نادر جان کی زندگی سے وابستہ چند یاداشتیں

تحریر: نوشین قمبرانی
براہوئی سے اردو ترجمہ: افشین بلوچ

نادر جان کی علمی سیاسی اور ادبی قامت کا فیصلہ انکی قوم کرے گی کہ انہوں نے اپنی قوم اور وطن کے لئے کیا خدمات انجام دیں اور کسقدر یہ فرض پورا کرسکے۔ کس طور اپنے لوگوں کو علم و شعور عطا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ میں انکی بیٹی ہونے کی حیثیت سے اگر انکے شخصی پہلووں پر بات کرونگی تو ایسا محسوس ہوگا کہ شائد کسی افسانوی کردار کے بارے میں گفتگو کر رہی ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ کسی دیو مالائی کردار سے کم نہیں تھے۔

میں نے ایسا غضب کا توکل کرنے والا انسان اور کہیں نہ دیکھا نہ سنا۔ شائد ہر وہ انسان جو قدرت کے سفر کو سمجھ جاتا ہے فطرت اور بقا کے مراحل اور اصولوں سے واقف ہوجاتا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ نہ ابا کو کسی کا خوف تھا نہ کسی شئے کی خواہش۔ وہ ایک عجیب عاشق، سر مست اور آزادی پسند آدمی تھا۔ انکی سب سے بڑی عیاشی انکے قدرتی مناظر سے بھرپور وطن کی گود تھی۔ ابا کے دوست اور شاگرد جانتے ہیں کہ انکا جمالیاتی ذوق کس درجہ بھرپور تھا۔

ہمیں بچپن سے یہی سکھایا کہ مرد عورت بہ حیثیت انسان برابر ہیں ہر مرد میں عورت اور ہر عورت میں مرد کی صفات موجود ہیں۔ دونوں میں دونوں جینڈر کی صفات اور ہارمونز شامل ہیں۔ مرد عورت سے اونچا اور مضبوط نہیں۔ انسانی درجے پر انکا ایمان تھا کہ جو کسی کو کمتر سمجھتا ہے دراصل ذہنی طور پر خود پست ہے۔ ابا مذہبی طور پر بھی آزاد تھے ہمیں یہی کہا کہ جس طرح مسلمان خدا کو اللہ کہتے ہیں ویسے ہی ہندو بھگوان اور زرتشت یزدان کہتے ہیں۔ تمام مذاہب خوبصورت اور قابل_تعظیم ہیں۔

نادر جان سچا اشتراکیت پسند تھا لیکن آجکل کے ہمارے دوسرے دانشوروں کی طرح قول و فعل کا تضاد رکھنے والے ریاست پرست مارکسیوں کی طرح نہیں تھا۔ وہ اصل مارکسی تھا جسکی کوئی ذاتی ملکیت نہیں تھی نہ اسے مادی اشیا کی طلب تھی۔ اس نے اپنے لئے ایک مکان تک تعمیر نہیں کیا تھا۔ درویش تھا اور اپنے کوہ و تلار دشت و بیابان کا عاشق تھا۔ انہیں اپنے والد کی طرف سے جو مکان ورثے میں ملا وہ انہوں نے اپنی بیوہ بہن کو محبت سے دیا۔ ابا پیسے اور شان و شوکت اور طاقت کی ہوس کو بیماری تصور کرتے تھے۔ نوابی سرداری کو استحصالی نظام کی پیداوار سمجھتے تھے۔ اور ہمیشہ کہتے کہ بلوچ کو زندہ رکھنے والے محنت کش مزدور، کاریگر، کسان اور چرواہے ، ہماری ثقافت کو زندہ رکھنے والے فنکار اور کشیدہ کاری کرنے والی ہماری عورتیں بلوچ کے اصل سردار ہیں۔ ہمارا سماج ابھی ناواقف ہے کیونکہ ہم ذہنی طور پر غلام ہیں۔ چوروں ، لٹیروں اور حریصوں کو ہر دور کا حکمران پسند کرتا ہے بےشک انگریز ہو یا پاکستانی حکومت وہ بدمعاشوں کو مضبوط کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی بتاتے تھے کہ قدیم بلوچ نظام میں ایک قبائلی کمیٹی سردار کا چناو کیا کرتی تھی اور سب سے زیادہ دانا، بہادر، ذکی اور انصاف دوست انسان کو سردار منتخب کیا کرتی تھی۔

نادر جان بلوچ کی جو صفات و خصوصیات گنواتے وہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتی نظر آرہی ہیں جنہیں محفوظ کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ابا کہتے کہ بلوچ مرد اپنی عورت کے پیروں میں بیٹھتا ہے۔ وہ woman oriented ہوتا ہے۔ عورت کی عزت کے لئے اپنا خون دیتا ہے۔ شہید اکبر خان نے جب شازیہ خالد ریپ کیس پر آرمی کے خلاف سٹینڈ لیا تو ابا کہتے کاش ارد گرد کی قومیں بلوچ سے یہ سیکھیں اور یہ اکبر خان کا یہ قدم ایک مثال بن جائے کہ عورت کا شرف و مقام کیا ہے اور عورت کی عزت اور آزادی کے لئے بلوچ کبھی جان اور مال کی پرواہ نہیں کرتا۔

ابا کبھی دکھی بھی ہوتے تھے کہ براہوئی کلاسیک میں عشقیہ داستان کی بجائے مظلوم ماہ گل کا قصہ ہے لیکن ساتھ ہی پرامید ہوتے کہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ دل سے سیاہ کاری کے خلاف ہے۔ انکا پہلا افسانہ 1950 کی دہائی میں چھپا بہ عنوان ” سیاہ کار کون ہے” جس میں انہوں نے یہ باور کروایا کہ دراصل سماجی رسمیں اور اپنی بہن بیٹیوں اور بیویوں کو سیاہ کار کرنے والے خود سیاہ کار ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے کہ صرف جان سے مار دینا سیاہ کاری نہیں ہے بلکہ اپنی عورتوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنا انکے حق_انسانیت کو نہ ماننا سیاہ کاری ہے۔

نادر جان کو اپنے دوست اپنی جان سے زیادہ پیارے تھے جن میں چند نام میرے ذہن پر نقش ہیں۔ جن میں بابو عبدالرحمان کرد، ماما حاجی عبدالرحمان شاہوانی، بابا عبدللہ جان جمالدینی، ماما حبیب اللہ جتک، ماما گل بنگلزئی، آغا نصیر احمد خان پروفیسر برکت علی، ماما انور لہڑی اور ڈاکٹر مقبول طارق شامل ہیں۔ باقی اپنے قومی ہیروز کی وہ تو پرستش کرتے تھے۔

نادر جان اپنی قوم اور تمام انسانوں کا عاشق تھا میں نے اس عاشق کو کبھی پریشان نہیں دیکھا بڑی سے بڑی آفت میں مسکراتا پایا۔ میں اور میرے دوست جب قوم کی مفلوک الحالی پر دکھی ہوتے تو ابا ہماری آہ و زاری سننے کے بعد صرف یہ کہتے۔

“خیر ہوگی بچو خیر ہوگی یہ مٹی صرف بلوچ سے وفا کرے گی شرط محبت ہے۔”

یعنی جو مٹی کا عاشق مٹی اسکی عاشق

نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل دی بلوچستان پوسٹ براہوئی پر شایع ہوچکی ہے جسے مارکسی استاد نادر قمبرانی کی یاد میں شکریہ کے ساتھ دوبارہ شایع کیا جا رہا ہے۔

پروفیسر نادر قمبرانی کی یاداشتوں پر مبنی تحریر یہاں سے پڑھیں

نظارے جو ہم نے دیکھے! (نادر قمبرانی کی یادداشتیں) 1

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s