوم پرست سیاست کبھی نہیں کر سکتی تھی۔ کریمہ کی قیادت اگرچہ بلوچ قومی سیاست کی پدرشاہانہ ساخت کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرپائی، لیکن عورت کے سیاسی کردار کو انقلابی بنیادوں پر تبدیل کرنے کا سبب بنی جس سے بلوچ عورتوں کیلئے سیاسی عمل میں شمولیت کیلئے نہ صرف راہیں کھلی بلکہ عورت کی قیادت کی ایک مثبت مثال بھی قائم ہوئی۔ اس قسم کی جدت پسندی جس کا مظاہرہ ہمیں مزاحمتی سیاست کے ابتدائی دنوں میں واضح نظر آتا ہےعوامی تحریکوں کے لیئے خود بھی اہم ہوتی ہے ۔ روایتی مفاد پرست سیاست کے برعکس جس کا انحصار حکمران طبقوں کی خوشنودی پر ہوتا ہے مزاحمت سیاست کی روح عوام میں بسی ہوتی ہے ۔ عوامی حمایت کی ضرورت کے پیش نظر ان کیلئے رائے عامہ کے دباؤ کو نظر انداز کرنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہوتا جس کے سبب ان میں عمومی رجحان نسبتاََ جمہوری اور ترقی پسند ہوتا ہے۔استعماری رویے کے عین متضاد!۔

استعمار اور عوام کی کشمکش، محض جنگ کے میدان میں نہیں ہورہی ہوتی، بلکہ ثقافتی میدان اس لڑائی کا ایک اہم تھیٹر ہوتا ہے۔ قابض چاہتا ہے کہ وہ ایسی اخلاقیات کو فروغ دے جس میں سماجی کنٹرول، جو کہ بنیادی طور پر اس کے غلبے کا ضامن ہے، کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ بطور ایک نوجوان لڑکی کے، کریمہ نے اپنی سیاست و شخصیت سے اگر ایک طرف بلوچ سماج کی فرسودہ روایات سے بغاوت کی تو یہ اس سے بڑھ کر استعماری روایات کی بت شکنی بھی تھی۔ جہاں سیاست کو طاقت کے غرور یا اس کی چاہ میں اندھے مردوں کا کام سمجھا جاتا ہے نہ کہ جوان لڑکیوں کا۔ کریمہ نے اپنے مکمل وجود سے ان لغو سامراجی تصورات کو یکے بعد دیگرے پاش پاش کیا اور اپنی سیاست سے غالب ثقافتی معیاروں پر سوال اٹھائے اور نہ صرف ایک متبادل دیا، بلکہ اس پر چل کر بھی دیکھایا۔ یقیناََ یہ ایک انتہائی مشکل سفر تھا، لیکن اس عمل میں کریمہ نے بےشمار ساتھی، ہمراہ، اور ہمدرد پیدا کیئے اور مختصر عرصے میں نوجوان خواتین کی ایک تحریک کھڑی کر دی۔ بلاشبہ انہوں نے تاریخ کی روانی کو نہ مساعد حالات کے باوجود ایک جاندار دھکا دیا اور تاریخ میں عورت کے انقلابی کردار کی ایک مثال پیش کی ۔ جس طرح تاریخ کی پیش رفت کے بارے میں مارکس اور اینگلز اپنے تحریر “مقدس خاندان” میں لکھتے ہیں ” تاریخ انسان کی اپنے مقاصد کے حصول کے جد وجہد کے سوا کچھ نہیں” اسی طرح کریمہ نے اپنے انقلابی کردار سے نئی تاریخ رقم کردی ۔

بلوچ خواتین کی سیاسی و سماجی آزادی کا سفر بے شک طویل ہے، جس کا آغاز سیاسی محاذ پر اگرچہ بانک کریمہ جیسے انقلابی کردار ایک دہائی قبل کر چکے ہیں لیکن سماجی سطح پر آج بھی بلوچ خواتین دوہرے جبر کا شکار ہیں ۔ اس دوہرے جبر کی ایک شکل ریاستی سطح پر قومی اور انسانی حقوق کی پامالی کی صورت میں جبکہ اندرونی طور پر بلوچ سماج کی عورت مخالف روایات اور عورتوں کیلئے یکساں مواقع کی عدم موجودگی کی شکل میں ہمیں نظر آتا ہے۔ کریمہ کی سیاسی جد و جہد اگرچہ اس دوہرے جبر کو ختم نہ کر سکی البتہ انہوں نے اپنے تاریخی کردار کے زریعے بلوچ عورت کیلئے جد و جہد کا رستہ متعین کر دیا۔ کریمہ اپنی زندگی میں ہی سینکڑوں خواتین کو صنفی اور قومی و انسانی حقوق کی جد وجہد کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ ان کی ناگہانی شہادت نے ان کی زندگی اور جد وجہد کو بلوچ عوام بلعموم اور خواتین کیلئے بلخصوص ایک ناقابل فراموش باب میں تبدیل کر دیا جو کہ آنے والی نسلوں کیلئے رہنمائی کا سبب بنےگا۔

زمین اور بقاء کا سوال: نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکس کے خیالات

Click to read in English

اسٹیو ڈارسی

اس مختصر تعرفی تحریر کا مقصد کارل مارکس کے نو آبادیات مخالف خیالات قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے جنہیں ہم چار اہم پہلوں سے دیکھنے کی کوشش کرینگے۔

مارکس کا نو آبادیاتی نظام کی اخلاقی مذمت۔
نوآبادیت کے جڑوں کا سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہونے کا مارکسی تجزیہ۔
مقامی لوگوں کے طرز زندگی اور سماج میں کارل مارکس کی دلچسپی جنہیں مارکس سرمایہ دارانہ نظام کے بعد ایک غیر سرمایہ دارانہ مستقبل کے حوالے سے ہمارے نقطہ نظر پر تنقیدی بصیرت کیلئے اہم سمجھتا تھا۔
اور آخر میں سوشلسٹ حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کی مرکزی اہمیت پر مارکس کا ٹھوس اور مدلل نقطہ نظر۔

اگرچہ مارکس کے نوآبادیات مخالف سیاست پر ایک مفصل جائزے کیلئے ضروری ہے کہ مارکسی تجزیہ کے بہت سے حدود و قیود کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے لیکن یہاں ان حدود و قیود کے بجائے ہماری توجہ ان سیاسی طور پر موثر اور سبق آموز پہلوں پر ہوگی جن پر آج بھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نو آبادیاتی نظام کا اخلاقی زوال

مارکس اپنے شاہکار کتاب ”سرمایہ“ کی پہلی جلد میں بنا کسی لگی لپٹی کے براہِ راست سرمایہ دارانہ نوآبادیاتی نظام پر بات کرتا ہے اور مقامی لوگوں بلخصوص نو آبادیاتی نظام کے زیر دست محکوم اقوام پر اس کے تباہ کن اثرات کا برملا ذکر کرتا ہے۔ مارکس نشاندھی کرتا ہے کہ ”نوآبادیاتی انتظامیہ کی تاریخ غداری، بدعنوانی، قتل عام اور کمینہ پن کے ایک غیر معمولی رشتے کی تاریخ ہے ۔“ اور جس طرع ” نو آبادیاتی نظام قدرِ زائد (یا منافع ) کو انسانیت کا سب سے اہم اور حتمی مقصد گردانتا ہے“ مارکس کھلے لفظوں “شرم اور شعور سے عاری یورپی رائے عامہ” کی مذمت کرتا ہے جس کی بنیاد پر یورپی عوام نو آبادیات میں ہونے والی نسل کشی اور لوٹ مار سے صرف نظر کرتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نوآبادیاتی نظام کے نسل کش رجحانات پر خاص طورپر بات کرتے ہوئے مارکس لکھتا ہے کہ (نو آبادیات میں)”مقامی لوگوں کے ساتھ بد ترین وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا خاص طور پر ایکسپورٹ ٹریڈ کیلئے قائم کیئے گئے پلانٹیشن کالونیوں جیسا کہ ویسٹ انڈیز میں اور امیر گنجان آباد ممالک جیسے میکسیکو اور انڈیا جنہیں مکمل طور پر لوٹ کسوٹ کے حوالے کیا گیا”۔

مارکس مزید لکھتا ہے “حتٰی کہ نام نہاد نوآبادیات میں (جنہیں آج سیٹلر کالونیز کہا جاتا ہے) پروٹسٹنٹ ازم کے نمائندوں، نیو انگلینڈ کے پیوریٹنز ، نے 1703 میں اپنے اسمبلی کے مختلف فیصلوں کے زریعے ہر انڈین شہری کو قیدی بنانے یا اسے قتل کر کے سر کے اوپری حصے کی کھال پیش کرنے پر 40 پاؤنڈ انعام مقرر کیا۔ 1720 میں اس رقم کو بڑھا کر 100 پاؤنڈ کر دیا گیا ۔ اسی طرح 1744 میں سفید فام آبادکاروں کیلئے امریکہ کے شمال مشرقی ساحل پر قائم میساچوسٹس بے کالونی کی جانب سے کسی مخصوص قبیلے کو باغی قرار دیے جانے کے بعد اس قبیلے کے افراد کو قتل یا گرفتار کرنے پر مندرجہ ذیل انعام مقرر کیا گیا۔ 12سال اور اس سے زائد عمر کے مرد کو قتل کرنے پر 100 پاؤنڈ ، کسی مرد کو قیدی بنا کر پیش کرنے پر 105 پاؤنڈ جبکہ کسی عورت یا بچے کو قیدی بنانے یا قتل کرنے پر 50 پاؤنڈ انعام مقرر کیا گیا”۔

مارکس “سرمایہ” میں ایک اور جگہ لکھتا ہے “امریکہ میں سونے اور تانبے کی دریافت، مقامی آبادیوں کو غلام بنانا اور انہیں ان(سونے، چاندی کے) کانوں میں دفن کرکے صفہ ہستی سے مٹانا، ایسٹ انڈیز پر قبضہ اور لوٹ مار اور افریقہ کو سیاہ فام لوگوں کے کاروباری شکارگاہ میں بدلنا سرمایہ دارانہ پیداوار کے “گلابی صبح” کے آغاز کی علامتیں تھی”۔

نوآبادیاتی نظام (اور مقامی اقوام کی غلامی) کو مارکس سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی بد ترین شکل کے طور پر دیکھتا ہے۔ یورپ میں سماجی ترقی در حقیقت نوآبادیوں میں مقامی اقوام کی نسل کشی اور ان کی زمین سے بے دخلی سے منسوب ہے۔ جیسا کہ مارکس کے نظریاتی ساتھی و معاون اینگلز کہتا ہے” کوئی اس بات سے صرف نظر نہیں کر سکتا کہ انگریز شہریوں کی نام نہاد آزادی کی بنیادیں نو آبادیات میں روا رکی گئی ظلم و جبر پر قائم ہیں”۔

نوآبادیاتی نظام کی بنیادیں: زمیں کی لوٹ کسوٹ اور دولت کا ارتکاز

مارکس1850 کی دہائی میں لکھے گئے اپنے کتاب گرنڈریسہ میں زمین کوبنیادی اہمیت دیتا ہے جوکہ مارکس کے مطابق “تمام پیداوار اور وجود کا بنیادی ماخذ ہے۔” نوآبادیاتی نظام کیلئے خاص طور پر زمین مرکزی اہمیت رکھتا ہے جس کے حصول کیلئے نو آبادکار تمام تر دستیاب وسائل بشمول معاہدے اور فوجی قوت استعمال کرکے مقامی لوگوں کو بے دخل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ مارکس لکھتا ہے ” ان تمام حربوں کا مقصد مقامی لوگوں سے ان کی زمین ہتھیانا ہے۔۔۔ اس لیے نوآبادیاتی سوال فقط قومیت کا سوال نہیں بلکہ زمین اور انسانی وجود کا بھی سوال ہے۔ ایسے میں(محکوم اقوام کیلئے) دو ہی صورتیں باقی رہتی ہیں انقلاب یا بربادی۔“ 1870 میں مارکس اسی فکر کو دُہراتے ہوئے کہتا ہے کہ نو آبادیوں میں “زمین کا سوال ہمیشہ سے سماجی سوال کا ایک مخصوص شکل رہا ہے کیونکہ زمین کا سوال (مقامی لوگوں کی) ایک بڑی اکثریت کیلئے ان کے وجود، زندگی اور موت کا سوال ہے۔۔۔ جسے قومی سوال سے الگ نہیں کیا جاسکتا”۔

مارکس نوآبادیات میں آبادکاری کو مقامی لوگوں کے لیےایک سنگین خطرہ گردانتا ہے۔ مارکس کے مطابق جب یورپی سفید فام لوگوں کو آباد کرنے کیلئے سیٹلر کالونی بنائے گئے تو اس کے پیچھے منصوبہ یہ تھا کہ مقامی لوگوں سے ان کی زمین چھین کر ان کا صفایا کیا جاسکے اور ان کی جگہ نوآبادکار لا کر بسائے جا سکیں۔ مارکس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کی نوآبادیاتی شکل اختیار کرنے کے پیچھے کئی اسباب اور محرکات تھے جیسے زمین پر قبضہ جس سے آبادکار ملک کی منڈی کو خام مال سستے ترین داموں مل جاتی ہیں، مقامی آبادی کی بے دخلی اور جبری نقل مکانی تاکہ نو آبادیاتی سرمایہ کو محفوظ بنایا جا سکے، استحصال کے شکار مقامی مزدوروں کی فراہمی جس سے سرمایہ داروں کو اجرتیں کم کرنے اور ملکی سطع پر محنت کشوں کی مادی اور اخلاقی قوت توڑنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح حاکم و محکوم قوم کےمحنت کش طبقے کے درمیان نفرت اور دشمنی کے جزبات پیدا کر کے سرمایہ دار دونوں طرف کے استحصال زدہ طبقہ کی قوت کو کمزور کرنے کو کوشش کرتا ہے۔

مارکس “سرمایہ” میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سرمایہ داری نظام کے زیر دست ” زمین کے وہ حصے جو مقامی لوگوں کی ملکیت میں تھے انہیں ایک زمانے سے باقائدہ منصوبہ بندی سے قبضہ کیا جاتا رہا ہے۔ ” نوآبادیاتی نظام میں زمین کو ”منظم منصوبہ بندی سے ہتھیانے“ کا تصور نوآبادیات مخالف نظریے میں مارکس کی کتاب سرمایہ کا سب سے اہم اضافہ ہے جس پر گلین کھلتارڈ اور روزا لکسمبرگ سمیت بہت سے دوسرے مفکروں نے بار بار زور دیا ہے۔

خطرے سے دوچار متبادل : انسانیت کے مستقبل کیلئے مقامی طرز زندگی کی اہمیت پر مارکس کا موقف

کارل مارکس (اور بعد میں اینگلز ) کا ماننا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاص پہلو انسانیت کی تذلیل اور سفاکیت کے برخلاف مقامی کمیونٹیز کا روایتی سماجی اور قانونی نظام برابری، اجتماعیت اور ہم آہنگی پر مبنی ریاست کے بغیر خود مختاری کی بنیاد پر قائم ہے۔ (اس نقطہ پر مارکس نے مشرقی گریٹ لیکس خطے کے مقامی آبادیوں کے مطالہ میں خاص طور پر زور دیا ہے) مارکس نے مساوات و برابری پر مبنی قبل از نوآبادیات مقامی نظام کو یورپی بائیں بازو کیلئے ایک سبق آموز مثال قرار دیا جوکہ سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بعد پوری انسانیت کیلئے مستقبل کا ایک تصور ہو سکتا ہے۔

مارکس کو جدید دور (انیسویں صدی) کے مقامی آبادیوں کے متعلق جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یورپ کے نسبتاََ ٹوٹ پھوٹ کے شکار سیاسی اور قانونی نظام کے مقابلے میں مقامی معاشروں کی سیاسی و قانونی نظام کا ترقی یافتہ ہونا تھا۔ شمالی امریکہ کے ہوڈونوشونی اقوام میں قبائلی بنیاد پر قائم سیاسی نظام کا تجزیہ کرتے ہوئے مارکس کہتا ہے ”کاؤنسل یا جرگہ ایک ایسا انتظامی ادارہ ہے جسے قبیلہ، خاندان اور قبائلی اتحاد پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ عوامی معاملات قبائلی ادارے کاؤنسل کے سامنے فیصلے کیلئے پیش کیے جاتے ہیں۔“ انفرادی قبائل کی سطح پر کاؤنسل ایک جمہوری اسمبلی کی شکل اختیار کرتا ہے جہاں “ہر بالغ مرد اور عورت کو زیر غور مسئلہ پر اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔۔۔ ہوڈونوشونی قبائلی اتحاد میں شامل ہر قبیلے کے تمام ممبران انفرادی طور پر آزاد انسان ہیں جن پر واحد پابندی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی کا دفاع کرینگے۔ اس طرع مراعات اور حقوق میں سب برابر ہیں”۔

مارکس 1845 میں اپنے کتاب “مقدس خاندان” میں ابتدائی سوشلسٹ چارلس فیورر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے ”عورت کی آزادی در حقیقت عام (سماجی) آزادی کا فطری پیمانہ ہے۔“ 1868 میں مارکس اپنی بات دھراتے ہوئے کہتا ہے کہ ”سماجی ترقی کا معیار عورت کے سماجی حیثیت کو جانچ کر ناپا جاسکتا ہے۔“ اس تناظر میں مارکس نے یورپی عورتوں کے مقابلے میں ہوڈونوشونی قبائل میں عورت کے اعلی رتبے میں خصوصی دلچسپی لی ہے۔ اسی طرح ایک ابتدائی ماہر بشریات کے الفاظ میں مارکس شمالی امریکہ کے سینیکا قبائل میں قبائلی ماؤں کے اہم کردار کا ذکر کرتا ہے ”قبائل کے درمیان اور کہیں بھی عورتیں عظیم قوت تھیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ قبائلی سربراہ کا سامنا کرنے اور اسے بیدخل کرنے جیسا کہ کہا جاتا ہے اس کے سر سے سینگ اتار کر اسے عام جنگجوؤں میں واپس بھیجنے سے کبھی نہیں ھچکچاتے تھے۔ قبائلی سربراہ کی نامزدگی کا اختیار ہمیشہ ان کے پاس ہوتا تھا”۔

مقامی قبائل کے سماجی اداروں سے سیکھنے کی کاوش میں مارکس جس گہرائی تک گیا ہے میں اس کے مقابلے میں یہاں سطع تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ مارکس کی تحریروں میں موجودہ کینیڈا کے متعدد مقامی اقوام کے قبائلی ساخت، سماجی اور مذہبی رسومات اور قانونی و سیاسی اداروں پر تفصیلی نوٹس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، مارکس نے انیشنابے قوم کے تمام قبائل کا ایک ایک کر کے ذکر کیا ہے- (جس میں مختلف قبائل کے درمیان متفرق اور یکساں روایات کا خاص طور پرخیال رکھا گیا ہے۔) مارکس نے ہوڈونوشونی اقوام کے قبائلی اداروں میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والے تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی مشائدات کو بھی قلم بند کیا ہے۔ مارکس کہتا ہے کہ مقامی اقوام خاص طور پر انیشنابے قوم میں قبائلی نظام نو آبادیاتی اثرات کی وجہ سے زوال پزیر ہوا ہے۔ سیپیوں سے سجے بیلٹس کی ہوڈونوشونی سفارتکاری میں کردار کا بھی ذکر مارکس کی تحریروں میں ملتا ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ صرف مارکس کو پڑھ کر مقامی آبادیوں سے متعلق ان تمام تر مدعوں کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان موضوعات میں دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص آج مارکس کی نسبت معلومات تک بہتر رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مارکس نے مقامی آبادیوں کے تجزیے میں جس توجہ اور انہماک سے ثقافتی اور تاریخی باریکیوں کو جانچا ہے وہ سوشلسٹوں کیلئے ایک سبق ہے( جس سے وہ مقامی آبادیوں کے حوالے سے اپنے تجزیوں کو سدھار سکتے ہیں)۔ مقامی اقوام کے روحانی اور قانونی روایات، ان کی تاریخ اور سماجی اداروں کے متعلق عمومیت کا رجحان (جس میں تمام مقامی اقوام کو ایک جیسا قرار دے کر ان کی انفرادی خصوصیات کو انظر انداز کر دیا جاتا ہے) مارکس کیلئے انیسویں صدی میں بھی قابل قبول نہیں تھا جبکہ اس موضوع پر معلومات اکھٹا کرنے میں اسے بے حد دشواریوں کا سامنہ تھا۔ آج ہمارے پاس زہنی کاہلی، عمومی اور نامکمل تجزیے کیلئے کوئی جواز نہیں مگر پھر بھی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایسے چند ہی سوشلسٹ ہونگے جنہوں نے مقامی اقوام کی مخصوص ثقافت اور تاریخ کا اس حد تک تفصیلی جائزہ لیا ہو۔

یہ غورطلب بات ہے کہ مارکس نے ان مقامی اقوام کی طرز زندگی اور سماجی اداروں کو سمجھنے کی اتنی جستجو اس لیے کی کیونکہ ان مقامی معاشروں میں اسے جدید دنیا کا سب سے زیادہ جمہوری اور مساوات پر مبنی سیاسی نظام نظر آتا تھا۔ اینگلز کی طرح مارکس بھی مقامی اقوام کے سیاسی اداروں کے پختگی اور استحکام اور خاص طور پر ہوڈونوشونی اقوام کے “بہترین دستور” سے متاثر تھا جو چار صدیوں سے قبائل میں نافذ العمل تھا۔ اینگلز لکھتا ہے “یورپی سیاسی نظاموں کے برعکس یہاں نہ کوئی پولیس، شرفا، بادشاہ، نائب، جج، جیل ہیں اور نہ ہی کوئی مقدمات ہر چیز اپنے معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے۔ تمام تر جھگڑے اور تنازعات متاثرہ کمیونٹی مل بیٹھ کر حل کرتا ہے۔ فیصلے متعلقہ لوگ کرتے ہیں، اور اکثر معاملات صدیوں پرانے روایات کے مطابق پہلے سے ہی حل ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی غریب اور ضرورت مند نہیں ہو سکتا۔ اشتراکی قبیلہ بوڑھوں، بیماروں اور جنگ میں معذور ہونے والوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں جانتا ہے۔ تمام لوگ برابر اور آزاد ہیں بشمول عورتوں کے۔” جدید دور میں کسی ایسے معاشرے کا وجود جہاں جمہوریت اور برابری کی روح رچی بسی ہو مارکس اور اینگلز کیلئے یورپ کے عدم مساوات، سماجی محرومی، استحصال اور جبر پر مبنی سماج کی ایک واضح مذمت تھی۔ مقامی آبادیوں میں انہیں سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بعد ممکنہ کمیونسٹ مستقبل کی تعمیر کی امید اور اس کی اک جلک نظر آئی۔

مارکس کی سیاسی حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف یکجہتی کی مرکزیت

مارکس کے خلاف جھوٹے الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ سرمایہ داری نظام کے خلاف مزدور طبقے کی جدوجہد پر حد سے زیادہ زور دیتے ہوئے نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کو دوسرے درجے پر رکھتا ہے اور اسے مزدوروں کی جدوجہد کی کامیابی سے مشروط کر تا ہے۔ لیکن جب ہم اس مسئلے پر مارکس کے اصل تحریروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کے برعکس خیالات ملتے ہیں جہاں نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد مزدوروں کی معاشی استحصال کے خلاف روایتی جدوجہد سے زیادہ اہم نظر آتا ہے, نو آبادیاتی نظام کے خلاف بغاوت اولین اہمیت حاصل کر لیتا ہے اور مزدوروں کی سرمایہ داروں کے خلاف جد و جہد دوسرے درجے پر چلاجاتا ہے۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مارکس مزدوروں کے جدوجہد کی اہمیت کم کر رہا ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ کے بطور نو آبادیاتی طاقت کے مسئلے پر مارکس نے نو آبادیات مخالف مزاحمت کو انگلینڈ میں مزدور انقلاب کیلئے ضروری قرار دیا۔ مارکس واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر یورپی بائیں بازو اپنے ممالک کے مزدوروں اور نوآبادیوں کے مقامی مزدور طبقہ کے درمیان اتحاد قائم کرسکے تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ یہاں مارکس کہتا ہے کہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف جد و جہد کو پس منظر میں رکھنے کے بجائے اسے پیش پیش رکھنا چاہیے اور استعماری ممالک کے مزدوروں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیے کہ نوآبادیاتی نظام سے مقامی لوگوں کی آزادی کا مسئلہ تصوراتی عدل یا انسانی ہمدردی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی آزادی کیلئے اولین شرط ہے۔ دوسرے لفظوں میں مارکس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مزدور طبقہ کی معاشی آزادی کی جد و جہد کے ساتھ ہی نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہدکا آغاز کیا جائے جس کے بغیر مزدوروں طبقہ کی کامیابی ممکن نہیں۔ جیسا کہ مارکس 1872 میں شائع ہونے والے ایک لیفلٹ میں لکھتا ہے، نو آبادیاتی نظام کے جبر سے متاثرہ لوگوں کے خلاف “دشمنی کے نسل پرستانہ جزبات مزدور طبقے کی آزادی کی ہر تحریک کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔“ مارکس نے انگلینڈ جیسے نوآبادکار ممالک کے سرمایہ دار مخالف بائیں بازو کی سیاسی حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے مخصوص اصطلاحات جیسے شرط لازم، بنیادی شرط اور اولین مقصد کو بار بار دوہرایا ہے۔

اسی تصور کے آگے لےجاتے ہو ئے اینگلز 1872 میں لکھتا ہے کہ محکوم اقوام کو ہمیشہ عالمی مزدور تحریک میں خودمختار قومی تنظیم بنانے کا حق حاصل ہونا چاہیے ”اگر کوئی نوآبادیاتی قبضہ گیر قوم مقبوضہ اور زیردست قوم سے اپنے مخصوص قومیت اور مقبوضہ حیثیت کو فراموش کرنے اور قومی اختلافات کو ترک کردینے کا مطالبہ کرے تو یہ”بین الاقوامیت “ کے بجائے محکوم قوم کو جبر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی تبلیغ کے مترادف ہوگا جس کا مقصد بین الاقوامیت کی آڑ میں قابض کی بالادستی کو طول دینا اور اسے جواز فرائم کرنا ہے۔ ایسے مطالبات انگریز مزدوروں میں پائے جانے والے اس تصور کو تقویت دیتی ہیں کہ وہ مقامی اقوام کے مقابلے میں اعلٰی لوگ ہیں۔ وہ سیاہ فام لوگوں کے خلاف غلامی کے حامی ریاستوں کے سفید فام اشرافیہ کی طرح خود کو مقامی لوگوں کے مقابلے میں ویسے ہی اشرافیہ سمجھنےلگتے ہیں۔

ہم “مقبوضہ اقوام” کے بجائے “نو آبادیاتی نظام کے زیر تسلط اقوام” کی اصطلاح کو زیادہ ترجیح دینا چائینگے۔ جیسا کہ مارکس سرمایہ جلد اول میں لکھتا ہے ”نوآبادیوں میں سرمایہ دارانہ نظام کو ہر قدم پر مقامی پیداواری قوتوں کی مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے۔“ عمومی طورپر مارکس اور اینگلز نے جو اصطلاحات اپنے دور میں استعمال کیئے وہ پرانے اور متروک ہوچکے ہیں لیکن اہم نقاط پر ان کا موقف آج بھی درست اور کارگر ہے۔ خاص طورپر “بین الاقوامیت” جو ان کا منشور تھا اور ”قومی اختلافات کو رد کرنے کی فرمائش“ جسے انہوں نے بین الاقامیت کی غلط تشریع قرار دیتے ہے مسترد کر دیا تھا آج بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف سوشلسٹ سیاست کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

خلاصہ

اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی رد کرنے کی ضرورت ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے حوالے سے مارکس کے تصورات میں  واضح خامیاں ہیں۔ مارکس کبھی کبھار انیسویں صدی کے ماہرین بشریات کے ڈگر پر چلتے ہوئے مقامی معاشروں کے حوالے سے بنا تنقیدی جائزے کے قدیم سماج، بربریت بمقابلہ تہذیب اور ان جیسے دوسرے اصطلاحات کو دوہراتا ہے۔ یہی وہ چند نسل پرستانہ اور غیر سائنسی نقاط ہیں جو مارکس کیلئے قابل قبول تھے لیکن ہم انہیں رد کرتے ہیں۔ مارکس کا نوآبادیاتی نظام کے خلاف موقف ہم میں سے بہت سوں کو “یورپ کی مرکزیت” کے تصور سے متاثر نظر آتا ہے اگرچہ مارکسی نقطہ نظر پر اس کے اثرات انیسویں صدی کے باقی مغربی دانشوروں کی نسبت اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہیں۔

یہ اور بہت سے دیگر خامیاں واضح کرتی ہیں کہ مارکس کو گزشتہ ایک صدی کے نوآبادیاتی نظام کے خلاف چلنے والی تحریکوں اور تحقیق کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکا جو ہمیں حاصل ہے اور نہ ہی مارکس کو فرانز فینن، جولیس نیریرے اور اینڈریا سیمسن سمیت بہت سے اہم نوآبادیات مخالف مفکرین کا تنقیدی نقطہ نظر دستیاب تھا۔ مارکس کے بعد آنے والے ان مفکرین نے ہمیں نو آبادیاتی نظام اور مقامی لوگوں کی جد و جہد کے ان پہلوں کو سمجھنے پر مجبور کردیا جنہیں مارکس نے نظر انداز کر دیا تھا۔

مارکس کے نوآبادیاتی نظام پر تنقیدی تجربے کو یکسر تسلیم کرنا یا مسترد کرناسنگین غلطی ہوگی بلکہ اس کے برخلاف مارکس نے جو کہا یا جو وہ کہ نہ سکا اس کا تجزیہ کرنا چاہیے اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکسی نظریات کو سنجیدگی کے ساتھ بیک وقت بطور ایک لازمی نقطہ نظر اور محدود تجزیہ پر مبنی ایک ناقص وراثت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکسی نقطہ نظر کو مکمل طورپر رد کر دینا کار آمد نہیں ہوگا کیونکہ مارکس کے تجزیہ میں جو موثر تنقیدی نقطہ نظر موجود ہے خاص طورپر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جد و جہد میں نو آبادیاتی نظام کی مخالفت کی بنیادی اہمیت پر مارکس کا اصرار دائیں بازو کی مخصوص(اور محدود) طرز سیاست سے نکلنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

____________

نوٹ: دی پبلک آٹونومی پروجیکٹ کیلئے اسٹیو ڈارسی کی تحریر کا بلوچستان مارکسسٹ رویو ٹیم کی جانب سے اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔

بیس کروڈ مزدور کسانوں کی عام ہڑتال

Pic: Danish Siddiqui/Reuters

ماریہ اوریلیو/انگریزی سے ترجمہ بی ایم آر ٹیم

Click here to read the article in English

جمعرات 26 نومبر کو انڈیا میں محنت کشوں کی جانب سے عام ہڑتال کی گئی جس میں 20 کروڈ سے زائد مزدوروں اور کسانوں نے حصہ لیا۔ ہڑتال کی کال مزدوروں کی 10 یونینز اور 250 سے زائد کسان تنظیموں کی جانب سے دی گئی تھی جس کے جواب میں ملک بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا جب کہ کچھ ریاستوں میں مکمل تالہ بندی کی گئی۔ ہڑتال کی کال دینے والی یونینز کے مطابق ہڑتال کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی کے مزدور اورکسان دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔

محنت کشوں کے مطالبات

تمام مزدور اور کسان مخالف قوانین واپس لیئے جائیں۔
ٹیکس ادا نہ کرسکنے والے خاندانوں کو 7،500 روپے کی ادئیگی۔
ضرورت مند خاندانوں کو ماہوار 10 کلو خوراک کی فراہمی۔
مہاتما گاندھی نیشنل رورل امپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ 2015 میں توسیع کرکے سالانہ 200 روز کام کرنے والے افراد کو بھی شامل کیا جائے، اجرت میں اضافہ کیا جائے، ایکٹ کو شہری صنعتوں پر بھی لاگو کیا جائے۔
سرکاری اداروں بشمول مالیاتی اداروں کی نجکاری کا خاتمہ اور سرکاری سطع پر چلنے والے ادارے میں کارپوریٹ پالیسیز بند کی جائیں۔
ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ کا اعلامیہ واپس لیا جائے۔
نیشنل پنشن سسٹم کا خاتمہ اور سابقہ پنشن پلان کو ترامیم کے ساتھ بحال کیا جائے۔

انڈیا کی تمام مرکزی صنعتوں اسٹیل،کوئلہ، مواصلات، انجینئرنگ، ٹرانسپورٹ، پورٹ اور بینکنک سے منسلک محنت کشوں کے ساتھ ساتھ طلبہ، گھریلو ملازمین، ٹیکسی ڈرائیوروں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے ملک گیر ہڑتال میں حصہ لیا۔ مرکزی مطالبات کے علاوہ مخصوص شعبوں کے ملازمین نے اپنے متعلقہ شعبوں میں ایسے پالیسوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جس سے محنت کش طبقہ مجموعی طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ بینک ملازمین بینکوں کے نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے خاتمے، سروس چارجز میں کمی اور دیوالیہ ہونے والے بڑے کارپوریشنز کے خلاف کاروائی جیسے مطالبات کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوئے۔

دیگرصنعتوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے عالمی وبا اور معاشی بحران سے نبٹنے میں مودی حکومت کی ناکامی کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے مطالبات تشکیل دیئے ہیں- بمبئی یونیورسٹی و کالج ٹیچرز یونین کے ایک بیان میں ٹیچرز نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19 اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہونی والی صحت عامہ کی ابتر صورتحال اور معاشی بحران کے محنت کش طبقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔مرکزی حکومت کی عوام دشمن زرعی قانون سازی اور لیبر کوڈز سے بحرانی صورتحال مزید خراب ہوچکی ہے۔ انہوں نے عالمی وبا کے دوران نافذ کی گئی نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس سے تعلیم تک یکساں رسائی ختم ہو جائیگی۔

انڈیا 92 لاکھ متاثرین کے ساتھ کرونا وائرس کی پھیلاو میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس سے اب تک ایک لاکھ 35 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بچوں کی نصف آبادی وبا سے پہلے ہی خوراک کی کمی کا شکار تھی لاکھوں افراد سے ان کا زریعے معاش چھن گیا ہے جنہیں بڑھتی ہوئی غربت اور بھوک مری کا سامنہ ہے۔

کرونا وائرس دہلی اور ممبئی جیسے بڑی شہروں سے اب دہاتوں میں پھیل چکا ہے جہاں صحت کی سہولیات ناپید ہیں ۔ کرونا کے خلاف جنگ میں مودی حکومت کی پالیسیاں محنت کشوں کی زندگی اور روزگار کے بجائے بڑی سرمایہ داروں کے کاروبار کو تحفظ دینے پر مبنی ہیں۔

محنت کش گزشتہ کئی مہنوں سے ان اقدامات کے خلاف برسر احتجاج ہیں جو اب ملک گیر ہڑتال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انڈیا کے تین بڑے زرعی ریاستوں سے کسان مارچ کر کے دہلی پہنچے ہیں جن کا استقبال پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے کیا۔ کسان بلخصوص مودی حکومت کی ان نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو بڑے سرماداروں کو وسیع پیمانے پر کارپوریٹ فارمنگ کی اجازت دیتے ہیں۔

مودی حکومت نے پہلے ہی عالمی وبا سے پیدا ہونے والے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں اور مہاجر مزدوروں کے خلاف کاروائیاں تیز کردی ہیں جس کی مثال اپریل میں لاک ڈاون کی وجہ سے بے روزگار ہوئے مزدوروں کے ساتھ وہ بہیمانہ رویہ ہے جہاں ان پر بسوں اور گاڑیوں پر استعمال ہونے والی جراثیم کش اسپرے کا استعمال کیا گیا۔

نیولبرل پالیسیوں کی وجہ سے محنت کش طبقے کی دگرگوں حالت کو عالمی وبا نے مزید ابتر کردیا ہے ایسے میں عام ہڑتال کے زریعے مزدور اور کسان یونینز نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایک موثر احتجاج ریکارڈ کیا ۔ وسیع پیمانے پر ہونے والے عام ہڑتال میں محنت کشوں نے مزدور، کسان اور طلبہ اتحادکی قوت کا شاندار مظاہرہ کیا۔البتہ مزدوروں اور کسانوں کے وسیع مطالبات کو منوانے کیلئے ایک روزہ عام ہڑتال کافی نہیں ہے ۔ محنت کش طبقے کو اپنے جد و جہد کو ان ٹریڈ یونین رہنماؤں کے خلاف بھی وسعت دینی ہوگی جو مزدوروں کو صرف علامتی مظاہروں تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔

وسیع پیمانے پر ہونے والا منظم اور مربوط عام ہڑتال مزدور اور کسانوں کے مشترکہ جد و جہد کی قوت کو ثابت کرتا ہے جو دنیا بھر کے محنت کشوں کیلئے ایک مثال ہے۔ ہندستان کے محنت کشوں نے ثابت کر دیا کہ عام ہڑتال آج بھی سرمایہ داری نظام کے خلاف محنت کشوں کا سب سے موثر ہتھیار ہے۔

_____________

Courtesy: Left Voice

مارکسی نظریات پر گامزن بی ایس او

Click here to read the article in English/Brahui

سیاسی طور پر پستی کی جانب گامزن سماج جہاں رجعت پسند قوتیں ترقی پسند قوتوں پر حاوی ہیں طلبہ سیاست ان باقی رہ گئی چند میدانوں میں سے ایک ہے جہاں ترقی پسند خیالات کی ترویج اور تنظیم کاری کی گنجائش اب بھی باقی ہے۔

بلوچ سماج پر حاوی رجعت پسند قوتیں بورژوا قوم پرستوں کے ایک گروہ کی شکل میں وجود رکھتے ہیں جن کی قیادت مشترکہ طور پر بالادست قبائلی شخصیات اور نام نہاد متوسط طبقے کے ہاتھ میں ہے جو وسیع کاروباری مفادات رکھتے ہیں جن کا تحفظ اقتدار کے ایوانوں میں ان کی شمولیت پر منعصر ہے۔ بورژوا یا مڈل کلاس بلوچ قوم پرست رہنما اگرچہ مشترک طبقاتی مفادات رکھتے ہیں لیکن انہیوں نے تاریخی طور پر قوم پرست سیاست کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے ہمیشہ تقسیم در تقسیم کے ذریعے کمزور کیا ہے۔ قوم پرست سیاست میں یہ تقسیم نظریات یا پھر سیاسی طریقہ کار پر اختلاف کے بجائے بالادستی کیلئے چند رہنماؤں کے گرد جمع قبائلی ایلیٹ اور مڈل کلاس کے مختلف گروہوں کے آپسی کشمکش کے سبب ہوئی ہے۔ مینگل، بیزنجو، زہری اور مکران کے نام نہاد مڈل کلاس رہنماؤں کے درمیان اختلافات اسی مظہر کی نشاندہی کرتی ہے جس کی بنیاد پر بلوچستان کی مراعات یافتہ قوم پرست قیادت جسے بلوچ سماج کا غیر صنعتی بورژوازی کہا جا سکتا ہے تقسیم کا شکار ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی تاریخ بلوچ سماج میں ترقی پسند طلبہ سیاست کی تاریخ ہے جو 1950 کی دہائی میں ابھرنا شروع ہوا اور 1970 کے دہائی میں اپنے عروج کو پہنچنے کے بعد زوال پزیر ہوا۔ تب سے آ ج تک بی ایس او ترقی پسند قوتوں اور قوم پرست سیاست پر بالادستی رکھنے والے رجعت پسند قوتوں کے درمیان کشمکس کا مرکز رہا ہے ۔ اس کشمکش میں بی ایس او پر رجعت پسند قوم پرستی کے بجائے ترقی پسند قوم پرستی کا رجحان غالب رہا ہے جس کے سبب بلوچ طلبہ سیاست کا جکاؤ قومی اور بین الاقوامی سطع پر ہمیشہ ترقی پسند قوتوں کی جانب رہا ہے۔

رجعت پسند نسلی قوم پرستی 1990 کی دہائی میں موقع پرست پارلیمانی سیاست کی آڈ میں ترقی پسند قوم پرستی پر حاوی ہوا جس سے بورژوا قوم پرست قیادت جن کی اکثریت کبھی خود طلبہ سیاست کا حصہ رہے ہیں انہیں تعلیمی اداروں میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا موقع مل گیا۔ طلبہ سیاست کا تجربہ رکھنے والے قوم پرست قیادت کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ بلوچ سماج میں تبدیلی کی لہر کہاں سے اٹھتی ہے۔ پارلیمانی قوم پرست قیادت کی بی ایس او میں مداخلت کے پیچے مقاصد میں ایک اہم مقصد طلبہ سیاست میں موجود ترقی پسند قوتوں کو کمزور کرنا تھا تا کہ جس طرح قوم پرستی کے نام پر عوامی سیاست پر بورژوازی نے اپنی بالادستی قائم کی ہوئی تھی اسی طرح طلبہ سیاست میں بھی بورژوا طرز کے گروہ تشکیل دے کر طلبہ کے حقیقی ترقی پسند، جمہوری اور بالادستی کے خلاف تنظیمی ساخت کو رجعت پسند تنظیموں سے تبدیل کیا جا سکے جو آج ہمیں بی ایس او کے نام پر قائم بوژوا قوم پرست پارٹیوں کی طلبہ ونگز کی شکل میں نظر آتے ہیں جو بے مقصد گروہ بندیوں، تقسیم در تقسیم، اور نظریات سے مکمل بے گانگی کی علامت بن چکے ہیں۔

بلوچ طلبہ کی تاریخی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقیقی بنیادوں پر منظم ہوں، چائے وہ نیشنلزم کے پرچم تلے ہو یا سوشلزم کے یا پھر نیشنلزم اور سوشلزم کا اشتراک جو کہ بی اس او کی حقیقی نظریاتی پہچان رہا ہے۔ نیشنلزم اور سوشلزم پر عمل پیرا بی ایس او ہی سماج پر بورژوا قوم پرستی کی شکل میں مرایات یافتہ طبقے کی بالادستی کے بجائے مظلوم و محکوم طبقات کی ترجمانی کر سکتا ہے۔

طلبہ کو ایک آزاد اور بااختیار تنظیم کی آبیاری کیلئے کٹھن جد و جہد کرنی ہوگی۔ ایک ایسے بی ایس او کے جد و جہد کرنی ہوگی جو قومی سطع پر کسی بالادستی کے نظام کے زیر دست نہ ہو، جہاں تنظیمی ادارے فیصلہ سازی میں باختیار ہوں ،آزادانہ اتحاد قائم کر سکیں اور وقت اور حالات کے مطابق مناسب حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے انہیں سیاسی میدان میں عملی جامع پہنا سکیں۔ ایک ایسا بی ایس او جو اپنے وجود میں مقامی ہو لیکن اپنے نظریات میں عالمی وسعت رکھتا ہو جو موقع پرستی کے پیچے چھپنے کے بجائے بر ملا اپنے نظریات اور سیاسی مقاصد کا اظہار کرتے ہوئے دیگر ترقی پسند قوتوں کے ساتھ مل کر استحصال سے پاک سماج کے قیام کیلئے جد و جہد کرے۔

طلبہ کو اس تاریخی فریضے کو ادا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ بی ایس او مارکسی نظریات پر کار بند ہو جن کی بنیاد پر سماج، تاریخ اور جبر کی مختلف شکلوں کی تاریخی اور جد لیاتی مادیت کے سائنسی اصولوں کی بنیاد پر تشریع کرتے ہوِئے جد و جہد کی مختلف طریقہ کار وضع کیئے جا سکیں۔ انہی بنیادوں پر کار بند رہتے ہوئے بی ایس او نہ صرف طلبہ کو ایک انقلابی رستے پر کامزن کر سکتی ہے بلکہ طلبہ اور عوامی سطع پر سرگرم دیگر ترقی پسند قوتوں کے ساتھ قربت بھی پیدا کر سکتی ہے۔

نظریاتی طور پر واضع اور تنظیمی ساخت میں آزاد بی ایس او کی جد و جہد میں طلبہ کو رجعتی قوم پرستی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل سے بیزاری کے رجحانات کی ترویج کرنے والے گروہوں کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو طلبہ کی سیاسی قوت کو ختم کرنے اور طلبہ اور عوام کے درمیان خلیج حائل کرنے کے رجعتی منصوبے پر کاربند ہیں۔

بلوچ سماج میں غیر سیاسی یا سیاست سے بیزاری کا عمل گزشتہ دہائی میں سیاسی قوتوں کے خلاف ہونے والے سفاکانہ کاروائیوں کا نتیجہ ہے جہاں قوم پرست عوامی سیاست سمیت طلبہ میں بھی سیاسی قوتوں خاص طور پر بی ایس او کو نشانہ بناتے ہوئے غیرسیاسی بنیادوں پر تنظیم کاری کیلئے ماحول پیدا کیا گیا جو ہمیں مختلف طلبہ کمیٹیوں اور کونسلز کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ طلبہ کمیٹیاں اور کونسلز اگرچہ ابتدائی طور پر غیر سیاسی بنیادوں پر قائم کی گئیں لیکن وہ تعلیمی اداروں کے سیاسی ماحول سے خود کو الگ نہیں کر پائے جس سے طلبہ کی سیاست سے وابستگی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی اور نتیجے کے طور پر سیاسی رجحانات رکھنے والے اور سیاست سے گریزاں طلبہ کے درمیان کشیدگی کی وہ صورتحال پیدا ہوئی جو تعلیمی اداروں میں موجود تمام اسٹوڈنٹس کمیٹیوں اور کونسلز میں واضع نظر آتی ہے۔

‏ترقی پسند بی ایس او کو طلبہ کمیٹیوں اور کونسلز میں موجود سیاسی طلبہ کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کو غیر سیاسی بنانے کے اس عمل کے خلاف جد و جہد کرنا ہوگا جس کا مقصد طلبہ اور عوام کی سیاسی قوت کو کمزور کرنا ہے ۔

سماج کے اندر موجود جبر کی مختلف شکلوں کے خلاف جد و جہد میں بی ایس او پر یہ بھی تاریخی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنف، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر قائم تعصبانہ رویوں کی نہ صرف مذمت کرے بلکہ عوام اور طلبہ کو تقسیم اور سیاسی طور پر کمزور کرنے والے تصورات کے خلاف موثر جد و جہد کرے۔

سیاسی عمل سے عورتوں کو دور رکھنا یا پھر ان کی مشروط شرکت خاص طور پر طلبہ سیاست سے متعلق ہے جہاں سرگرم طلبہ میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ سیاست میں عورت مخالف تصورات ہمارے سماجی اور سیاسی اداروں کی جڑوں میں پیوست میں جنہیں روایتی قوم پرست پارٹیاں اپنے مرد رہنماوں کے ہاتھوں عورتوں کے کردار کے تعین کرنے اور انہیں اپنے زیر دست رکھنے کے رجہان کے ذریعے برقرارکھے ہوئے ہیں۔

ترقی پسند طلبہ کو نہ صرف عورتوں کے متعلق روایتی تصورات کے مذمت کرنا ہوگا بلکہ بی ایس او کو اپنی تنظیمی اداروں کو زریعے متبادل سیاسی ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں مرد اور خواتین طلبہ کو یکساں طور پر اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کے مواقع میسر ہوں ۔

قومی شناخت، طبقاتی وابستگی، صنف، اور مذیبی عقائد کی بنیاد پر ہونے والے استحصال کے خلاف مشترکہ جد و جہد مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ مل کر بیک وقت ان کے اپنے سیاسی ماحول میں اور مشترکہ بنیادوں پر کرنی ہوگی۔ عوام کی نجات کی جد و جہد میں شامل ہونے کیلئے طلبہ کو جو کہ سما ج میں ایک موثر سیاسی قوت کی حیثیت رکھتے ہیں اپنے تعلیمی ماحول میں منظم ہونا ہوگا۔

بی ایس او جو کہ اگرچہ مختلف گروہوں کی شکل میں وجود رکھتی ہے بلوچ طلبہ کا مشترکہ سیاسی میدان ہے جس میں رجعتی قوم پرست پارٹیوں کی مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مختلف طلبہ ونگز کی موجودگی کے باوجود طلبہ سیاست کی ترقی پسند رجحانات ختم نہیں کیئے جاسکے اور نہ ہی طلبہ کو غیر سیا سی بنانے کی کوششیں ترقی پسند بی ایس او کا رستہ روکھ پائی ہیں۔ طلبہ سیاست میں ترقی پسند خیالات کی مقبولیت اور بی ایس او کی مارکسی نظریات سے وابستگی طلبہ سیاست میں موجود ترقی پسند اور رجعت پسند قوتوں کے درمیان تضادات کے ٹکراو کا نتیجہ ہے ۔ ان حالات میں یہ طلبہ کی تاریخی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تضاد کو ایک انقلابی سیاسی عمل کے زریعے حل کرتے ہوئے ترقی پسند طلبہ سیاست کو مضبوط کریں اور بی ایس او کو اپنی حقیقی حالت میں بطور ایک آزاد اور ترقی پسند سیاسی تربیت گاہ کے بحال کریں۔

_________________

نوٹ: یہ تحریر بلوچستان مارکسسٹ رویو ٹیم کی جانب سے ‘بلوچستان میں ترقی پسند سیاست کا احیا’ کے عنوان پر مباحثے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔

اکیسویں صدی کی وضاحت کرتے مارکسزم کے دس خیالات

Photo: Granma

تحریر: سرگئی الیجاندروگومز

ترجمہ: شاداب مرتضیٰ

Read the Article in English

سرمایہ داری نظام کی پروپیگنڈہ مشین نے مارکس کے تجزیے کو جھٹلانے کی کتنی بھی کوشش کی ہو لیکن ان کے خیالات کو تاریخ نے درست ثابت کیا ہے۔

ہر بار جب اقتصادی بحران کے خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہیں، کارل مارکس کی کتابوں کی فروخت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ انیسویں صدی کے اس جرمن مفکر کی طرح چند ہی لوگ ہوں گے جنہوں نے  سرمایہ دارانہ نظام کے افعال کو اور انسانیت کے لیے اس کے نتائج کو سمجھا ہو گا۔

سرمایہ داری کی اجارہ دارانہ پروپیگنڈہ مشین نے مارکس کے تجزیے کو جھٹلانے کی اور ان کے خیالات کے خلاف موت کا فیصلہ صادر کرنے کی کتنی ہی جان توڑ کوشش کی ہو جن کے لیے مارکس نے اپنی زندگی وقف کر دی لیکن مارکس ازم وقت کے معیار پر کھرا اترا اور نہ صرف دنیا کو سمجھنے کے ایک طریقۂِ کار کے طور پر، بلکہ اسے تبدیل کرنے کے ایک آلے کے طور پر بھی، اس کی درستی ثابت ہوئی۔

کارل مارکس کی پیدائش کی دو صدیوں بعد، گرانما انٹرنیشنل، مارکس کی ان دس پیش گوئیوں کو پیش کر رہی ہے جو اکیسویں صدی کا احاطہ کرتی ہیں۔

سرمائے کا ارتکاز اور مرکزیت

اپنے شاہکار سرمایہ میں مارکس نے سرمایہ داری میں معاشی پیداوارِ نو کی وضاحت کی اور سرمائے کے ارتکاز اور مرکزیت کے رجحان کی پیش گوئی کی۔ ان میں سے اولُ الذّکر پہلو کا تعلق قدرِ زائد کے اجماع سے  ہے، یعنی وہ قدر جو مزدور کی قوتِ محنت سے تخلیق ہوتی ہے لیکن جسے سرمایہ دار منافعے کی حیثیت سے اپنے تصرف میں لاتا ہے۔ دوسری اصطلاح سرمائے میں ہونے والے اس اضافے پر مشتمل ہے جو کئی مختلف سرمایہ داروں کے ملاپ کا نتیجہ ہوتا ہے اور ہمیشہ معاشی دیوالیوں اور اقتصادی بحرانوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس تجزیے کے مضمرات ان لوگوں کے لیے تباہ کن ہیں جو دولت کی تقسیم میں مارکیٹ کے نا دیدہ ہاتھ کی خوبی کا دفاع کرتے ہیں۔ جیسا کہ مارکس نے پیش گوئی کی تھی، اکیسویں صدی میں بھی سرمایہ دارانہ نظام کی خاصیتوں میں سے ایک خاصیت یہ ہے کہ امیر اورغریب کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ آکسفیم Oxfam کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، 2017 میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی 82 فی صد دولت دنیا کی آبادی کے امیر ترین 1 فی صد لوگوں کی جیبوں میں گئی، جب کہ 3.7 ارب لوگ، جو دنیا کے نصف غریب ترین افراد ہیں، ان کی دولت میں سرے سے کوئی اضافہ ہی نہیں ہوا۔

سرمایہ دارانہ نظام کا عدم استحکام اور بحرانوں کا دہراؤ

جرمن مفکر کارل مارکس دنیا کے پہلے چھ فلسفیوں میں سے ایک تھا جنھوں نے یہ بات سمجھی کہ اقتصادی بحرانات سرمایہ دارانہ نظام میں کسی خرابی کا نتیجہ نہیں بل کہ اس کی دائمی خاصیت ہیں۔ سرمایہ دارانہ ماہرینِ معاشیات کی جانب سے آج بھی یہ کوشش کی جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اقتصادی بحرانوں کے بارے میں اس سے مختلف کوئی خیال سامنے لایا جائے۔

تاہم، 1929 کے اسٹاک مارکیٹ کریش سے لے کر 2007-2008 تک، سرمایہ دارانہ معیشت نے جو سفر طے کیا ہے اس کا نقشہ وہی رہا ہے جس کی نشان دَہی مارکس نے کی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ وال اسٹریٹ کے بڑے ساہُوکار بھی اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے مارکس کی تصنیف سرمایہ کے صفحے الٹ پلٹ کرتے رہتے ہیں۔

طبقاتی جد و جہد

غالباً ایک سب سے زیادہ انقلابی مارکسی خیال اس سمجھ بوجھ میں پنہاں تھا: “اب تک دنیا کی تمام تاریخ طبقاتی جد و جہد کی تاریخ ہے،” جیسا کہ ہم مارکس اور ینگلز کی جانب سے 1848 میں لکھے گئے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں پڑھتے ہیں۔ اس  دعوے نے لبرل فکر کو بحران سے دوچار کر دیا۔

مارکس کے نزدیک، سرمایہ دارانہ ریاست بھی اپنی اقدار اور اپنے طبقے کی پیداوارِ نو کے ذریعے دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے بالا دست طبقے کا ایک ہتھیار ہے۔ ڈیڑھ صدی بعد، 99 فی صد لوگ1 فی صد افراد کے تسلط کے خلاف سماجی جد و جہد کر رہے ہیں۔

صنعتی اضافی فوج

مارکس کے مطابق، سرمایہ دار کو منافع کی شرح زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے اجرتوں کو کم رکھنے کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، اوریہ مقصد اسی وقت تک حاصل کیا جا سکتا ہے جب تک ایسے مزدور موجود ہوں جو ان مزدوروں کی جگہ لینے کے لیے دست یاب ہوں جو روز گار کی شرائط ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اسے انھوں نے صنعتی اضافی فوج کا نام دیا۔ حالاں کہ انیسویں صدی سے لے کر اب تک سماجی اور ٹریڈ یونین تحریکوں نے اس صورتِ حال کے عناصر میں تبدیلی پیدا کی ہے، خصوصاً ترقی یافتہ ملکوں میں۔ لیکن کم سے کم اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی تلاش آج بھی کاروباری شعبے کا لازمی عُنصر ہے۔

بیسویں صدی کے دوران، یورپ اور امریکہ میں موجود بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیاں کم اجرت پر کام کرنے والے ہنر مند مزدوروں کی تلاش میں ایشیاء منتقل ہو گئیں۔ حالاں کہ حالیہ حکومتیں اس عمل کے دوران ملازمتوں میں کمی کی نشان دَہی کرتی ہیں، جیسے کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کمپنیوں نے سستی محنت کا استحصال کر کے منافعے کی اونچی شرح قائم رکھی ہے۔

اجرتوں کے معاملے میں موجودہ تحقیق دکھاتی ہے کہ مغربی ملکوں میں قریباً 30 سال سے مزدور طبقے کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایگزیکٹو اور نچلی سطح کے ملازموں کے درمیان یہ خلیج اور زیادہ بڑھی ہے۔ دی اکنامسٹ کے ایک آرٹیکل کے مطابق امریکہ جیسے ملکوں میں گزشتہ بیس سالوں میں تنخواہیں ساکت ہو گئی ہیں، جب کہ اونچی ترین سطح کے ایگزیکیٹو ملازموں کی تنخواہ میں خاصا اضافہ ہوا ہے: وہ اوسط آمدنی کے مقابلے میں 40 سے 110 گنا زیادہ کما رہے ہیں۔

مالیاتی سرمایے کا منفی کردار

مارکس نے سرمایے کے اجماع میں استحصال کی ترکیبوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ مالیاتی سرمایے پر انھوں نے خصوصی تنقید کی ہے جس کا معیشت میں بَہ راہِ راست مادی کردار نہیں ہوتا، بل کہ اسے افسانوی انداز سے جمع کیا جاتا ہے، جیسے پرامسری نوٹ، promissory note، یا بونڈ کی شکل میں۔

اس کے دور میں کوئی معیشت کے اس شعبے کی جدید ترقی کا تصور نہیں کر سکتا تھا جو آج کمپیوٹر کے ذریعے مالیاتی لین دین کو روشنی کی رفتار سے انجام  دینے کی وجہ سے ممکن ہے۔

بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری اور پیچیدہ مالیاتی نظاموں کی صراحت، جیسے کہ قرض نا دہندہ افراد کو زیادہ شرحِ سود پر قرض دینا، جس نے 2007-2008 کے بحران کو جنم دیا، یہ سب مارکس کے تحفظات کی ٹھوس انداز سے تصدیق کرتے ہیں۔

جھوٹی ضرورتوں کی تخلیق

انیسویں صدی نے ٹی وی اور ریڈیو پر کمرشل تشہیر کی ترقی کو اور انٹرنیٹ پر ذاتی اشتہارات کے جدید طریقوں کو بھی نہیں دیکھا تھا، لیکن مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام میں لوگوں میں جھوٹی ضروریات اوربے گانگی پیدا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں پہلے سے ہی خبر دار کیا تھا۔ اس نے ڈیڑھ سو سال پہلے پیش گوئی کی تھی:

“اشیائے صرف اور ضروریات کا پھیلاؤ غیر انسانی، مصنوعی، غیر فطری اور تصوراتی مَیلانات اور رغبتوں کی تخلیق اور ہمیشہ بڑھتی تابع فرمانی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔”

آج کی دنیا میں، موبائل فون چند مہینوں میں ہی پرانے ہو جاتے ہیں اور اشتہاروں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ صارفین کو جدید ترین ماڈل خریدنے پر قائل کریں۔ اسی دوران، گھریلو استعمال کے آلات کو منصوبہ بندی کے ساتھ اس طرح بنایا جاتا ہے کہ وہ چند سالوں میں ہی کام کرنا چھوڑ دیں اور یوں انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت پیدا کی جاتی ہے۔

عالم گیریت

مارکس اور اینگلز نے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا تھا: “اپنی مصنوعات کے لیے مستقل بڑھتی ہوئی منڈی کی ضرورت پورے کرۂِ ارض پر سرمایہ داروں کا پیچھا کرتی ہے اور انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ ہر جگہ اپنا گھونسلا بنائیں، ہر جگہ سکونت اختیار کریں اور ہر جگہ اپنے روابط قائم کریں۔”

منڈیوں کی عالم گیریت اور اس کے لیے صارفیت سے متعین ہونے والے کلچر کے تسلط کی انہوں نے جو تصویر کشی کی تھی وہ اس سے زیادہ درست نہیں ہو سکتی تھی۔

اجارہ داریوں کی اہمیت کا ابھار

عالم گیریت کا یہ رجحان بین الاقوامی اجارہ دار کمپنیوں کی تخلیق کا راستہ اپناتا ہے۔ کلاسیکی اقتصادی نظریے کا مفروضہ یہ تھا کہ مسابقت کے نتیجے میں ملکیت میں حصے داری بڑھے گی لیکن مارکس نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر طاقت ور ترین کے قانون کی بنیاد پر منڈی میں اختلاط کے رجحان کی نشان دَہی کی یعنی منڈی میں مسابقت کے نتیجے میں ملکیت میں حصہ داری بڑھنے کے بَہ جائے اس لیے گھٹی چلی جائے گی کہ طاقت ور ترین سرمایہ دار کارپوریشنز معیشت پر قابض ہو جائیں گی۔ میڈیا، ٹیلی کمیونی کیشن اور تیل کی بڑی اجارہ داریاں مارکس کے بیان کردہ اس عمل کی چند تازہ مثالیں ہیں۔

سرمایہ داری نظام کی خود کشی کا رجحان

کمیونسٹ مینی فیسٹو میں سرمایہ داری کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت افروز خیالات  میں سے ایک یہ ہے:

“وہ سب کچھ جو ٹھوس ہے، ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔”

مارکس اور اینگلز سرمایہ داری نظام کی بَہ یک وقت تخلیقی اور خود کو تباہ کر دینے والی دونوں قسم کی فطرت سے واقف تھے، جس میں ہر قیمت پر محنت کی افزودگی کی جستجو پیدا وار کی غیر انسانی تال اور نا پائیدار استعمال کو معاشرے پر مسلط کر دیتی ہے۔

یہی وہ رجحان ہے جس نے ہمارے سیارے کو تباہی کے دھانے پرلا کھڑا کیا ہے۔ عالمی درجۂِ حرارت میں اضافے پر انسانوں کے اثرات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہیں حالاں کہ کچھ ملکوں کے صدور، جیسا کہ امریکہ وغیرہ، اس سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔

مزدور طبقے کی انقلابی صلاحیت

تاریخ پر مارکس کے زبر دست اثر کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس نے سرمایہ داری نظام کے تضادات کا گہرائی سے تجزیہ کیا، بل کہ اس کا سبب، کمیونزم کی بنیاد پر، ایک نئے سماج کی تخلیق کے لیے دی جانے والی اس کی صدا تھی۔

اس کے اس پیغام نے کہ مزدور طبقے میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خود کو ہمیشہ کے لیے استحصال اور نا برابری سے آزادی حاصل کر سکتا ہے، بیسویں صدی کو بدل ڈالا اور روس، چین، ویتنام اور کیوبا سمیت دیگر ملکوں میں انقلابات کو جنم دیا۔ مزدور طبقے کے اتحاد کے لیے اس کی صدا اکیسویں صدی میں بھی مکمل طور پر درست ہے۔

________________

نوٹ: یہ مضمون کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ترجمان رسالے دی گرانما میں مئی 2018 میں کارل مارکس کی پیدائش کے  دو سو سالہ جشن کے موقع پر لکھا گیا تھا۔ تحریر کا اردو ترجمعہ اس سے قبل ‘ایک روزن‘ پر شائع ہوچکی ہے جسے قارعین کی دلچسپی کیلئے یہاں دوبارہشائع کیا جا رہا ہے۔

مارکسزم کا مختصر تعارف

Pic: Socialist Appeal

 سید علی رضا

معلوم انسانی تاریخ میں ایسی ایسی قد آور اور عالی فکر شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اس کائنات، مافوق الفطرت ہستیوں اور انسان کے آپسی تعلق کے بارے میں ایسے غیر روایتی نظریات پیش کیے جنہوں نے انسانی زاویۂ نگاہ کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ انسانی سماج نے فکری میدان میں جتنی بھی ترقی کی ہے وہ انہیں سوچنے اور بغاوت کرنے والے دماغوں سے عبارت ہے۔

جدید دنیا میں کارل مارکس ایک ایسا ہی عظیم دماغ ہے جس نے انقلابِ فرانس، برطانوی معیشت اور جرمن فلاسفی کے مفصل تنقیدی جائزے کے بعد سماجی، معاشی اور سیاسی حرکیات کی از سرِ نو تشریح کی اور اپنے انقلابی نظریات پیش کیے ۔ ہیگل کا فلسفہ ’ایبسولیوٹ آئیڈئیلزم‘ کا فلسفہ ہے۔ ہیگل کے مطابق فکر اور سوچ ہی وہ محرکات ہیں جو مادی دنیا کو تبدیل کرتے ہیں۔ ہر تھیسز کا ایک اینٹی تھیسز ہوتا ہے جو مل کے ایک سینتھسز بن جاتا ہے جو کہ ایک نیا تھیسز ہوتا ہے اور یہ زنجیر یونہی آگے بڑھتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ہیگل کا فلسفہ سر کے بل کھڑا تھا اور مارکس نے اسے سیدھا کھڑا کر دیا۔ مارکس کے مطابق حقیقت مادی ہے۔ مادے سے باہر کچھ بھی نہیں۔ چونکہ دماغ تمام ذہنی سرگرمیوں کا مرکز ہے جو کہ ایک مادی شے ہے لہٰذا ذہنی واردات بھی مادے ہی کی بدولت ممکن ہے۔ مادہ ہی حقیقت کا جوہر ہے اور مادہ ہی ذہن کا خالق ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فکر اور اس سے متعلقہ تمام وظائف چاہے وہ سائنسی نظریات ہوں، فنی نظریات ہوں یا سیاسی نظریات ہوں سبھی کی بنیاد یہ مادی دنیا ہی ہے۔ اگر انسانی شعور اور سماجی سچائیوں کو سمجھنا ہے اور ان کی صحیح تشریح کرنی ہے تو ہمیں مادی دنیا کے حقائق کا ہی سہارا لینا ہو گا کیونکہ یہ حقائق تجربے سے ثابت کیے جا سکتے ہیں۔

مارکس کے نزدیک روایتی منطق اور بورثوا سائنسدان اور تاریخ دان فکری مخمصوں کی بنیادی وجہ ہیں۔ روایتی منطق میں عدد ایک ہمیشہ ایک کے برابر ہو گا یعنی کہ اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی اور یہی بنیادی مسئلہ ہے کہ روایتی منطق سچائی کو ایک جامد شے بنا کے پیش کرتی ہے۔ مارکس کا فلسفہ حرکت اور تبدیلی کا فلسفہ ہے۔ مثلاً عملی زندگی میں ایسا ممکن نہیں کہ ایک پاؤنڈ چینی ایک پاؤنڈ چینی جیسی ہو۔ شاید مقدار کے حوالے سے تو ایسا ہونا ممکن ہو لیکن معیار کے حوالے سے ایسا نہیں ہو سکتا۔

معاشرے میں مختلف متضاد طاقتیں ہمہ وقت بر سرِ پیکار رہتی ہیں اور آہستہ آہستہ چیزیں تبدیل ہو رہی ہوتی ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ تبدیل ہوتی ہوئی حقیقت یک دم نمایاں ہو جاتی ہے۔ مارکسی مفکرین حمل کی مثال دیتے ہیں کہ دورانِ حمل آہستہ آہستہ چیزیں تبدیل ہوتی ہیں حتٰی کہ ایک وقت آتا ہے کہ مکمل انسانی بچہ بن جاتا ہے۔ معاشرتی تبدیلیاں بھی ایسے ہی رونما ہوتی ہیں جیسے پانی گرم کرتے کرتے ایک ایسا مرحلہ آتا ہے کہ پانی کی ہئیت بدل جاتی ہے اور وہ بھاپ بن جاتا ہے۔ مارکسزم کے مطابق آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہونے والی تبدیلی اچانک ایک بڑی تبدیلی بن کے ابھرتی ہے۔

مارکسزم کا آئیڈئیل ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جس میں بورژوا نظام ہائے زندگی رائج نہ ہوں۔ سرمایہ دارانہ استحصالی نظام نہ ہو۔ معاشرے میں کسی بھی قسم کی طبقاتی تقسیم نہ ہو۔ ہر اس نظام کی نفی ہو جو استحصال پہ مبنی ہو۔ مارکس کے نزدیک اکثر سائنسدان، ماہرینِ معیشت اور پروفیسرز اسی استحصالی نظام پہ پل رہے ہیں لہٰذا وہ انقلابی سوچ کو پنپنے نہیں دیتے۔ نیوٹن جیسے لوگ بھی جدید سائنسی نظریات پیش کرنے کے باوجود ان کی وہی توجیہہ پیش کرتے تھے جو کہ چرچ کا پادری پیش کرتا تھا۔ حتٰی کہ ڈارون سے پہلے کے اکثر ماہرینِ حیاتیات اس بات پہ یقین رکھتے تھے کہ دنیا میں اتنی ہی سپیشیز ہیں جتنی کہ تخلیق کی گئیں۔

مارکسزم ایک ایسی فلاسفی ہے جو ہر دور میں ’ریلیونٹ‘ ہے۔ آج بھی طبقاتی تقسیم اسی طرح کے استحصالی نظام کو فروغ دے رہی جس میں اشرافیہ اور غریب میں ایک نہ پاٹی جا سکنے والی خلیج موجود ہے۔ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ مزدور کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مزدوروں اور طلبأ کی تنظیموں کا کوئی خاص وجود ہی نہیں ہے۔ مخالف بیانیہ سامنے لانے والی آوازیں دبا دی جاتی ہیں۔ سچ کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور سارے کا سارا نظام محض سٹیٹس کو کا نمائندہ ہے۔ آج بھی مارکسزم ہی ایک ایسی فلاسفی ہے جو صحیح معنوں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔

______________

نوٹ: یہ تحریر ہم سب ویب سائٹ کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی دلچسپی کیلئےشائع کیا جارہاہے۔

شاہینہ شاہین کا قتل اور بلوچ عورت کا کرب

The Five Shaheen Sisters: Art by Shaheena Shaheen displayed in the University of Balochistan, Quetta on April 25, 2019.

Click here to read the article in English

شاہینہ شاہین کا قتل بلوچ سماج میں عورتوں کی گھمبیر صورتحال کو ایک مرتبہ پھر منظر عام پر لے آیا ہے۔ بلوچ خواتین خاص طور پر وہ جو پدرشاہی کی سرخ لکیر کو پار کرنے کی ہمت کرتی ہیں وہ اس پر خطر صورتحال میں سب سے زیادہ متاثرہیں۔

بلوچ سماج میں پدرشاہی اپنی تمام تر جاوجلال کے ساتھ وجود رکھتی ہے جہاں سماجی، سیاسی اور فکری زندگی میں مردوں کی بالادستی عورت کی شمولیت کو صرف اس تک ہی برداشت کرتی ہیں جہاں یا تو عورت کا کردار مردوں کی متعین کردہ حدود کے اندر بند ہو تا کہ وہ زندہ تو رہے لیکن اپنی زندگی پر مرد کی اجارہ داری کے خلاف کبھی نہ اٹھ سکے۔

جوں ہی اک بہادر عورت مرد کی متعین کردہ تنگ دائروں سے آزاد ہونے کے عزم کا اظہار کرتی ہے اسے نہ صرف ڈرا دھمکا کر خاموش کرایا جاتا ہے بلکہ تشدد کا نشانہ بنا کر دن دھاڑے قتل کردیا جاتا ہے اور قاتل آزاد گھومتے رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ 

ستمبر کی 5 تاریخ کو 25 سالہ شاہینہ کو تربت میں مبینہ طور پر ان کے شوہر مہراب گچکی نے قتل کیا اور لاش مقامی ہسپتال کے باہر چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ مہراب کے ساتھ شاہینہ کی شادی چند مہینے قبل ہوئی تھی۔ باخبر ذرائع کے مطابق شوہر نے قتل کے بعد بلا خوف و خطر شاہینہ کی ماں کو فون کیا اور انہیں ہسپتال سے اپنی بیٹی کی لاش اٹھانے کا کہا۔

مکران کے سماجی و سیاسی حالات میں مہراب گچکی کی اپنے انجام سے بے فکری قابل فہم ہے۔ سابق والی مکران گچکی خاندان کا فرد ہونے کہ وجہ سے مہراب کو ایک عو رت کے قتل پر نا قانون کا سامنا ہے اور نہ ہی کسی مقامی جرگے کا جس کا ڈر اسے کسی ایسے مزموم حرکت سے باز رکھتا۔ اگرچہ مکران سے قبائلی اثر رسوخ ختم ہوئے نصف صدی سے زائد گزر چکا ہے لیکن صدیوں پر محیط ظلم و جبر کی بنیاد پر قائم سماجی برتری اب بھی نہ صرف وجود رکھتی ہے بلکہ کھل کر اپنے وجود کا احساس بھی دلا رہا ہے۔

سابقہ قبائلی حیثیتیں نئے دور کے معاشی قوتوں بین الاقوامی منشیات کے کاروبار، مذہبی شدت پسندی اور تیل کے بیوپار سے وابستہ چند منظم گروہوں کے ساتھ مل کر مکران میں جرم کی نئی سلطنت چلا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات میں ان گروہوں کے کردار اور ان کو ملنے والی کھلی چھوٹ سے ان کی مقتدر اداروں سے وابستگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

شاہینہ کے قتل سے بلوچ سماج میں پہلے سے موجود بے چینی میں اضافہ ہوا ہے جو کہ عورتوں پر ہونے والے حملوں کی حالیہ سلسلے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے شاہینہ کے قتل کو بلوچ عورتوں پر ہونے والے حملوں کے تسلسل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عمومی تاثر یہ ہے کہ دہائیوں پر محیط کشیدگی پورے سماج کو متاثر کر چکا ہے جہاں مردوں کے ساتھ ساتھ اب خواتین بھی برائے راست نشانہ بن رہی ہیں البتہ سیاسی جبر کے علاوہ بلوچ سماج کے اندر جبر کی مختلف اندرونی شکلیں بھی وجود رکھتی ہیں جنہوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بلوچ سماج کا اندرونی جبر سیاسی کشیدگی کے زیر اثر ایک اندوہناک شکل اختیار کر چکا ہے جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔پدرشاہی کا جبر انہی اندرونی جبر کی مختلف شکلوں میں سے ایک ہے جو سماج پر مرد کی بالادستی،عورت مخالف رویہ اور صنفی امتیاز کی عمومی اظہار کے ساتھ ساتھ عورتوں پر تشدد کی مختلف شکلوں میں منظر عام پر آرہا ہے۔ 

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاہینہ بلوچ سماج کی پدرشاہانہ ساخت میں موجود اندرونی جبر کا نشانہ بنی۔شاہینہ کو جوانی میں تشدد اور موت کا سامنہ کرنا پڑا کیونکہ وہ ایک عورت تھی جسے ہر حال میں اپنے شوہر کے خواہش کے مطابق زندگی گزارنی تھی چائے وہ خواہشات کتنی ہی مذموم کیوں نہ ہوں۔ اسے خود پر لگائی گئی بےجا پابندیاں قبول کرنی پڑیں، اپنی سماجی زندگی سے قطع تعلق کرنا پڑا، اپنے فن سے دستبردار ہونا پڑا، اور سب سے بڑھ کر اسے خاموش ہونا پڑا اس شاہینہ کو جسے دوسرے بے آواز عورتوں کی آوازبننا تھا۔ بلوچ سماج میں کسی بھی مرد کو اپنے صنف کی وجہ سے کبھی بھی ایسی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا  جن کی خلاف ورزی کی سزا موت ہو۔ بلا شبہ بلوچ مرد کو شدید سیاسی جبر کا سامنہ ہے جہاں وہ روزانہ کی بنیاد پر لاپتہ ہوتے ہیں، تشدد جھیلتے قتل کر دیئے جاتے ہیں لیکن بلوچ عورت کیلئے سیاسی جبر کے علاوہ صرف اس کا صنف قتل کا پروانہ ثابت ہو رہا ہے خاص طور پر ان خواتیں کیلئے جو مردوں کی تعین کردہ حدود سے آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ 

یہ کہانی صرف شاہینہ کی نہیں بلکہ بلوچستان کے ہر اس عورت کی کہانی ہے جو بدلتے معاشی و سماجی حالات میں تنگ دائروں سے نکل کر اس سماج زندگی کا حصہ بننا چاہتی ہے جس پر مردوں کا غلبہ ہے ان میں سے کچھ مرد گروہوں کی شکل میں نہ صرف منظم ہیں بلکہ مسلح بھی ہیں اور عورت پر اپنی مردانہ بالادستی قائم کرنے کیلئے معصوم زندگیوں سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

شاہینہ شاہین کون تھی؟

شاہینہ بی بی ماہ رنگ کی پانچ بیٹیوں میں سے سب سے بڑی تھی۔ شاہینہ کی ماں ماہ رنگ اپنے آپ میں پدرسری معاشرے کے خلاف جد و جہد کی ایک مثال ہیں۔ بیٹا نہ ہونے کی باعث پانچویں بیٹی کی پیدائش پرباپ نے جوان ماں کو بیٹیوں کے ساتھ بے آسرا چھوڑ کران سے قطہ تعلق کر لیا۔ بی بی ماہرنگ نے پدر شاہی کے سامنے ہار نہیں مانی اور اپنی بیٹیوں کو کسی مرد کے سہارے کے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔انہیں تربت میں پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس نےاپنے بیٹیوں کو پالنے کیلئے خود گاڑی چلائی۔ آج بھی تربت شہر میں عورت کے گاڑی چلانے کو معیوب تصور کیا جاتا ہے اور بہت سے ایسے خواتین جو ملازمت کرتی ہیں اپنے خاندان کے مردوں کی دباؤ کی وجہ سے خود گاڑی نہیں چلا سکتے۔
 
شاہینہ کی پرورش ایک مضبوط عورت کی زیر سایہ ایک ایسے گھر میں ہوئی جہاں پدرشاہی کے قوائد و ضوابط نافظ کرنے والا بالادست مرد کوئی نہیں تھا۔ ان کی ماں نے مردوں کے سماج سے لڑتے ہوئے اپنی بیٹیوں کیلئے نئے مواقع پیدا کیئے جو کہ بلوچ سماج میں اکثر خواتین کے دست رس سے باہر ہوتی ہیں۔ شاہینہ یہیں سے اپنے جہدوجہد کا آغاذ اس مقصد کے ساتھ کرتی ہیں کہ جو مواقع اسے حاصل ہوئیں وہ بلوچستان کی تمام عورت کی حاصل ہوں۔ ماہ رنگ کی جدوجہد نئی نسل میں منتقل ہو چکی تھی جس نے اسے پورے سماج میں پھیلانے کا بیڑا اٹھایا۔

شاہینہ نے آغاز ‘دزگہار’ سے کیا جسے بلوچی زبان میں عورتوں کی پہلی میگزین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دزگہار کی پہلی جلد 2014 میں شایع ہوئی جس کا مقصد خاتون لکھاریوں کو عورتوں کیلئے مخصوص پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔دزگہار پہلی اشاعت کے بعد وقتی طور پر رک گیا لیکن شاہینہ کہیں نہیں رکیں۔ اپنے اگلے محاذ پر انہوں نے پی ٹی وی بولان کے اسٹیج کے توسط سے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں قدم رکھا۔ شاہینہ کاکردار بطور میگزین ایڈیٹر خاص توجہ کا سبب نہیں بنا لیکن انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ایک عوامی مقام تھا جس کے اکثریتی ناظرین مردوں پر مشتمل تھی جو کہ اپنے ٹی وی اسکرین پر مردوں کی صنفی برتری اور سماج میں رائج مرد اور عورت کے مخصوص کردار کو تبدیل ہوتے ہوئے ناگواری کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔
   
اکیسیوں صدی کے ظہور کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کے آثار اگرچہ بلوچستان میں دیر سے پہنچے لیکن وہ پہنچے ضرور۔ٹیکنالوجی کی سرمادارانہ ترقی اور معاشی ڈھانچوں کی مونیٹایزیشن کے زیر اثر زوال پزیر سماجی ساخت میں نئے اور ترقی پسند پرتیں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ نئے مادی حالات رائج الوقت پسماندہ اقدار کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے تبدیلی کا سبب بنیں جس کے بطن سے سماجی وجود کے اظہار کی نئی شکلیں سامنے آئیں۔ 

شاہینہ سماجی تبدیلی کا چہرہ تھیں۔ انہوں نے اپنا زریعہ میڈیا کو بنایا جس کے توسط سے بلوچستان کے متوسط طبقے کے ہر گھر تک ان کی آواز اور ان کا پیغام پہنچا۔ شاہینہ اور ٹی وی اسکرین پر آنے والی ان جیسی بہت سی دیگر بلوچ خواتیں اگرچہ اکثر مرد ناظریں کیلئے انٹرٹینمنٹ کے علاوہ کچھ نہیں تھی لیکن مردوں کی دنیاں میں قید خواتین ناظرین کیلئے وہ ایک نئی دنیا کے ترجمان تھی ۔انہوں نے بلوچ خواتین کو اپنے خود ساختہ محافظ مردوں کی دنیا سے پرے دیکھنے کی ترغیب دی۔

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری نے شاہینہ کو مشہوری کی ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم بنایا جس سے وہ اس قابل ہوئی کہ سماج پر مردوں کی بالادستی اور اس کی نتیجے میں بننے والے ثقافتی اور مذہبی اقدار کو للکار سکے۔ شاہینہ نے آرٹ کے زریعے بلوچ عورت کے کرب کو کینوس پر اتارا جو کہ ہر بلوچ عورت کی طرح اس کی اپنی ذاتی زندگی کا کرب بھی تھا۔شاہینہ نے اپنی فنی علم کو وسیع کرنے کیلئے بلوچستان یونیورسٹی میں فنون لطیفہ کے شعبے میں داخلہ لیا جہاں سے 2015 میں انہیں ان کی قابلیت کے اعتراف میں گولڈ مڈل سے نوازا گیا۔ شاہینہ کا ماننا تھا کہ بلوچ خواتین کو مناسب مواقع فراہم ہوں تو وہ پدرشاہی نظام کے زنجیروں سے آزاد ہو کر ایک نئی دنیا تخلیق کرسکتی ہیں۔

مردوں کی بالادستی پر قائم اسٹیٹس کو کے خلاف جانے کی قیمت شاہینہ کو اپنی زندگی میں پل پل چکانا پڑی۔ انہیں نوجوانی میں اپنی کزن کے ساتھ ایک بے جوڈ شادی پر راضی ہونا پڑا کیونکہ مردانہ سماج ایک غیر شادہ شدہ عورت کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی تھی جو ان عورتوں کیلئے ایک مثال بننے جارہی تھی جن عورتوں کو مردوں نے اپنے سوچ کے تنگ دائروں میں قید رکہا ہوا ہے۔ شاہینہ نے بھی سوچا ہوگا کہ شاید شادی کے بعد ان پر انگلیاں اٹھنا بند ہو جائینگی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ان کی اس سمجھوتے کا نتیجہ ذاتی زندگی میں پیچیدگیوں اور بلاخر طلاق پر ختم ہوا۔ پہلے شوہر سے علیحدگی مختصر مدت کیلئے ہی سہی سکھ کا سبب بنی اور شاہینہ بھرپور انداز میں اپنے تخلیقی سرگرمیوں کی طرف لوٹ گئی۔ اسی دوران شاہینہ نے اپنے جوان خواب کی تعبیر میں دزگہار میگزین کی اشاعت دوبارہ شروع کی اور اپنے آرٹ کے زریعے ایک نئی پہچان بنانے لگی جو کہ ان کی بطور ٹی وی میزبان شناخت سے یکسر مختلف تھی۔ اپنی نئی زندگی میں شاہینہ کی ملاقات ان کے  ہونے والے شوہر اور مبینہ قاتل نوابزادہ مہراب گچکی سے ہوئی۔ 

شاہینہ پسماندہ سماج کے اونچ نیچ پر مبنی حد بندیوں اور تقسیم پر یقین نہیں رکھتی تھی۔وہ ایک ایسے راستے پر گامزن تھیں جو نہ صرف معاشی اور سماجی سرحدوں کے آر پار جاتی تھی بلکہ مکران کی سماجی درجہ بندی کی بنیاد ذات پات کے نظام کو بھی پامال کرنے سے نہیں کتراتی تھی۔قبائلی دور سے رائج ذات کا تصور غیر قبائلی مکران میں بھی اپنے پوری قوت سے قائم ہے۔ شاہینہ ان حدود کو چھو چکی تھیں جہاں تک ایک بلوچ عورت اپنی زندگی داو پر لگا کر ہی پہنچ سکتی تھی۔مہراب گچکی کی دنیا میں شاہینہ کیلئے کوئی جگہ نہیں جہاں سماجی رتبہ، جرم اور مذہبی انتہا پسندی سے جاملتی ہے ۔
  
قتل سے قریب چھ مہینے قبل شاہینہ نے اپنے ماں کے مخالفت کے باوجود مہراب گچکی کے ساتھ شادی کرلی لیکن ان کے شوہر نے اپنے خود ساختہ رتبے کو جواز بنا کر شادی کا کبھی کھلے عام اقرار نہیں کیا۔ ایک خفیہ شادی کے بعد شاہینہ کو مجبور کیا گیا کہ منظر عام پر نہ آئے کیونکہ شاہینہ کی شہرت انتہا پسند مذہبی گروہوں سے وابستہ ایک خود ساختہ نواب زادے کے رتبے کیلئے خطرہ تھا۔ شاہینہ کو نہ صرف اپنا پیشہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا بلکہ انکی سماجی اور تخلیقی سرگرمیوں پر بھی روک لگا دی گئی۔

قتل سے مہینوں قبل شاہینہ کو کسی سماجی نشست میں نہیں دیکھا گیا۔ 5 ستمبر بروز ہفتہ شاہینہ کو اس کا شوہر ایک مکان میں لے گیا جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ شاہینہ کا قاتل جسم اور چہرے پر تشدد کے نشانات کے ساتھ لاش کو اپنی گاڑی میں مقامی ہسپتال کی گیٹ پر چھوڑ کر اس خوف سے آزاد وہاں سے چلا گیا کہ ایک عورت کے قتل کا انجام کیا ہوگا۔

نوٹ: یہ تحریر بلوچستان مارکسسٹ ریویو ٹیم کی مشترکہ کاوش ہے۔

نادر جان کی زندگی سے وابستہ چند یاداشتیں

تحریر: نوشین قمبرانی
براہوئی سے اردو ترجمہ: افشین بلوچ

نادر جان کی علمی سیاسی اور ادبی قامت کا فیصلہ انکی قوم کرے گی کہ انہوں نے اپنی قوم اور وطن کے لئے کیا خدمات انجام دیں اور کسقدر یہ فرض پورا کرسکے۔ کس طور اپنے لوگوں کو علم و شعور عطا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ میں انکی بیٹی ہونے کی حیثیت سے اگر انکے شخصی پہلووں پر بات کرونگی تو ایسا محسوس ہوگا کہ شائد کسی افسانوی کردار کے بارے میں گفتگو کر رہی ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ کسی دیو مالائی کردار سے کم نہیں تھے۔

میں نے ایسا غضب کا توکل کرنے والا انسان اور کہیں نہ دیکھا نہ سنا۔ شائد ہر وہ انسان جو قدرت کے سفر کو سمجھ جاتا ہے فطرت اور بقا کے مراحل اور اصولوں سے واقف ہوجاتا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ نہ ابا کو کسی کا خوف تھا نہ کسی شئے کی خواہش۔ وہ ایک عجیب عاشق، سر مست اور آزادی پسند آدمی تھا۔ انکی سب سے بڑی عیاشی انکے قدرتی مناظر سے بھرپور وطن کی گود تھی۔ ابا کے دوست اور شاگرد جانتے ہیں کہ انکا جمالیاتی ذوق کس درجہ بھرپور تھا۔

ہمیں بچپن سے یہی سکھایا کہ مرد عورت بہ حیثیت انسان برابر ہیں ہر مرد میں عورت اور ہر عورت میں مرد کی صفات موجود ہیں۔ دونوں میں دونوں جینڈر کی صفات اور ہارمونز شامل ہیں۔ مرد عورت سے اونچا اور مضبوط نہیں۔ انسانی درجے پر انکا ایمان تھا کہ جو کسی کو کمتر سمجھتا ہے دراصل ذہنی طور پر خود پست ہے۔ ابا مذہبی طور پر بھی آزاد تھے ہمیں یہی کہا کہ جس طرح مسلمان خدا کو اللہ کہتے ہیں ویسے ہی ہندو بھگوان اور زرتشت یزدان کہتے ہیں۔ تمام مذاہب خوبصورت اور قابل_تعظیم ہیں۔

نادر جان سچا اشتراکیت پسند تھا لیکن آجکل کے ہمارے دوسرے دانشوروں کی طرح قول و فعل کا تضاد رکھنے والے ریاست پرست مارکسیوں کی طرح نہیں تھا۔ وہ اصل مارکسی تھا جسکی کوئی ذاتی ملکیت نہیں تھی نہ اسے مادی اشیا کی طلب تھی۔ اس نے اپنے لئے ایک مکان تک تعمیر نہیں کیا تھا۔ درویش تھا اور اپنے کوہ و تلار دشت و بیابان کا عاشق تھا۔ انہیں اپنے والد کی طرف سے جو مکان ورثے میں ملا وہ انہوں نے اپنی بیوہ بہن کو محبت سے دیا۔ ابا پیسے اور شان و شوکت اور طاقت کی ہوس کو بیماری تصور کرتے تھے۔ نوابی سرداری کو استحصالی نظام کی پیداوار سمجھتے تھے۔ اور ہمیشہ کہتے کہ بلوچ کو زندہ رکھنے والے محنت کش مزدور، کاریگر، کسان اور چرواہے ، ہماری ثقافت کو زندہ رکھنے والے فنکار اور کشیدہ کاری کرنے والی ہماری عورتیں بلوچ کے اصل سردار ہیں۔ ہمارا سماج ابھی ناواقف ہے کیونکہ ہم ذہنی طور پر غلام ہیں۔ چوروں ، لٹیروں اور حریصوں کو ہر دور کا حکمران پسند کرتا ہے بےشک انگریز ہو یا پاکستانی حکومت وہ بدمعاشوں کو مضبوط کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی بتاتے تھے کہ قدیم بلوچ نظام میں ایک قبائلی کمیٹی سردار کا چناو کیا کرتی تھی اور سب سے زیادہ دانا، بہادر، ذکی اور انصاف دوست انسان کو سردار منتخب کیا کرتی تھی۔

نادر جان بلوچ کی جو صفات و خصوصیات گنواتے وہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتی نظر آرہی ہیں جنہیں محفوظ کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ابا کہتے کہ بلوچ مرد اپنی عورت کے پیروں میں بیٹھتا ہے۔ وہ woman oriented ہوتا ہے۔ عورت کی عزت کے لئے اپنا خون دیتا ہے۔ شہید اکبر خان نے جب شازیہ خالد ریپ کیس پر آرمی کے خلاف سٹینڈ لیا تو ابا کہتے کاش ارد گرد کی قومیں بلوچ سے یہ سیکھیں اور یہ اکبر خان کا یہ قدم ایک مثال بن جائے کہ عورت کا شرف و مقام کیا ہے اور عورت کی عزت اور آزادی کے لئے بلوچ کبھی جان اور مال کی پرواہ نہیں کرتا۔

ابا کبھی دکھی بھی ہوتے تھے کہ براہوئی کلاسیک میں عشقیہ داستان کی بجائے مظلوم ماہ گل کا قصہ ہے لیکن ساتھ ہی پرامید ہوتے کہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ دل سے سیاہ کاری کے خلاف ہے۔ انکا پہلا افسانہ 1950 کی دہائی میں چھپا بہ عنوان ” سیاہ کار کون ہے” جس میں انہوں نے یہ باور کروایا کہ دراصل سماجی رسمیں اور اپنی بہن بیٹیوں اور بیویوں کو سیاہ کار کرنے والے خود سیاہ کار ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے کہ صرف جان سے مار دینا سیاہ کاری نہیں ہے بلکہ اپنی عورتوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنا انکے حق_انسانیت کو نہ ماننا سیاہ کاری ہے۔

نادر جان کو اپنے دوست اپنی جان سے زیادہ پیارے تھے جن میں چند نام میرے ذہن پر نقش ہیں۔ جن میں بابو عبدالرحمان کرد، ماما حاجی عبدالرحمان شاہوانی، بابا عبدللہ جان جمالدینی، ماما حبیب اللہ جتک، ماما گل بنگلزئی، آغا نصیر احمد خان پروفیسر برکت علی، ماما انور لہڑی اور ڈاکٹر مقبول طارق شامل ہیں۔ باقی اپنے قومی ہیروز کی وہ تو پرستش کرتے تھے۔

نادر جان اپنی قوم اور تمام انسانوں کا عاشق تھا میں نے اس عاشق کو کبھی پریشان نہیں دیکھا بڑی سے بڑی آفت میں مسکراتا پایا۔ میں اور میرے دوست جب قوم کی مفلوک الحالی پر دکھی ہوتے تو ابا ہماری آہ و زاری سننے کے بعد صرف یہ کہتے۔

“خیر ہوگی بچو خیر ہوگی یہ مٹی صرف بلوچ سے وفا کرے گی شرط محبت ہے۔”

یعنی جو مٹی کا عاشق مٹی اسکی عاشق

نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل دی بلوچستان پوسٹ براہوئی پر شایع ہوچکی ہے جسے مارکسی استاد نادر قمبرانی کی یاد میں شکریہ کے ساتھ دوبارہ شایع کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر نادر قمبرانی کی یاداشتوں پر مبنی تحریر یہاں سے پڑھیں

نظارے جو ہم نے دیکھے! (نادر قمبرانی کی یادداشتیں) 1