زمین اور بقاء کا سوال: نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکس کے خیالات

Click to read in English

اسٹیو ڈارسی

اس مختصر تعرفی تحریر کا مقصد کارل مارکس کے نو آبادیات مخالف خیالات قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے جنہیں ہم چار اہم پہلوں سے دیکھنے کی کوشش کرینگے۔

مارکس کا نو آبادیاتی نظام کی اخلاقی مذمت۔
نوآبادیت کے جڑوں کا سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہونے کا مارکسی تجزیہ۔
مقامی لوگوں کے طرز زندگی اور سماج میں کارل مارکس کی دلچسپی جنہیں مارکس سرمایہ دارانہ نظام کے بعد ایک غیر سرمایہ دارانہ مستقبل کے حوالے سے ہمارے نقطہ نظر پر تنقیدی بصیرت کیلئے اہم سمجھتا تھا۔
اور آخر میں سوشلسٹ حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کی مرکزی اہمیت پر مارکس کا ٹھوس اور مدلل نقطہ نظر۔

اگرچہ مارکس کے نوآبادیات مخالف سیاست پر ایک مفصل جائزے کیلئے ضروری ہے کہ مارکسی تجزیہ کے بہت سے حدود و قیود کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے لیکن یہاں ان حدود و قیود کے بجائے ہماری توجہ ان سیاسی طور پر موثر اور سبق آموز پہلوں پر ہوگی جن پر آج بھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نو آبادیاتی نظام کا اخلاقی زوال

مارکس اپنے شاہکار کتاب ”سرمایہ“ کی پہلی جلد میں بنا کسی لگی لپٹی کے براہِ راست سرمایہ دارانہ نوآبادیاتی نظام پر بات کرتا ہے اور مقامی لوگوں بلخصوص نو آبادیاتی نظام کے زیر دست محکوم اقوام پر اس کے تباہ کن اثرات کا برملا ذکر کرتا ہے۔ مارکس نشاندھی کرتا ہے کہ ”نوآبادیاتی انتظامیہ کی تاریخ غداری، بدعنوانی، قتل عام اور کمینہ پن کے ایک غیر معمولی رشتے کی تاریخ ہے ۔“ اور جس طرع ” نو آبادیاتی نظام قدرِ زائد (یا منافع ) کو انسانیت کا سب سے اہم اور حتمی مقصد گردانتا ہے“ مارکس کھلے لفظوں “شرم اور شعور سے عاری یورپی رائے عامہ” کی مذمت کرتا ہے جس کی بنیاد پر یورپی عوام نو آبادیات میں ہونے والی نسل کشی اور لوٹ مار سے صرف نظر کرتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نوآبادیاتی نظام کے نسل کش رجحانات پر خاص طورپر بات کرتے ہوئے مارکس لکھتا ہے کہ (نو آبادیات میں)”مقامی لوگوں کے ساتھ بد ترین وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا خاص طور پر ایکسپورٹ ٹریڈ کیلئے قائم کیئے گئے پلانٹیشن کالونیوں جیسا کہ ویسٹ انڈیز میں اور امیر گنجان آباد ممالک جیسے میکسیکو اور انڈیا جنہیں مکمل طور پر لوٹ کسوٹ کے حوالے کیا گیا”۔

مارکس مزید لکھتا ہے “حتٰی کہ نام نہاد نوآبادیات میں (جنہیں آج سیٹلر کالونیز کہا جاتا ہے) پروٹسٹنٹ ازم کے نمائندوں، نیو انگلینڈ کے پیوریٹنز ، نے 1703 میں اپنے اسمبلی کے مختلف فیصلوں کے زریعے ہر انڈین شہری کو قیدی بنانے یا اسے قتل کر کے سر کے اوپری حصے کی کھال پیش کرنے پر 40 پاؤنڈ انعام مقرر کیا۔ 1720 میں اس رقم کو بڑھا کر 100 پاؤنڈ کر دیا گیا ۔ اسی طرح 1744 میں سفید فام آبادکاروں کیلئے امریکہ کے شمال مشرقی ساحل پر قائم میساچوسٹس بے کالونی کی جانب سے کسی مخصوص قبیلے کو باغی قرار دیے جانے کے بعد اس قبیلے کے افراد کو قتل یا گرفتار کرنے پر مندرجہ ذیل انعام مقرر کیا گیا۔ 12سال اور اس سے زائد عمر کے مرد کو قتل کرنے پر 100 پاؤنڈ ، کسی مرد کو قیدی بنا کر پیش کرنے پر 105 پاؤنڈ جبکہ کسی عورت یا بچے کو قیدی بنانے یا قتل کرنے پر 50 پاؤنڈ انعام مقرر کیا گیا”۔

مارکس “سرمایہ” میں ایک اور جگہ لکھتا ہے “امریکہ میں سونے اور تانبے کی دریافت، مقامی آبادیوں کو غلام بنانا اور انہیں ان(سونے، چاندی کے) کانوں میں دفن کرکے صفہ ہستی سے مٹانا، ایسٹ انڈیز پر قبضہ اور لوٹ مار اور افریقہ کو سیاہ فام لوگوں کے کاروباری شکارگاہ میں بدلنا سرمایہ دارانہ پیداوار کے “گلابی صبح” کے آغاز کی علامتیں تھی”۔

نوآبادیاتی نظام (اور مقامی اقوام کی غلامی) کو مارکس سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی بد ترین شکل کے طور پر دیکھتا ہے۔ یورپ میں سماجی ترقی در حقیقت نوآبادیوں میں مقامی اقوام کی نسل کشی اور ان کی زمین سے بے دخلی سے منسوب ہے۔ جیسا کہ مارکس کے نظریاتی ساتھی و معاون اینگلز کہتا ہے” کوئی اس بات سے صرف نظر نہیں کر سکتا کہ انگریز شہریوں کی نام نہاد آزادی کی بنیادیں نو آبادیات میں روا رکی گئی ظلم و جبر پر قائم ہیں”۔

نوآبادیاتی نظام کی بنیادیں: زمیں کی لوٹ کسوٹ اور دولت کا ارتکاز

مارکس1850 کی دہائی میں لکھے گئے اپنے کتاب گرنڈریسہ میں زمین کوبنیادی اہمیت دیتا ہے جوکہ مارکس کے مطابق “تمام پیداوار اور وجود کا بنیادی ماخذ ہے۔” نوآبادیاتی نظام کیلئے خاص طور پر زمین مرکزی اہمیت رکھتا ہے جس کے حصول کیلئے نو آبادکار تمام تر دستیاب وسائل بشمول معاہدے اور فوجی قوت استعمال کرکے مقامی لوگوں کو بے دخل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے۔ مارکس لکھتا ہے ” ان تمام حربوں کا مقصد مقامی لوگوں سے ان کی زمین ہتھیانا ہے۔۔۔ اس لیے نوآبادیاتی سوال فقط قومیت کا سوال نہیں بلکہ زمین اور انسانی وجود کا بھی سوال ہے۔ ایسے میں(محکوم اقوام کیلئے) دو ہی صورتیں باقی رہتی ہیں انقلاب یا بربادی۔“ 1870 میں مارکس اسی فکر کو دُہراتے ہوئے کہتا ہے کہ نو آبادیوں میں “زمین کا سوال ہمیشہ سے سماجی سوال کا ایک مخصوص شکل رہا ہے کیونکہ زمین کا سوال (مقامی لوگوں کی) ایک بڑی اکثریت کیلئے ان کے وجود، زندگی اور موت کا سوال ہے۔۔۔ جسے قومی سوال سے الگ نہیں کیا جاسکتا”۔

مارکس نوآبادیات میں آبادکاری کو مقامی لوگوں کے لیےایک سنگین خطرہ گردانتا ہے۔ مارکس کے مطابق جب یورپی سفید فام لوگوں کو آباد کرنے کیلئے سیٹلر کالونی بنائے گئے تو اس کے پیچھے منصوبہ یہ تھا کہ مقامی لوگوں سے ان کی زمین چھین کر ان کا صفایا کیا جاسکے اور ان کی جگہ نوآبادکار لا کر بسائے جا سکیں۔ مارکس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کی نوآبادیاتی شکل اختیار کرنے کے پیچھے کئی اسباب اور محرکات تھے جیسے زمین پر قبضہ جس سے آبادکار ملک کی منڈی کو خام مال سستے ترین داموں مل جاتی ہیں، مقامی آبادی کی بے دخلی اور جبری نقل مکانی تاکہ نو آبادیاتی سرمایہ کو محفوظ بنایا جا سکے، استحصال کے شکار مقامی مزدوروں کی فراہمی جس سے سرمایہ داروں کو اجرتیں کم کرنے اور ملکی سطع پر محنت کشوں کی مادی اور اخلاقی قوت توڑنے کا موقع ملتا ہے۔ اس طرح حاکم و محکوم قوم کےمحنت کش طبقے کے درمیان نفرت اور دشمنی کے جزبات پیدا کر کے سرمایہ دار دونوں طرف کے استحصال زدہ طبقہ کی قوت کو کمزور کرنے کو کوشش کرتا ہے۔

مارکس “سرمایہ” میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سرمایہ داری نظام کے زیر دست ” زمین کے وہ حصے جو مقامی لوگوں کی ملکیت میں تھے انہیں ایک زمانے سے باقائدہ منصوبہ بندی سے قبضہ کیا جاتا رہا ہے۔ ” نوآبادیاتی نظام میں زمین کو ”منظم منصوبہ بندی سے ہتھیانے“ کا تصور نوآبادیات مخالف نظریے میں مارکس کی کتاب سرمایہ کا سب سے اہم اضافہ ہے جس پر گلین کھلتارڈ اور روزا لکسمبرگ سمیت بہت سے دوسرے مفکروں نے بار بار زور دیا ہے۔

خطرے سے دوچار متبادل : انسانیت کے مستقبل کیلئے مقامی طرز زندگی کی اہمیت پر مارکس کا موقف

کارل مارکس (اور بعد میں اینگلز ) کا ماننا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاص پہلو انسانیت کی تذلیل اور سفاکیت کے برخلاف مقامی کمیونٹیز کا روایتی سماجی اور قانونی نظام برابری، اجتماعیت اور ہم آہنگی پر مبنی ریاست کے بغیر خود مختاری کی بنیاد پر قائم ہے۔ (اس نقطہ پر مارکس نے مشرقی گریٹ لیکس خطے کے مقامی آبادیوں کے مطالہ میں خاص طور پر زور دیا ہے) مارکس نے مساوات و برابری پر مبنی قبل از نوآبادیات مقامی نظام کو یورپی بائیں بازو کیلئے ایک سبق آموز مثال قرار دیا جوکہ سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بعد پوری انسانیت کیلئے مستقبل کا ایک تصور ہو سکتا ہے۔

مارکس کو جدید دور (انیسویں صدی) کے مقامی آبادیوں کے متعلق جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یورپ کے نسبتاََ ٹوٹ پھوٹ کے شکار سیاسی اور قانونی نظام کے مقابلے میں مقامی معاشروں کی سیاسی و قانونی نظام کا ترقی یافتہ ہونا تھا۔ شمالی امریکہ کے ہوڈونوشونی اقوام میں قبائلی بنیاد پر قائم سیاسی نظام کا تجزیہ کرتے ہوئے مارکس کہتا ہے ”کاؤنسل یا جرگہ ایک ایسا انتظامی ادارہ ہے جسے قبیلہ، خاندان اور قبائلی اتحاد پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ عوامی معاملات قبائلی ادارے کاؤنسل کے سامنے فیصلے کیلئے پیش کیے جاتے ہیں۔“ انفرادی قبائل کی سطح پر کاؤنسل ایک جمہوری اسمبلی کی شکل اختیار کرتا ہے جہاں “ہر بالغ مرد اور عورت کو زیر غور مسئلہ پر اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔۔۔ ہوڈونوشونی قبائلی اتحاد میں شامل ہر قبیلے کے تمام ممبران انفرادی طور پر آزاد انسان ہیں جن پر واحد پابندی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی آزادی کا دفاع کرینگے۔ اس طرع مراعات اور حقوق میں سب برابر ہیں”۔

مارکس 1845 میں اپنے کتاب “مقدس خاندان” میں ابتدائی سوشلسٹ چارلس فیورر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے ”عورت کی آزادی در حقیقت عام (سماجی) آزادی کا فطری پیمانہ ہے۔“ 1868 میں مارکس اپنی بات دھراتے ہوئے کہتا ہے کہ ”سماجی ترقی کا معیار عورت کے سماجی حیثیت کو جانچ کر ناپا جاسکتا ہے۔“ اس تناظر میں مارکس نے یورپی عورتوں کے مقابلے میں ہوڈونوشونی قبائل میں عورت کے اعلی رتبے میں خصوصی دلچسپی لی ہے۔ اسی طرح ایک ابتدائی ماہر بشریات کے الفاظ میں مارکس شمالی امریکہ کے سینیکا قبائل میں قبائلی ماؤں کے اہم کردار کا ذکر کرتا ہے ”قبائل کے درمیان اور کہیں بھی عورتیں عظیم قوت تھیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ قبائلی سربراہ کا سامنا کرنے اور اسے بیدخل کرنے جیسا کہ کہا جاتا ہے اس کے سر سے سینگ اتار کر اسے عام جنگجوؤں میں واپس بھیجنے سے کبھی نہیں ھچکچاتے تھے۔ قبائلی سربراہ کی نامزدگی کا اختیار ہمیشہ ان کے پاس ہوتا تھا”۔

مقامی قبائل کے سماجی اداروں سے سیکھنے کی کاوش میں مارکس جس گہرائی تک گیا ہے میں اس کے مقابلے میں یہاں سطع تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ مارکس کی تحریروں میں موجودہ کینیڈا کے متعدد مقامی اقوام کے قبائلی ساخت، سماجی اور مذہبی رسومات اور قانونی و سیاسی اداروں پر تفصیلی نوٹس موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، مارکس نے انیشنابے قوم کے تمام قبائل کا ایک ایک کر کے ذکر کیا ہے- (جس میں مختلف قبائل کے درمیان متفرق اور یکساں روایات کا خاص طور پرخیال رکھا گیا ہے۔) مارکس نے ہوڈونوشونی اقوام کے قبائلی اداروں میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والے تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی مشائدات کو بھی قلم بند کیا ہے۔ مارکس کہتا ہے کہ مقامی اقوام خاص طور پر انیشنابے قوم میں قبائلی نظام نو آبادیاتی اثرات کی وجہ سے زوال پزیر ہوا ہے۔ سیپیوں سے سجے بیلٹس کی ہوڈونوشونی سفارتکاری میں کردار کا بھی ذکر مارکس کی تحریروں میں ملتا ہے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ صرف مارکس کو پڑھ کر مقامی آبادیوں سے متعلق ان تمام تر مدعوں کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان موضوعات میں دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص آج مارکس کی نسبت معلومات تک بہتر رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مارکس نے مقامی آبادیوں کے تجزیے میں جس توجہ اور انہماک سے ثقافتی اور تاریخی باریکیوں کو جانچا ہے وہ سوشلسٹوں کیلئے ایک سبق ہے( جس سے وہ مقامی آبادیوں کے حوالے سے اپنے تجزیوں کو سدھار سکتے ہیں)۔ مقامی اقوام کے روحانی اور قانونی روایات، ان کی تاریخ اور سماجی اداروں کے متعلق عمومیت کا رجحان (جس میں تمام مقامی اقوام کو ایک جیسا قرار دے کر ان کی انفرادی خصوصیات کو انظر انداز کر دیا جاتا ہے) مارکس کیلئے انیسویں صدی میں بھی قابل قبول نہیں تھا جبکہ اس موضوع پر معلومات اکھٹا کرنے میں اسے بے حد دشواریوں کا سامنہ تھا۔ آج ہمارے پاس زہنی کاہلی، عمومی اور نامکمل تجزیے کیلئے کوئی جواز نہیں مگر پھر بھی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایسے چند ہی سوشلسٹ ہونگے جنہوں نے مقامی اقوام کی مخصوص ثقافت اور تاریخ کا اس حد تک تفصیلی جائزہ لیا ہو۔

یہ غورطلب بات ہے کہ مارکس نے ان مقامی اقوام کی طرز زندگی اور سماجی اداروں کو سمجھنے کی اتنی جستجو اس لیے کی کیونکہ ان مقامی معاشروں میں اسے جدید دنیا کا سب سے زیادہ جمہوری اور مساوات پر مبنی سیاسی نظام نظر آتا تھا۔ اینگلز کی طرح مارکس بھی مقامی اقوام کے سیاسی اداروں کے پختگی اور استحکام اور خاص طور پر ہوڈونوشونی اقوام کے “بہترین دستور” سے متاثر تھا جو چار صدیوں سے قبائل میں نافذ العمل تھا۔ اینگلز لکھتا ہے “یورپی سیاسی نظاموں کے برعکس یہاں نہ کوئی پولیس، شرفا، بادشاہ، نائب، جج، جیل ہیں اور نہ ہی کوئی مقدمات ہر چیز اپنے معمول کے مطابق چل رہا ہوتا ہے۔ تمام تر جھگڑے اور تنازعات متاثرہ کمیونٹی مل بیٹھ کر حل کرتا ہے۔ فیصلے متعلقہ لوگ کرتے ہیں، اور اکثر معاملات صدیوں پرانے روایات کے مطابق پہلے سے ہی حل ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی غریب اور ضرورت مند نہیں ہو سکتا۔ اشتراکی قبیلہ بوڑھوں، بیماروں اور جنگ میں معذور ہونے والوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں جانتا ہے۔ تمام لوگ برابر اور آزاد ہیں بشمول عورتوں کے۔” جدید دور میں کسی ایسے معاشرے کا وجود جہاں جمہوریت اور برابری کی روح رچی بسی ہو مارکس اور اینگلز کیلئے یورپ کے عدم مساوات، سماجی محرومی، استحصال اور جبر پر مبنی سماج کی ایک واضح مذمت تھی۔ مقامی آبادیوں میں انہیں سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بعد ممکنہ کمیونسٹ مستقبل کی تعمیر کی امید اور اس کی اک جلک نظر آئی۔

مارکس کی سیاسی حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف یکجہتی کی مرکزیت

مارکس کے خلاف جھوٹے الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ سرمایہ داری نظام کے خلاف مزدور طبقے کی جدوجہد پر حد سے زیادہ زور دیتے ہوئے نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کو دوسرے درجے پر رکھتا ہے اور اسے مزدوروں کی جدوجہد کی کامیابی سے مشروط کر تا ہے۔ لیکن جب ہم اس مسئلے پر مارکس کے اصل تحریروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس کے برعکس خیالات ملتے ہیں جہاں نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد مزدوروں کی معاشی استحصال کے خلاف روایتی جدوجہد سے زیادہ اہم نظر آتا ہے, نو آبادیاتی نظام کے خلاف بغاوت اولین اہمیت حاصل کر لیتا ہے اور مزدوروں کی سرمایہ داروں کے خلاف جد و جہد دوسرے درجے پر چلاجاتا ہے۔ البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مارکس مزدوروں کے جدوجہد کی اہمیت کم کر رہا ہے۔

مثال کے طور پر برطانیہ کے بطور نو آبادیاتی طاقت کے مسئلے پر مارکس نے نو آبادیات مخالف مزاحمت کو انگلینڈ میں مزدور انقلاب کیلئے ضروری قرار دیا۔ مارکس واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر یورپی بائیں بازو اپنے ممالک کے مزدوروں اور نوآبادیوں کے مقامی مزدور طبقہ کے درمیان اتحاد قائم کرسکے تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ یہاں مارکس کہتا ہے کہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف جد و جہد کو پس منظر میں رکھنے کے بجائے اسے پیش پیش رکھنا چاہیے اور استعماری ممالک کے مزدوروں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہیے کہ نوآبادیاتی نظام سے مقامی لوگوں کی آزادی کا مسئلہ تصوراتی عدل یا انسانی ہمدردی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی آزادی کیلئے اولین شرط ہے۔ دوسرے لفظوں میں مارکس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مزدور طبقہ کی معاشی آزادی کی جد و جہد کے ساتھ ہی نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہدکا آغاز کیا جائے جس کے بغیر مزدوروں طبقہ کی کامیابی ممکن نہیں۔ جیسا کہ مارکس 1872 میں شائع ہونے والے ایک لیفلٹ میں لکھتا ہے، نو آبادیاتی نظام کے جبر سے متاثرہ لوگوں کے خلاف “دشمنی کے نسل پرستانہ جزبات مزدور طبقے کی آزادی کی ہر تحریک کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔“ مارکس نے انگلینڈ جیسے نوآبادکار ممالک کے سرمایہ دار مخالف بائیں بازو کی سیاسی حکمت عملی میں نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے مخصوص اصطلاحات جیسے شرط لازم، بنیادی شرط اور اولین مقصد کو بار بار دوہرایا ہے۔

اسی تصور کے آگے لےجاتے ہو ئے اینگلز 1872 میں لکھتا ہے کہ محکوم اقوام کو ہمیشہ عالمی مزدور تحریک میں خودمختار قومی تنظیم بنانے کا حق حاصل ہونا چاہیے ”اگر کوئی نوآبادیاتی قبضہ گیر قوم مقبوضہ اور زیردست قوم سے اپنے مخصوص قومیت اور مقبوضہ حیثیت کو فراموش کرنے اور قومی اختلافات کو ترک کردینے کا مطالبہ کرے تو یہ”بین الاقوامیت “ کے بجائے محکوم قوم کو جبر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی تبلیغ کے مترادف ہوگا جس کا مقصد بین الاقوامیت کی آڑ میں قابض کی بالادستی کو طول دینا اور اسے جواز فرائم کرنا ہے۔ ایسے مطالبات انگریز مزدوروں میں پائے جانے والے اس تصور کو تقویت دیتی ہیں کہ وہ مقامی اقوام کے مقابلے میں اعلٰی لوگ ہیں۔ وہ سیاہ فام لوگوں کے خلاف غلامی کے حامی ریاستوں کے سفید فام اشرافیہ کی طرح خود کو مقامی لوگوں کے مقابلے میں ویسے ہی اشرافیہ سمجھنےلگتے ہیں۔

ہم “مقبوضہ اقوام” کے بجائے “نو آبادیاتی نظام کے زیر تسلط اقوام” کی اصطلاح کو زیادہ ترجیح دینا چائینگے۔ جیسا کہ مارکس سرمایہ جلد اول میں لکھتا ہے ”نوآبادیوں میں سرمایہ دارانہ نظام کو ہر قدم پر مقامی پیداواری قوتوں کی مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے۔“ عمومی طورپر مارکس اور اینگلز نے جو اصطلاحات اپنے دور میں استعمال کیئے وہ پرانے اور متروک ہوچکے ہیں لیکن اہم نقاط پر ان کا موقف آج بھی درست اور کارگر ہے۔ خاص طورپر “بین الاقوامیت” جو ان کا منشور تھا اور ”قومی اختلافات کو رد کرنے کی فرمائش“ جسے انہوں نے بین الاقامیت کی غلط تشریع قرار دیتے ہے مسترد کر دیا تھا آج بھی نو آبادیاتی نظام کے خلاف سوشلسٹ سیاست کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

خلاصہ

اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی رد کرنے کی ضرورت ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے حوالے سے مارکس کے تصورات میں  واضح خامیاں ہیں۔ مارکس کبھی کبھار انیسویں صدی کے ماہرین بشریات کے ڈگر پر چلتے ہوئے مقامی معاشروں کے حوالے سے بنا تنقیدی جائزے کے قدیم سماج، بربریت بمقابلہ تہذیب اور ان جیسے دوسرے اصطلاحات کو دوہراتا ہے۔ یہی وہ چند نسل پرستانہ اور غیر سائنسی نقاط ہیں جو مارکس کیلئے قابل قبول تھے لیکن ہم انہیں رد کرتے ہیں۔ مارکس کا نوآبادیاتی نظام کے خلاف موقف ہم میں سے بہت سوں کو “یورپ کی مرکزیت” کے تصور سے متاثر نظر آتا ہے اگرچہ مارکسی نقطہ نظر پر اس کے اثرات انیسویں صدی کے باقی مغربی دانشوروں کی نسبت اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہیں۔

یہ اور بہت سے دیگر خامیاں واضح کرتی ہیں کہ مارکس کو گزشتہ ایک صدی کے نوآبادیاتی نظام کے خلاف چلنے والی تحریکوں اور تحقیق کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکا جو ہمیں حاصل ہے اور نہ ہی مارکس کو فرانز فینن، جولیس نیریرے اور اینڈریا سیمسن سمیت بہت سے اہم نوآبادیات مخالف مفکرین کا تنقیدی نقطہ نظر دستیاب تھا۔ مارکس کے بعد آنے والے ان مفکرین نے ہمیں نو آبادیاتی نظام اور مقامی لوگوں کی جد و جہد کے ان پہلوں کو سمجھنے پر مجبور کردیا جنہیں مارکس نے نظر انداز کر دیا تھا۔

مارکس کے نوآبادیاتی نظام پر تنقیدی تجربے کو یکسر تسلیم کرنا یا مسترد کرناسنگین غلطی ہوگی بلکہ اس کے برخلاف مارکس نے جو کہا یا جو وہ کہ نہ سکا اس کا تجزیہ کرنا چاہیے اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکسی نظریات کو سنجیدگی کے ساتھ بیک وقت بطور ایک لازمی نقطہ نظر اور محدود تجزیہ پر مبنی ایک ناقص وراثت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکسی نقطہ نظر کو مکمل طورپر رد کر دینا کار آمد نہیں ہوگا کیونکہ مارکس کے تجزیہ میں جو موثر تنقیدی نقطہ نظر موجود ہے خاص طورپر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جد و جہد میں نو آبادیاتی نظام کی مخالفت کی بنیادی اہمیت پر مارکس کا اصرار دائیں بازو کی مخصوص(اور محدود) طرز سیاست سے نکلنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

____________

نوٹ: دی پبلک آٹونومی پروجیکٹ کیلئے اسٹیو ڈارسی کی تحریر کا بلوچستان مارکسسٹ رویو ٹیم کی جانب سے اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔

1 thought on “زمین اور بقاء کا سوال: نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکس کے خیالات

  1. Pingback: “A Question of Land and Existence”: An Introduction to Marx’s Anti-colonialism – Balochistan Marxist Review

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s