بحریہ ٹاون اور کراچی کے مقامی باشندوں کی زمین سے بے دخلی

Pic: Indigenous Rights Alliance

Click to read in English

کراچی کے مقامی باشندے بالخصوص گوٹھوں میں آباد سندھی اور بلوچ قبائل ملک ریاض کی سرپرستی میں منظم سرمایہ داروں کے ہاتھوں اپنی آبائی زمینوں سے بے دخلی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ان مقامی قبائل کی زمین سے بے دخلی کا عمل در حقیقت برطانوی استعماریت کے دوران شروع ہوتی ہے جہاں اس نے انیسویں صدی میں اشتراکی زمینوں پر جبری طورپر نوآبادیاتی و نجی ملکیت مسلط کر دیا۔ قدیم سندھی اور بلوچ گوٹھوں سے مقامی لوگوں کو جبری طورپر بے دخل کرنے کا تاریخی سلسلہ اب بحریہ ٹاؤ ن کی شکل میں اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جہاں جبری طورپر تمام سماجی سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کو ہٹا کر کراچی کے زراعتی سماج کی مکمل خاتمے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری، رشوت اور خصوصی رعایتوں کے ذریعے جمع کی گئی لوٹ کسوٹ کی دولت کو مزید بڑھانے کیلئے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ کالا دھن اپنی مزید بڑھوتری و اضافے کےلیے لازماً قانونی معیشت میں حصہ داری کی راہیں ڈھونڈ نکالتا ہے۔

کراچی کے مقامی باشندے

زراعت پیشہ سندھی اور بلوچ آبادیاں کراچی کے مقامی باشندے ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں۔ وہ اپنی تاریخ اٹھارویں صدی میں ابھرنے والے قلعہ بند تجارتی شہر سے بہت پہلے کا بتاتے ہیں جو کہ بعد میں ایک اہم نوآبایاتی بندرگاہ اور پاکستان کا پہلا دارالخلافہ بنا۔ شہر کراچی 1729 میں ہندو تاجروں کی قلعہ بند بستی سے ابھرا جو 1839 میں برطانوی قبضے کے بعد اپنے قدرتی بندرگاہ کی وجہ سے نو آبادیاتی تجارت کے مرکز کی شکل اختیار کر گیا جس سے قریبی خطوں سے لوگ کراچی ہجرت کرنے لگے اور شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ نو آبادیاتی حکمرانی میں ایک دہائی کے اندر ہی شہر اپنے دیواروں سے باہر پھیلنا شروع ہو گیا ۔ لیاری ندی اور پرانے شہر کے مضافات میں محنت کشوں کی بستیاں آباد ہونے لگی۔ بڑھتی نوآبادیاتی تجارت کے ساتھ ساتھ مہاجرت میں اضافہ ہوا ۔ برطانوی قبضے کے وقت شہر کی آبادی جو کہ اندازاً 14000 تھی اگلے پانچ دہائیوں میں ایک لاکھ سے بڑھ گئی اور کراچی کو باقائدہ طور پر شہر کا درجہ ملا۔

قلعہ بند بستی کی نو آبادیاتی بندرگاہ میں تبدیل ہونے اور آبادی میں یکسر اضافے سے بہت پہلے سندھی اور بلوچ قبائل ملیر کی زرخیر وادی میں دریا کے ساتھ ساتھ زرعی آبادیوں کی شکل میں اور قدرتی بندر گاہ سے وابستہ مچیروں کی بستیوں کی شکل میں آباد چلی آرہی تھی۔ ان قبائل میں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مکران اور آس پاس کے علاقوں سے لوگ آکر آباد ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطے کے فطری معیشت کا حصہ بن گئے۔ اکثر دانشور اس نقطے پر متفق ہیں کہ اولین قبائلی آبادیاں اور برطانوی یلغار سے قبل کی مہاجرتیں مجموعی طور پر کراچی کی مقامی آبادی تشکیل دیتے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے ھاتھوں بے دخلی کا سامنا کرنے والے بہت سے سندھی اور بلوچ گوٹھ اپنا حسب نامہ انہی قبل از نوآبادیاتی باشندوں سے جوڑتے ہیں جنہیں شہر کے نوآبادیاتی بڑھوتری کے دوران اپنی سرزمین سے بے دخل نہیں کیا جا سکا تھا۔ ان قدیم زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ باشندوں کیلئے زمین وجود کا ایک ناقابل انتقال ذریعہ تھاجس کی بنیاد پر انہیں ہم نو آبادیاتی ترقی کے دوران آباد ہونے والوں کی نسبت مقامی باشندے قرار دے سکتے ہیں۔مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کی نسبت نوآبادیاتی دور میں آباد ہونے والے اکثر گروہ مقامی زرعی معیشت سے منسلک ہونے کے بجائے اکثر بندر گاہ کے توسط سے نو ابادیاتی تجارت سے منسلک ہوتے رہے۔

زمین سے بے دخلی کا نوآبادیاتی تسلسل

بلوچ آبادیاں جو کہ لیاری ندی کے آس پاس 18 ویں صدی کے آخری ادوار میں آباد ہوئے، انہیں سب سے پہلے زمین سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑھا۔ نو آبادیاتی تجارت سے ہونے والے شہری پھیلاؤ میں انہیں زمین کے ساتھ اپنی جڑت سے دستبردار ہونا پڑھا۔ یہ بلوچ گوٹھ جو بعد میں محنت کش طبقہ کے مضافات میں تبدیل ہوگئے شہری پھیلاؤ کا مرکز بن گئے۔برطانوی راج کے خاتمے کے وقت تک لیاری کی مقامی معیشت اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھی جو کہ اگلے ایک دہائی میں غیر معمولی اندرونی مہاجرت کی وجہ سے مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گئی۔ لیاری کے قدیم گوٹھوں کے برعکس شہری پھیلاؤ، اور بعد از نوآبادیات معاشی ساخت کے ملیر کے دیہاتی علاقوں پر اثرات ابتدائی طور پر نسبتاََ کم تھے۔ اگرچہ اولین ایام سے ہی مقامی وڈیروں میں زمین سے علحیدگی کے رجحانات موجود تھے۔ وڈیرے مقامی سماجی ڈھانچے میں بالادست مقام رکھتے اور نو آبادیاتی قوانین کی روح سےگوٹھ کی مشترکہ زمین کے انتقال کا اختیار رکھتے تھے۔ مقامی وڈیروں میں گوٹھ کی زمین سے دستبرداری اور پیسوں کے عوض انتقال کے رجہان کی بنیادی وجہ ان کے طبقاتی حیثیت کی میں تبدیلی تھی جو کہ ایک عام کسان سے جاگیردار میں تبدیل ہو گئے اور بعد از نوآبادیاتی معیشت میں حصہ دار ہو کر چھوٹے سرمایہ دار بن گئے۔ سندھی اور بلوچ زراعتی آبادیوں میں گوٹھ کی سطح پر ” وڈیرہ“ اعلٰی ترین جاگیردارانہ لقب ہے جو کہ سماجی ڈھانچے میں بالادست مقام رکھتا ہے۔ قبل از نوآبادیاتی دور کا وڈیرہ جس کا تعلق کسی قبائلی ڈھانچے سے ہوتا تھا، براہ راست قبائلی سربراہ کی جانب سے بطور نمائندہ متعین کیا جاتا تھا یا پھر دیہاتوں کی طرف سے نامزد شخص کو قبائلی سربراہ سربراہ کے طورپر توثیق کرتا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ابھرنے والے خودمختار بلوچ قبائل جن کا کسی بھی بڑے قبائلی ڈھانچے سے کوئی الحاق نہیں تھا، اپنے آپ کو غیر قبائلی آبادیوں کے طور پر گوٹھوں میں منظم کیا جن کی سربراہی مقامی طور پر نامزد کوئی نمایاں شخصیت کرتا تھا۔

گاؤں کے یہ سربراہ اس وقت غیر رسمی و غیر اعلانیہ وڈیرہ بن گئے جب انگریز استعمار نے مختلف نو آبادیاتی حکم ناموں اور قوانین کے تحت اشتراکی زمینوں پر نجی ملکیت کو مسلط کیا ان قوانیں نے ملکیتی رشتوں کو بدل کر قدیم آبادیوں کو فقط قابل کاشت زمینوں تک محدود کر دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ناقابل کاشت یا بنجر زمینیں الگ ہو کر براہ راست نوآبادیاتی انتظامیہ کے ھاتھوں میں آگئیں۔ برطانوی سامراج نے ایسی زمینوں کو مقامی آبادیوں پر اپنی بالادستی قائم کرنے اور اپنے وفاداروں کے کردار کو مستحکم کرنے کیلئے استعمال کیا۔ غیر آباد و بنجر زمین جنہیں نوآبادیاتی ریونیو بورڈ نے اپنے قبضے میں لیا تھا، ان زمینوں کو وفاداری کے عوض مقامی قبائل اور وڈیروں کو یا پھر باہر سے ہجرت کرنے والے لوگوں کو بطور انعام یا پھر لیز پر عطا کیا گیا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نوآبادیاتی حکم نامے کے ذریعے بڑے پیمانے پر زمین کی نجی ملکیت کےلیے راستہ ہموار کیا گیا۔ وہ لوگ جو مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے زمین لیز پر حاصل کرتے تھے انہیں یک مشت بڑی زمینیں لینے کی اجازت دے دی گئی جس کی بدولت بڑی بڑی جاگیریں وجود میں آگئیں اور اس کے ساتھ ہی جاگیردار طبقہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔

بعد از نو آبادیاتی ریاست کے سرمایہ داروں نے باہر ہجرت کرنے والے غیر مسلم تاجر طبقے کی جگہ لی جنہوں نے اپنے پیچھے ایک تیار مارکیٹ چھوڑا تھا۔سرمایہ داروں کے اس نئے گروہ نے جو کہ کراچی کی سطح پر اکثر باہر سے آنے والے مہاجرین پر مشتمل تھی انہیں نومولود ریاست میں نوآبادیاتی ملکیتی رشتے ورثے میں ملے اور زمین سے بیگانگی کا نو آبادیاتی سلسلہ جاری رہا۔ اشتراکی زمینوں کی نجکاری اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگوں کی ان کے زرائع پیداوار سے بیدخلی کے ذریعے بنیادی طورپر غیر سرمایہ دار معیشت میں سرمایہ داروں کی دولت کی بڑھوتری کے مواقع پیدا کیئے گئے۔ دیہی کراچی کے بلوچ اور سندھی آبادیو کی ان کے گوٹھوں سے بے دخلی کا ایک اور لہر 1960 کی دہائی میں شروع ہوا۔زرعی اصلاحات کے نام پر گوٹھوں کے آس پاس کی زمینیں جاگیرداروں کے نام کر کے ان کی نجکاری کیلئے راہ ہموار کی گئی جبکہ ریوینو بورڈ کے زیر قبضہ زمینیں بڑے صنعت کاروں اور اثر و رسوخ رکھنے والے شخصیات کو سونپ دی گئیں۔ یہ سلسلہ مختصر وقفوں کے ساتھ سنہ 2000 تک جاری رہا جب نئی بلدیاتی حکومت کے ذریعے زرعی زمین پر ڈاکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا جس میں دیہی زمین کے شکل مکمل طور پر تبدیل کرنے کیلئے میدان تیار کیا گیا۔

بحریہ ٹاؤن کراچی، سرمایا دارانہ توسیع پسندی کی ایک نئی شکل

جنرل پرویز مشرف کے آمریت میں سرمایہ داروں کو اپنے سرمایہ کے توسیع کیلئے نئے مواقع ہاتھ آئے۔ پاکستان کا ابھرتا ہوا سرمایہ دار طبقہ جس میں کاروباری اور سیاسی و عسکری بالادست گروہوں کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے وہ جاگیردار بھی شامل ہیں جو قبائلی و جاگیردارانہ خطابات کے علاوہ سرمایہ دارانہ معیشت میں بھی قابل زکر حصہ رکھتے ہیں۔ ریاستی معیشت کے علاوہ سرمایہ دار طبقہ بڑی حد تک غیرقانونی متوازی معیشت پر انحصار کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ گروہ ریاست کے انتظامی اور عدالتی اداروں سے نالاں ہے جو کہ سرمایہ دار طبقے کی خدمت گزاری کے ساتھ ساتھ قانون سے ماورا طریقوں سے اپنے لیئے فوائد سمیٹنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ نتیجتاََ اکثر اوقات ریاستی عہدیدار خود ہی بڑے بڑے سرمایہ داروں کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔ انہوں نے مارکیٹ میں ھیرا پھیری کے ذریعے اپنے انتظامی حیثیت کو دولت کے ارتکاز کا زریعہ بنایا ہوا ہے ۔ یقیناً انہیں اپنے کاروباری مخالفین کے مقابلے میں زیادہ برتری حاصل ہے۔ عمومی طور پر کاروباری طبقے کو دفتری رکاوٹیں دور کرنے کےلیے انہی ریاستی عہدیداروں سے رجوع کرنا پڑھتا ہے ۔

طویل عرصے سے جاری آمرانہ طرز حکمرانی نے ملک میں ایسے حالات پیدا کیئے ہیں جہاں سرمایہ داروں کو اپنے سرمایہ کو پھیلانے کےلیے مکمل استثنٰی حاصل ہے ۔ سرمایہ دار طبقہ متوازی معیشت میں جمع کیئے گئے دولت یا کالے دھن کو بہ آسانی قانونی معیشت میں منتقل کرسکتے ہیں اور اس کالے دھن کے زور پر دولت کے ارتکاز کو اس نہج پر پہنچا سکتے ہیں جو عام طور پر مارکیٹ کے حدود کی وجہ سے ممکن نہیں اور منطقی طور پر معاشی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے ہی حالات مشرف کے آمرانہ دور میں پیدا کیئے گئے جب کراچی کے بلدیاتی حکومت کو سندھی اور بلوچ گوٹھوں میں زمین کے انتقال کے بڑے پیمانے پر اختیارات سونپے گئے۔سرکاری عہدیداروں کی طرف سے نجکاری کے عمل کو اپنے ھاتھ لینے سے جو کہ خود اس عمل میں منافع کما رہے تھے، نے زمین کے نجکاری کو مزید بد تر بنایا جس کی وجہ سے منافع خوری، فرضی ادائیگیاں، اور ملکیت کے جعلی دعوے عام ہوئے جس کی بنیادپر آگے جا کر مقامی لوگوں کے قانونی ملکیت کے دعوؤں کو متنازعہ قرار دیا گیا۔

ریاستی عہدیداروں کے کردار کا منتظم سے مارکیٹ ایجنٹ میں تبدیل ہونے کے عمل نے مارکیٹ کی حد بندیوں کو مزید ڈھیلا کردیا۔ قابل ٹیکس قانونی معیشت اور غیر قانونی معیشت کے درمیان حائل رکاوٹیں کم ہونے سے بحریہ ٹاؤن جیسے سرمایہ دارانہ پراجکٹ ممکن ہوا. بحریہ ٹاؤن کراچی کو شہر کے اندر ایک اور شہر قرار دیا جا رہا ہے جو یکے بعد دیگرے دیہات پر دیہات ہڑپ کرتا جا رہا ہے ۔ سرمایہ کے طاقت کے بل بوتے پر ملک ریاض اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ سرمایہ کے ارتکاز کے سامنے آنے والے ہر رکاوٹ کو عبور کرتا جارہاہے۔ دفتری کاموں میں رکاوٹوں کو اپنے مخصوص انداز میں فائلز کو پہیے لگا کر دور کرتا ہے، قانونی پیچیدگیوں پر حاوی ہونے کےلیے سیاسی بیانیہ تشکیل دیتا ہے اور اس کےلیے وہ سیاسی و عسکری قوتوں سے کاروباری معاہدے کرکے انہیں ان کی دیہاڑی دیتا ہے اور اپنے عوامی تاثر کو مثبت رکھنے کےلیے وہ سمجھوتوں کے شکار الیکٹرانک میڈیا کا رخ کرتا ہے۔

ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کی شکل میں ریاست کے کردار اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کو ایک مثالی شکل میں یکجا کر دیا ہے جو کہ ملکی سیاسی نظام کی غیر فطری بڑھوتری کے سبب ممکن نہ ہوتا۔ انہی مخصوص حالات میں بحریہ ٹاؤن مسلسل اپنے حدود میں توسیع کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ توسیع پسندی صرف زمین پر قبضے تک محدود نہیں بلکہ اس سے بیک وقت ماحولیاتی نظام، مقامی لوگوں کی نقل و حرکت اور گوٹھوں کی بجلی و پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔نیز ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس سے مقامی لوگوں گے گرد گھیرا تنگ کر کے انہیں نقل مقانی پر مجبور کیا جا سکے تا کہ چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں جمع غیر معمولی سرمایہ کو بحریہ ٹاؤن کی شکل میں کراچی کے تمام دیہی رقبے تک پھیلایا جا سکے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s