مارکسی نظریات پر گامزن بی ایس او

Click here to read the article in English/Brahui

سیاسی طور پر پستی کی جانب گامزن سماج جہاں رجعت پسند قوتیں ترقی پسند قوتوں پر حاوی ہیں طلبہ سیاست ان باقی رہ گئی چند میدانوں میں سے ایک ہے جہاں ترقی پسند خیالات کی ترویج اور تنظیم کاری کی گنجائش اب بھی باقی ہے۔

بلوچ سماج پر حاوی رجعت پسند قوتیں بورژوا قوم پرستوں کے ایک گروہ کی شکل میں وجود رکھتے ہیں جن کی قیادت مشترکہ طور پر بالادست قبائلی شخصیات اور نام نہاد متوسط طبقے کے ہاتھ میں ہے جو وسیع کاروباری مفادات رکھتے ہیں جن کا تحفظ اقتدار کے ایوانوں میں ان کی شمولیت پر منعصر ہے۔ بورژوا یا مڈل کلاس بلوچ قوم پرست رہنما اگرچہ مشترک طبقاتی مفادات رکھتے ہیں لیکن انہیوں نے تاریخی طور پر قوم پرست سیاست کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے ہمیشہ تقسیم در تقسیم کے ذریعے کمزور کیا ہے۔ قوم پرست سیاست میں یہ تقسیم نظریات یا پھر سیاسی طریقہ کار پر اختلاف کے بجائے بالادستی کیلئے چند رہنماؤں کے گرد جمع قبائلی ایلیٹ اور مڈل کلاس کے مختلف گروہوں کے آپسی کشمکش کے سبب ہوئی ہے۔ مینگل، بیزنجو، زہری اور مکران کے نام نہاد مڈل کلاس رہنماؤں کے درمیان اختلافات اسی مظہر کی نشاندہی کرتی ہے جس کی بنیاد پر بلوچستان کی مراعات یافتہ قوم پرست قیادت جسے بلوچ سماج کا غیر صنعتی بورژوازی کہا جا سکتا ہے تقسیم کا شکار ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی تاریخ بلوچ سماج میں ترقی پسند طلبہ سیاست کی تاریخ ہے جو 1950 کی دہائی میں ابھرنا شروع ہوا اور 1970 کے دہائی میں اپنے عروج کو پہنچنے کے بعد زوال پزیر ہوا۔ تب سے آ ج تک بی ایس او ترقی پسند قوتوں اور قوم پرست سیاست پر بالادستی رکھنے والے رجعت پسند قوتوں کے درمیان کشمکس کا مرکز رہا ہے ۔ اس کشمکش میں بی ایس او پر رجعت پسند قوم پرستی کے بجائے ترقی پسند قوم پرستی کا رجحان غالب رہا ہے جس کے سبب بلوچ طلبہ سیاست کا جکاؤ قومی اور بین الاقوامی سطع پر ہمیشہ ترقی پسند قوتوں کی جانب رہا ہے۔

رجعت پسند نسلی قوم پرستی 1990 کی دہائی میں موقع پرست پارلیمانی سیاست کی آڈ میں ترقی پسند قوم پرستی پر حاوی ہوا جس سے بورژوا قوم پرست قیادت جن کی اکثریت کبھی خود طلبہ سیاست کا حصہ رہے ہیں انہیں تعلیمی اداروں میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا موقع مل گیا۔ طلبہ سیاست کا تجربہ رکھنے والے قوم پرست قیادت کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ بلوچ سماج میں تبدیلی کی لہر کہاں سے اٹھتی ہے۔ پارلیمانی قوم پرست قیادت کی بی ایس او میں مداخلت کے پیچے مقاصد میں ایک اہم مقصد طلبہ سیاست میں موجود ترقی پسند قوتوں کو کمزور کرنا تھا تا کہ جس طرح قوم پرستی کے نام پر عوامی سیاست پر بورژوازی نے اپنی بالادستی قائم کی ہوئی تھی اسی طرح طلبہ سیاست میں بھی بورژوا طرز کے گروہ تشکیل دے کر طلبہ کے حقیقی ترقی پسند، جمہوری اور بالادستی کے خلاف تنظیمی ساخت کو رجعت پسند تنظیموں سے تبدیل کیا جا سکے جو آج ہمیں بی ایس او کے نام پر قائم بوژوا قوم پرست پارٹیوں کی طلبہ ونگز کی شکل میں نظر آتے ہیں جو بے مقصد گروہ بندیوں، تقسیم در تقسیم، اور نظریات سے مکمل بے گانگی کی علامت بن چکے ہیں۔

بلوچ طلبہ کی تاریخی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقیقی بنیادوں پر منظم ہوں، چائے وہ نیشنلزم کے پرچم تلے ہو یا سوشلزم کے یا پھر نیشنلزم اور سوشلزم کا اشتراک جو کہ بی اس او کی حقیقی نظریاتی پہچان رہا ہے۔ نیشنلزم اور سوشلزم پر عمل پیرا بی ایس او ہی سماج پر بورژوا قوم پرستی کی شکل میں مرایات یافتہ طبقے کی بالادستی کے بجائے مظلوم و محکوم طبقات کی ترجمانی کر سکتا ہے۔

طلبہ کو ایک آزاد اور بااختیار تنظیم کی آبیاری کیلئے کٹھن جد و جہد کرنی ہوگی۔ ایک ایسے بی ایس او کے جد و جہد کرنی ہوگی جو قومی سطع پر کسی بالادستی کے نظام کے زیر دست نہ ہو، جہاں تنظیمی ادارے فیصلہ سازی میں باختیار ہوں ،آزادانہ اتحاد قائم کر سکیں اور وقت اور حالات کے مطابق مناسب حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے انہیں سیاسی میدان میں عملی جامع پہنا سکیں۔ ایک ایسا بی ایس او جو اپنے وجود میں مقامی ہو لیکن اپنے نظریات میں عالمی وسعت رکھتا ہو جو موقع پرستی کے پیچے چھپنے کے بجائے بر ملا اپنے نظریات اور سیاسی مقاصد کا اظہار کرتے ہوئے دیگر ترقی پسند قوتوں کے ساتھ مل کر استحصال سے پاک سماج کے قیام کیلئے جد و جہد کرے۔

طلبہ کو اس تاریخی فریضے کو ادا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ بی ایس او مارکسی نظریات پر کار بند ہو جن کی بنیاد پر سماج، تاریخ اور جبر کی مختلف شکلوں کی تاریخی اور جد لیاتی مادیت کے سائنسی اصولوں کی بنیاد پر تشریع کرتے ہوِئے جد و جہد کی مختلف طریقہ کار وضع کیئے جا سکیں۔ انہی بنیادوں پر کار بند رہتے ہوئے بی ایس او نہ صرف طلبہ کو ایک انقلابی رستے پر کامزن کر سکتی ہے بلکہ طلبہ اور عوامی سطع پر سرگرم دیگر ترقی پسند قوتوں کے ساتھ قربت بھی پیدا کر سکتی ہے۔

نظریاتی طور پر واضع اور تنظیمی ساخت میں آزاد بی ایس او کی جد و جہد میں طلبہ کو رجعتی قوم پرستی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل سے بیزاری کے رجحانات کی ترویج کرنے والے گروہوں کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو طلبہ کی سیاسی قوت کو ختم کرنے اور طلبہ اور عوام کے درمیان خلیج حائل کرنے کے رجعتی منصوبے پر کاربند ہیں۔

بلوچ سماج میں غیر سیاسی یا سیاست سے بیزاری کا عمل گزشتہ دہائی میں سیاسی قوتوں کے خلاف ہونے والے سفاکانہ کاروائیوں کا نتیجہ ہے جہاں قوم پرست عوامی سیاست سمیت طلبہ میں بھی سیاسی قوتوں خاص طور پر بی ایس او کو نشانہ بناتے ہوئے غیرسیاسی بنیادوں پر تنظیم کاری کیلئے ماحول پیدا کیا گیا جو ہمیں مختلف طلبہ کمیٹیوں اور کونسلز کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ طلبہ کمیٹیاں اور کونسلز اگرچہ ابتدائی طور پر غیر سیاسی بنیادوں پر قائم کی گئیں لیکن وہ تعلیمی اداروں کے سیاسی ماحول سے خود کو الگ نہیں کر پائے جس سے طلبہ کی سیاست سے وابستگی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی اور نتیجے کے طور پر سیاسی رجحانات رکھنے والے اور سیاست سے گریزاں طلبہ کے درمیان کشیدگی کی وہ صورتحال پیدا ہوئی جو تعلیمی اداروں میں موجود تمام اسٹوڈنٹس کمیٹیوں اور کونسلز میں واضع نظر آتی ہے۔

‏ترقی پسند بی ایس او کو طلبہ کمیٹیوں اور کونسلز میں موجود سیاسی طلبہ کے ساتھ مل کر تعلیمی اداروں کو غیر سیاسی بنانے کے اس عمل کے خلاف جد و جہد کرنا ہوگا جس کا مقصد طلبہ اور عوام کی سیاسی قوت کو کمزور کرنا ہے ۔

سماج کے اندر موجود جبر کی مختلف شکلوں کے خلاف جد و جہد میں بی ایس او پر یہ بھی تاریخی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنف، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر قائم تعصبانہ رویوں کی نہ صرف مذمت کرے بلکہ عوام اور طلبہ کو تقسیم اور سیاسی طور پر کمزور کرنے والے تصورات کے خلاف موثر جد و جہد کرے۔

سیاسی عمل سے عورتوں کو دور رکھنا یا پھر ان کی مشروط شرکت خاص طور پر طلبہ سیاست سے متعلق ہے جہاں سرگرم طلبہ میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ سیاست میں عورت مخالف تصورات ہمارے سماجی اور سیاسی اداروں کی جڑوں میں پیوست میں جنہیں روایتی قوم پرست پارٹیاں اپنے مرد رہنماوں کے ہاتھوں عورتوں کے کردار کے تعین کرنے اور انہیں اپنے زیر دست رکھنے کے رجہان کے ذریعے برقرارکھے ہوئے ہیں۔

ترقی پسند طلبہ کو نہ صرف عورتوں کے متعلق روایتی تصورات کے مذمت کرنا ہوگا بلکہ بی ایس او کو اپنی تنظیمی اداروں کو زریعے متبادل سیاسی ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں مرد اور خواتین طلبہ کو یکساں طور پر اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کے مواقع میسر ہوں ۔

قومی شناخت، طبقاتی وابستگی، صنف، اور مذیبی عقائد کی بنیاد پر ہونے والے استحصال کے خلاف مشترکہ جد و جہد مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ مل کر بیک وقت ان کے اپنے سیاسی ماحول میں اور مشترکہ بنیادوں پر کرنی ہوگی۔ عوام کی نجات کی جد و جہد میں شامل ہونے کیلئے طلبہ کو جو کہ سما ج میں ایک موثر سیاسی قوت کی حیثیت رکھتے ہیں اپنے تعلیمی ماحول میں منظم ہونا ہوگا۔

بی ایس او جو کہ اگرچہ مختلف گروہوں کی شکل میں وجود رکھتی ہے بلوچ طلبہ کا مشترکہ سیاسی میدان ہے جس میں رجعتی قوم پرست پارٹیوں کی مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مختلف طلبہ ونگز کی موجودگی کے باوجود طلبہ سیاست کی ترقی پسند رجحانات ختم نہیں کیئے جاسکے اور نہ ہی طلبہ کو غیر سیا سی بنانے کی کوششیں ترقی پسند بی ایس او کا رستہ روکھ پائی ہیں۔ طلبہ سیاست میں ترقی پسند خیالات کی مقبولیت اور بی ایس او کی مارکسی نظریات سے وابستگی طلبہ سیاست میں موجود ترقی پسند اور رجعت پسند قوتوں کے درمیان تضادات کے ٹکراو کا نتیجہ ہے ۔ ان حالات میں یہ طلبہ کی تاریخی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تضاد کو ایک انقلابی سیاسی عمل کے زریعے حل کرتے ہوئے ترقی پسند طلبہ سیاست کو مضبوط کریں اور بی ایس او کو اپنی حقیقی حالت میں بطور ایک آزاد اور ترقی پسند سیاسی تربیت گاہ کے بحال کریں۔

_________________

نوٹ: یہ تحریر بلوچستان مارکسسٹ رویو ٹیم کی جانب سے ‘بلوچستان میں ترقی پسند سیاست کا احیا’ کے عنوان پر مباحثے کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔

2 thoughts on “مارکسی نظریات پر گامزن بی ایس او

  1. Pingback: Marxist BSO: Revival of Progressive Politics in Balochistan – Balochistan Marxist Review

  2. Pingback: مارکسی فکر ئٹی خُلّوکا بی ایس او – Balochistan Marxist Review

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s