بیس کروڈ مزدور کسانوں کی عام ہڑتال

Pic: Danish Siddiqui/Reuters

ماریہ اوریلیو/انگریزی سے ترجمہ بی ایم آر ٹیم

Click here to read the article in English

جمعرات 26 نومبر کو انڈیا میں محنت کشوں کی جانب سے عام ہڑتال کی گئی جس میں 20 کروڈ سے زائد مزدوروں اور کسانوں نے حصہ لیا۔ ہڑتال کی کال مزدوروں کی 10 یونینز اور 250 سے زائد کسان تنظیموں کی جانب سے دی گئی تھی جس کے جواب میں ملک بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج ریکارڈ کیا گیا جب کہ کچھ ریاستوں میں مکمل تالہ بندی کی گئی۔ ہڑتال کی کال دینے والی یونینز کے مطابق ہڑتال کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی کے مزدور اورکسان دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔

محنت کشوں کے مطالبات

تمام مزدور اور کسان مخالف قوانین واپس لیئے جائیں۔
ٹیکس ادا نہ کرسکنے والے خاندانوں کو 7،500 روپے کی ادئیگی۔
ضرورت مند خاندانوں کو ماہوار 10 کلو خوراک کی فراہمی۔
مہاتما گاندھی نیشنل رورل امپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ 2015 میں توسیع کرکے سالانہ 200 روز کام کرنے والے افراد کو بھی شامل کیا جائے، اجرت میں اضافہ کیا جائے، ایکٹ کو شہری صنعتوں پر بھی لاگو کیا جائے۔
سرکاری اداروں بشمول مالیاتی اداروں کی نجکاری کا خاتمہ اور سرکاری سطع پر چلنے والے ادارے میں کارپوریٹ پالیسیز بند کی جائیں۔
ملازمین کی جبری ریٹائرمنٹ کا اعلامیہ واپس لیا جائے۔
نیشنل پنشن سسٹم کا خاتمہ اور سابقہ پنشن پلان کو ترامیم کے ساتھ بحال کیا جائے۔

انڈیا کی تمام مرکزی صنعتوں اسٹیل،کوئلہ، مواصلات، انجینئرنگ، ٹرانسپورٹ، پورٹ اور بینکنک سے منسلک محنت کشوں کے ساتھ ساتھ طلبہ، گھریلو ملازمین، ٹیکسی ڈرائیوروں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے ملک گیر ہڑتال میں حصہ لیا۔ مرکزی مطالبات کے علاوہ مخصوص شعبوں کے ملازمین نے اپنے متعلقہ شعبوں میں ایسے پالیسوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جس سے محنت کش طبقہ مجموعی طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ بینک ملازمین بینکوں کے نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کے خاتمے، سروس چارجز میں کمی اور دیوالیہ ہونے والے بڑے کارپوریشنز کے خلاف کاروائی جیسے مطالبات کے ساتھ احتجاج میں شامل ہوئے۔

دیگرصنعتوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے عالمی وبا اور معاشی بحران سے نبٹنے میں مودی حکومت کی ناکامی کو نشانہ بناتے ہوئے اپنے مطالبات تشکیل دیئے ہیں- بمبئی یونیورسٹی و کالج ٹیچرز یونین کے ایک بیان میں ٹیچرز نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19 اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیدا ہونی والی صحت عامہ کی ابتر صورتحال اور معاشی بحران کے محنت کش طبقے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔مرکزی حکومت کی عوام دشمن زرعی قانون سازی اور لیبر کوڈز سے بحرانی صورتحال مزید خراب ہوچکی ہے۔ انہوں نے عالمی وبا کے دوران نافذ کی گئی نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس سے تعلیم تک یکساں رسائی ختم ہو جائیگی۔

انڈیا 92 لاکھ متاثرین کے ساتھ کرونا وائرس کی پھیلاو میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس سے اب تک ایک لاکھ 35 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بچوں کی نصف آبادی وبا سے پہلے ہی خوراک کی کمی کا شکار تھی لاکھوں افراد سے ان کا زریعے معاش چھن گیا ہے جنہیں بڑھتی ہوئی غربت اور بھوک مری کا سامنہ ہے۔

کرونا وائرس دہلی اور ممبئی جیسے بڑی شہروں سے اب دہاتوں میں پھیل چکا ہے جہاں صحت کی سہولیات ناپید ہیں ۔ کرونا کے خلاف جنگ میں مودی حکومت کی پالیسیاں محنت کشوں کی زندگی اور روزگار کے بجائے بڑی سرمایہ داروں کے کاروبار کو تحفظ دینے پر مبنی ہیں۔

محنت کش گزشتہ کئی مہنوں سے ان اقدامات کے خلاف برسر احتجاج ہیں جو اب ملک گیر ہڑتال کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انڈیا کے تین بڑے زرعی ریاستوں سے کسان مارچ کر کے دہلی پہنچے ہیں جن کا استقبال پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے کیا۔ کسان بلخصوص مودی حکومت کی ان نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو بڑے سرماداروں کو وسیع پیمانے پر کارپوریٹ فارمنگ کی اجازت دیتے ہیں۔

مودی حکومت نے پہلے ہی عالمی وبا سے پیدا ہونے والے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں اور مہاجر مزدوروں کے خلاف کاروائیاں تیز کردی ہیں جس کی مثال اپریل میں لاک ڈاون کی وجہ سے بے روزگار ہوئے مزدوروں کے ساتھ وہ بہیمانہ رویہ ہے جہاں ان پر بسوں اور گاڑیوں پر استعمال ہونے والی جراثیم کش اسپرے کا استعمال کیا گیا۔

نیولبرل پالیسیوں کی وجہ سے محنت کش طبقے کی دگرگوں حالت کو عالمی وبا نے مزید ابتر کردیا ہے ایسے میں عام ہڑتال کے زریعے مزدور اور کسان یونینز نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ایک موثر احتجاج ریکارڈ کیا ۔ وسیع پیمانے پر ہونے والے عام ہڑتال میں محنت کشوں نے مزدور، کسان اور طلبہ اتحادکی قوت کا شاندار مظاہرہ کیا۔البتہ مزدوروں اور کسانوں کے وسیع مطالبات کو منوانے کیلئے ایک روزہ عام ہڑتال کافی نہیں ہے ۔ محنت کش طبقے کو اپنے جد و جہد کو ان ٹریڈ یونین رہنماؤں کے خلاف بھی وسعت دینی ہوگی جو مزدوروں کو صرف علامتی مظاہروں تک محدود کرنا چاہتے ہیں۔

وسیع پیمانے پر ہونے والا منظم اور مربوط عام ہڑتال مزدور اور کسانوں کے مشترکہ جد و جہد کی قوت کو ثابت کرتا ہے جو دنیا بھر کے محنت کشوں کیلئے ایک مثال ہے۔ ہندستان کے محنت کشوں نے ثابت کر دیا کہ عام ہڑتال آج بھی سرمایہ داری نظام کے خلاف محنت کشوں کا سب سے موثر ہتھیار ہے۔

_____________

Courtesy: Left Voice

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s