Frantz Fanon: Decolonisation through revolution

“From South Africa to France and Britain, activists are again making use of Fanon’s work and taking inspiration from his revolutionary life. [Review of three books] show that Fanon has many lessons for movements against racism, imperialism and capitalism for today.”

شہید فدا کے نظریات کی یاد میں

ہم میں سے اکثر شہید فدا بلوچ کو اپنے دور کے ایک عوامی رہنما کے طور پرجانتے اور مانتے ہیں۔ لیکن شہید فدا کو خراج عقیدت پیش کرتے وقت اکثر ان کے نظریات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شہید فدا کی برسی کے موقع پر ہم انہیں نہ صرف عوامی مقبولیت کی وجہ سے یاد کریں گے بلکہ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ان کے نظریات کو یاد کیا جائے اور ان پر بحث ہو۔

Remembering Shaheed Fida’s Ideology

Most of us know and admire Shaheed Fida Ahmed Baloch for his being a popular leader of his time. In doing so what we forego is his ideology for which he stood until his death. On the anniversary of his martyrdom, the best homage would be to remember him for his ideas, not just his fame.

یوم مئی کا پس منظر

پہلے یکم مئی کا مطالبہ تھا کہ مزدوری کا دورانیہ آٹھ گھنٹے کیا جائے۔ لیکن یہ مطالبہ منظور ہونے کے بعد بھی یکم مئی کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔ جب تک بورژوازی اور بالادست طبقات کے خلاف مزدوروں کی جد و جہد جاری ہے اور جب تک تمام مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہر سال یوم مئی پر یہ مطالبات دوہرائے جائینگے۔ اور جب بہتر دنوں کا سورج طلوح ہوگا ،جب دنیا بھر کے مزدور اپنی دکھوں کا مداوا دیکھیں گے ،تب ماضی کی تکالیف اور سخت جد و جہد کے اعزاز میں عالم انسانیت یوم مئی منائے گئی۔

What Are the Origins of May Day?

The first of May demanded the introduction of the eight-hour day. But even after this goal was reached, May Day was not given up. As long as the struggle of the workers against the bourgeoisie and the ruling class continues, as long as all demands are not met, May Day will be the yearly expression of these demands. And, when better days dawn, when the working class of the world has won its deliverance then too humanity will probably celebrate May Day in honor of the bitter struggles and the many sufferings of the past.

طبقاتی جدوجہد یا طبقاتی نفرت؟

اگر طبقاتی جدوجہد سے مراد جابروں کے خلاف استحصال زدہ لوگوں کی جدوجہد ہے تاکہ استحصال کا خاتمہ ہو، تو بے شک طبقاتی جہدوجہد ہوتی رہے۔ بلاشبہ یہی جدوجہد، اخلاقی اور مادی بلندی کا راستہ ہے، اور یہی مرکزی انقلابی قوت ہے جس پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔

Class struggle or class hatred?

Let there be as much class struggle as one wishes, if by class struggle one means the struggle of the exploited against the exploiters for the abolition of exploitation. That struggle is a way of moral and material elevation, and it is the main revolutionary force that can be relied on.

طبقاتی سوال سے منکر تو کیسے؟

بلوچستان میں چلنی والی تحریک براہ راست تو قومی تحریک تھی لیکن اس میں ایندھن طبقاتی ہی رہی ہے۔ قیادت اگر اوپر کے طبقے کے پاس رہا تو نیچے کارکن ہمیشہ نچھلا طبقہ ہی رہا اور سیاست بھی اسی نچھلے طبقے کے ارد گرد رہا ہے۔بلوچ قومی تحریک میں بلوچ نچھلے طبقے کی بات کرکے نچھلے طبقے کے بلوچ کو بنیاد بنا کر مسلسل جڑت قائم کی جاتی رہی ہے۔ تو اس تحریک پر طبقاتی سوال واضح اور غالب ہے۔

Bhagat Singh On the slogan of ‘Long Live Revolution’

“[O]ne should not interpret the word “Revolution” in its literal sense. Various meanings and significances are attributed to this word, according to the interests of those who use or misuse it. For the established agencies of exploitation it conjures up a feeling of blood stained horror. To the revolutionaries it is a sacred phrase.” Shri Ramanand Chaterji the editor of Modern Review, ridiculed the slogan of ‘Long Live Revolution’ through an editorial note and gave an entirely wrong interpretation. Bhagat Singh wrote a reply and handed it over to the trying magistrate to be sent to Modern Review. This was published in The Tribune of December 24, 1929.

بلوچستان میں سیاسی بیداری کا نیا دور

سانحہ ڈنک اور اس کے خلاف اٹھنے والی رد عمل سے بلوچستان سیاسی بیداری کے ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ عام عوام کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر نوجوان جو گزشتہ ایک دہائی پر محیط خوف کے ماحول میں سیاسی عمل سے دور ہو گئے تھے ایک عرصے کے بعد پہلی مرتبہ برمش سے یکجہتی کے نعرے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کی شکل میں سڑکوں پر نکل آئے۔ ایک وسیع تر پر امن عوامی تحریک کے مادی حالات اپنی نقطہ عروج تک پہنچتے جا رہے ہیں جس کا اظہار سیاسی و سماجی جبر کے خلاف اٹھنے والے عوامی رد عمل کی شکل میں ہو رہا ہے ۔ ایک پر امن تحریک جو سماج کی نمایاں سیاسی قوت بنے خارج از امکان نہیں۔ اس تحریر میں ہم برمش یکجہتی کمیٹیوں سے شروع ہونے والے عوامی سیاسی بیداری کے اس لہر کا ایک وسیع تر عوامی سیاسی تحریک میں تبدیل ہونے کے امکانات اور ترقی پسند قوتوں کی تاریخی کردار کا جائزہ لینگے۔

بلوچ عورت پر جبر کے خلاف امتیازی رد عمل

بلوچ عورتوں میں صنفی شعور اور تنظیم کاری جبر کی مختلف شکلوں کے خاتمے کی نوید ہے جبکہ صنفی امتیاز کے خاتمے کی جد وجہد سے انکار در حقیقت عورت کے مجموعی سیاسی کردار سے انکار ہے جو صنفی جبر کے ساتھ ساتھ جبر کی دوسری تمام شکلوں کے خلاف جد و جہد میں بھی عورت کے کردار کو محدود کر دیتی ہے۔ ایسے سماجی ڈھانچے جو صنفی، نسلی اور معاشی بنیادوں پر استحصال کے شکار عوام کی سیاسی قوت کے اظہار کو ناممکن بناتے ہیں ان کے خاتمے کے بغیر ایک بہتر سماج کا تصور نا ممکن ہے۔

Frederick Engels Speech at the grave of Karl Marx

“On the 14th of March, at a quarter to three in the afternoon, the greatest living thinker ceased to think. He had been left alone for scarcely two minutes, and when we came back we found him in his armchair, peacefully gone to sleep-but forever.”
Frederick Engels Speech at the grave of Karl Marx

نظریہ انحصار پذیری اور عالمی معاشی نابرابری

بین الاقوامی تعلقات عامہ پر ہمیشہ سے مغرب کی ایک چھاپ رہی ہے جس بنا پر عالمی مسائل کو ہمیشہ مغرب کی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں محکوم و مظلوم اقوام کی آواز، خدشات و تحفظ ہمیشہ دب کر رہ گئیں۔
یہ مضمون بین الاقوامی تعلقات عامہ کی مد میں نظریہ انحصار پذیری* کی مناسبت سے لکھا گیا ہے کہ کیا نظریہ انحصار پذیری موجودہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے بیچ غیر متوازی معاشی حالات اور معاملات کو سمجھنے میں کارآمد ہے؟

ازیت کا مضحکہ خیز اور سفاکانہ نظام

لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج پر بیٹھے بلوچ خواتین ہمارے عہد میں جمہوریت، آزادی اور بردباری کی مجسم صورت ہیں۔ جبری گمشدگیوں کو رواج دینے والے لاطینی امریکہ کے آمروں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے مصداق یہ خواتین نہ صرف خود کے اور اپنے گمشدہ پیاروں کی آواز ہیں بلکہ وہ تمام مظلوموں کے لیئے بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔ یہ خواتین ہمیں امید دلاتی ہیں کہ ازیت کا یہ مضحکہ خیز اور سفاکانہ نظام ایک دن ضرور زمین بوس ہوگا۔

Is Dependency Theory Still Relevant Today? A Perspective From The Global South

Human experiences of capitalism have resulted bitterly if we take a close look at the history. We saw a huge slump in the form of the great depression (1930) followed by the great recession of (2008), which is often considered as the worst global financial crisis since the great depression. In the hindsight of the crisis of 2008, dependency theory provides an opportunity in explaining global inequalities.

بحریہ ٹاون اور کراچی کے مقامی باشندوں کی زمین سے بے دخلی

کراچی کے مقامی باشندے بالخصوص گوٹھوں میں آباد سندھی اور بلوچ قبائل ملک ریاض کی سرپرستی میں منظم سرمایہ داروں کے ہاتھوں اپنی آبائی زمینوں سے بے دخلی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ ان مقامی قبائل کی زمین سے بے دخلی کا عمل در حقیقت برطانوی استعماریت کے دوران شروع ہوتی ہے جہاں اس نے انیسویں صدی میں اشتراکی زمینوں پر جبری طورپر نوآبادیاتی و نجی ملکیت مسلط کر دیا۔ قدیم سندھی اور بلوچ گوٹھوں سے مقامی لوگوں کو جبری طورپر بے دخل کرنے کا تاریخی سلسلہ اب بحریہ ٹاؤ ن کی شکل میں اپنے انجام کو پہنچ رہا ہے جہاں جبری طورپر تمام سماجی سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کو ہٹا کر کراچی کے زراعتی سماج کی مکمل خاتمے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری، رشوت اور خصوصی رعایتوں کے ذریعے جمع کی گئی لوٹ کسوٹ کی دولت کو مزید بڑھانے کیلئے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

مگسی نواب اور بلوچستان کا طبقاتی جبر

طاقتور نواب خاندان کی جانب سے زمین پر قبضے کے خلاف بر سر احتجاج خیرالنسا اور ان کے خاندان کی کہانی نوابوں کے زیر دست عام عوام کی روز مرہ کی کہانی سے مختلف نہیں۔ ان کا تعلق جھل مگسی کے یونین کونسل میر پورسے ہے۔ میر پور بلوچستان کے ان سینکڑوں دیہاتوں میں سےایک ہے جہاں کی آبادی خشک سالی سے زرعی زمینوں کی پیداوار ختم ہوجانے کے سبب قریبی علاقوں میں ہجرت کرتے آرہے ہیں۔ خیرالنسا کے خاندان کے مطابق وہ بھی انہیں حالات سے دوچار صحبت پور ہجرت کرچکے تھے لیکن جب وہ واپس اپنی زمینوں کی طرف لوٹے تو ان پر قبضہ ہو چکا تھا۔ انہوں نے مقامی نوابوں کے اقتدار کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا اور اپنے آبائی زمینوں کی ملکیت کا حکم نامہ حاصل کر لیا ۔ لیکن عدالتی حکم نامے کے بعد انہیں زمین کا قبضہ ملنے کے بجائے مزید جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔خاندان کا سربراہ ایک جھوٹے مقدمے میں پابند سلاسل ہے اور کمسن خیر النسا کو اسی جرم میں ایک طویل مدت تک حبس بے جا میں رکھا گیا ۔متعلقہ زمین اب بھی مگسی برادران کے قبضے میں ہے اور متاثرہ خاندان بر سر احتجاج قانون کی عملداری کی دہائی دے رہا ہے۔

کریمہ : انقلاب کی ایک داستان

گزشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان جن تاریخی تبدیلیوں سے گزرا ہے ان میں عورت کے روایتی کردار کی تبدیلی اہم ترین تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔ بلوچ عورت جس کی بہادری کے قصے اکثر اساطیری کہانیوں کے حوالوں سے مردوں کی زبانی بیان ہوتی تھی پہلی مرتبہ سیاسی منظر نامہ پر انقلاب کے نعرے کے ساتھ نمودار ہوئی۔ بانک کریمہ ان نمایاں خواتین میں سے ایک تھیں جنہوں نے بلوچ سماج میں مرد اور عورت کے صنفی تفریق پر مبنی روایتی مقام کو چیلنج کرتے ہوئے سیاسی عمل کا مردوں کیلئے مخصوص ہونے کے تصور کو نہ صرف رد کیا بلکہ سیاست میں عورتوں کے قائدانہ کردار کی بنیاد ڈالی ۔

گرامچی اور انقلاب روس: مارکسی فکر میں توسیع اور تخلیق کاری کی ایک روداد

اطالوی دانشور اور کمیونسٹ پارٹی آف اٹلی کے بانی انٹونیو گرامچی کا شمار بیسویں صدی کےمایہ ناز مفکرین میں ہوتا ہے۔ نہ صرف مارکسی فکر کے اندر بلکہ گرامچی کے خیالات اور ان کے نظریات کو غیر مارکسی فکر کے پیشہ وران نے بھی خوب بڑھ چڑھ کر اپنایا ہے۔ دوسری طرف مارکسی فکر کے اند گرامچی کو اکثر “مغربی” ریاستوں اور ان کی سول سوسائٹی کا دانشور سمجھا گیا ہے اور ان کے” اجارہ داری” جیسے تصورات کو صرف ” مغرب” اور سرمایہ دارانہ طور پر ترقی یافتہ ممالک تک محدو د کر دیا گیا ہے۔جدھر گرامچی اور ان کے نظریات کا استمعال سماجی علوم کے تقریبا ہر شعبے میں ہی عام ہے، ان نظریات کا استمعال گرامچی کی اپنی مقصود تشریحات، ان کی روح اور ان کے سیاق و سباق سے الگ رکھ کر ہی کیا گیا ہے یوں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے گرامچی کو اپنی مشہوری کی سزا ان کے خیالات کی روح میں تبدیلی اور اکثر ان سے مکمل لا علمی کی صورت میں ملا ہے۔ اس مضمون میں ایاز ملک گرامچی کے سیاسی اور علمی عمل اور اس پر انقلاب روس کے اثرات کا جائزہ پیش کرتے ہی۔

Towards the Creation of Professional Revolutionaries

Julio Antonio Mella, founder of Cuban communist party, was assassinated in Mexico on this day in 1929, he is considered as the most outstanding Marxist theorist of the 20th century in Latin America, here is one of his most influential writings.

زمین اور بقاء کا سوال: نو آبادیاتی نظام کے خلاف مارکس کے خیالات

مارکس کے خلاف جھوٹے الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ سرمایہ داری نظام کے خلاف مزدور طبقے کی جدوجہد پر حد سے زیادہ زور دیتے ہوئے نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کو دوسرے درجے پر رکھتا ہے۔ اسٹیو ڈارسی اس تصور کو رد کرتے ہوئے کارل مارکس کی نو آبادیات مخالف خیالات کے چند اہم پہلو پیش کرتے ہیں۔

“A Question of Land and Existence”: An Introduction to Marx’s Anti-colonialism

In this short introductory article, Steve D’Arcy briefly introduces readers to four key themes in Marx’s anti-colonialism: first, his moral condemnation of colonialism; second, his analysis of its roots in capitalism; third, his attentiveness to the importance of Indigenous modes of life and social practices as sources of critical insight and social innovation that can and should inform how we think about a post-capitalist future; and finally, fourth, his strong views about the centrality of anti-colonial solidarity in socialist strategy, not only in colonized places but more generally.

Being Indigenous in Karachi

The indigenous people of Karachi, mainly Sindhi & Baloch communities, living in rural villages called goths, are fighting for their land which is being forcibly occupied by the capitalists organized behind the real estate tycoon Malik Riaz. This historical process, the expropriation of indigenous Sindhi & Baloch Goths, is now reaching its conclusion with Bahria Town’s forceful removal of all barrier (both physical and social) to achieve complete annihilation of the agricultural communities of rural Karachi.

بیس کروڈ مزدور کسانوں کی عام ہڑتال

انڈیا کے تین بڑے زرعی ریاستوں سے کسان مارچ کر کے دہلی پہنچے ہیں جن کا استقبال پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے کیا۔ کسان مودی حکومت کی زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو بڑے سرماداروں کو وسیع پیمانے پر کارپوریٹ فارمنگ کی اجازت دیتے ہیں۔

جدلیاتی مادیتءِ علمءِ لیکہ

جدلیاتی مادیت ءِروءَ، علم ہما وہدءَصداقت جوڑبیت وہدےآ گوں راستیاں ہمدپ بہ بیت ءُ آئی ءِتصدیق عملءَچہ بوت بہ کنت۔پمشکہ ما گشت کنیں کہ عمل نہ تہنا صداقتءِمعیار انت بلکیں علم ءِ بنزہ ہم زانگ بیت انت۔اشیءِمتلب اے بوت کہ اولی سرا حسیات معلوماتءِدروشمءَ بنت، پدا چہ ہمے معلوماتاں فکری آسر درکنگ بیت ءُپدا عملءِکمکءَ ہمے فکری آسر تصدیق کنگ بنت ءُاشانا صداقتءِ نام دیگ بیت۔۔ما ہچ وڑا علم یا کہ نظریہ ءَعملءَ چہ سِستءُ جتا کت نہ کن ایں۔ ہمانظریہ کہ عملی دروشمءَاتک نہ کنت،یا عملءِتہا اتک مہ کنت، آویران بیتءُ ہرہماعملءِ پشتہ کہ نظریہ نیست آبے ثمر بیت۔

مارکسی فکر ئٹی خُلّوکا بی ایس او

سیاسی وڑئٹ نزوری نا پاسو آ ہِنوکا سماج ہراڑے کہ رجعت پسند طاقتاک ترقی پسند طاقتاتان زور ءُ طلبہ سیاست ہمو رہینگوکا پِڑ تان اسٹ ائے کہ اوڑے ترقی پسند خیالاتِہ تالان کنّنگ ، اوفتِہ مُون آ ہتنگ کِن دائسکان ہم پین گنجائش ارے ۔ طالباتِہ اسہ آزاد و بااختیار تنظیم ئسے زندہ تخنگ کِن سخت جہد کروئی تمّو ، اسہ ہندنو بی ایس او سے کِن بش مروئی تمّو ہرا قومی بنیاد آ ہچّو بالادست نظام ئسے نا شیفا مف او تینا فیصلہ سازی آ بااختیار مرے ، آزادی ئٹ ایلو تنظیماتون اتحاد کے ، وخت ئنا حالت نا مطابق مناسبو حکمت عملی مونا ہتِے پدا اوفتِہ سیاسی پِڑ آ عملی وڑئٹ نشان تے ۔

مارکسی نظریات پر گامزن بی ایس او

سیاسی طور پر پستی کی جانب گامزن سماج جہاں رجعت پسند قوتیں ترقی پسند قوتوں پر حاوی ہیں طلبہ سیاست ان باقی رہ گئی چند میدانوں میں سے ایک ہے جہاں ترقی پسند خیالات کی ترویج اور تنظیم کاری کی گنجائش اب بھی باقی ہے۔ طلبہ کو ایک آزاد اور بااختیار تنظیم کی آبیاری کیلئے کٹھن جد و جہد کرنی ہوگی۔ ایک ایسے بی ایس او کے جد و جہد کرنی ہوگی جو قومی سطع پر کسی بالادستی کے نظام کے زیر دست نہ ہو، جہاں تنظیمی ادارے فیصلہ سازی میں باختیار ہوں ،آزادانہ اتحاد قائم کر سکیں اور وقت اور حالات کے مطابق مناسب حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے انہیں سیاسی میدان میں عملی جامع پہنا سکیں۔

Marxist BSO: Revival of Progressive Politics in Balochistan

In a politically degenerating society, where the progressive forces are overpowered by the reactionary forces, students’ politics is one of the few remaining spaces where an enabling environment for the promotion of progressive organizational and ideational tendencies continue to exist. Baloch students must fight to achieve and sustain a structurally independent organization, a BSO that is not a mere extension of any national level structure of dominance.

Books: A Companion to Marx’s Capital by David Harvey

David Harvey’s book is a companion for people on a journey through the rich world of Karl Marx’s political economy. Harvey has been writing and lecturing incessantly on Capital for the last four decades. Based on the transcripts of his lectures, ‘A Companion to Marx’s Capital’ shows the reader how to read Marx on his own terms, in order to help us understand the contradictions of capitalism and the reasons why crisis is an inherent feature of this system.

اکیسویں صدی کی وضاحت کرتے مارکسزم کے دس خیالات

سرمایہ داری کی اجارہ دارانہ پروپیگنڈہ مشین نے مارکس کے تجزیے کو جھٹلانے کی اور ان کے خیالات کے خلاف موت کا فیصلہ صادر کرنے کی کتنی ہی جان توڑ کوشش کی ہو جن کے لیے مارکس نے اپنی زندگی وقف کر دی لیکن مارکس ازم وقت کے معیار پر کھرا اترا اور نہ صرف دنیا کو سمجھنے کے ایک طریقۂِ کار کے طور پر، بلکہ اسے تبدیل کرنے کے ایک آلے کے طور پر بھی، اس کی درستی ثابت ہوئی۔

Ten Marxist ideas that define the 21st century

“No matter how hard the hegemonic propaganda machine has tried to refute his analysis and decree the death of the ideas to which he dedicated his life, Marxism resists the test of time and its validity – not only as a method to understand the world, – but as a tool to transform it, is proven.”

مارکسزم کا مختصر تعارف

مارکسزم ایک ایسی فلاسفی ہے جو ہر دور میں ’ریلیونٹ‘ ہے۔ آج بھی طبقاتی تقسیم اسی طرح کے استحصالی نظام کو فروغ دے رہی جس میں اشرافیہ اور غریب میں ایک نہ پاٹی جا سکنے والی خلیج موجود ہے۔ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ مزدور کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مزدوروں اور طلبأ کی تنظیموں کا کوئی خاص وجود ہی نہیں ہے۔ مخالف بیانیہ سامنے لانے والی آوازیں دبا دی جاتی ہیں۔ سچ کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور سارے کا سارا نظام محض سٹیٹس کو کا نمائندہ ہے۔ آج بھی مارکسزم ہی ایک ایسی فلاسفی ہے جو صحیح معنوں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔

شاہینہ شاہین کا قتل اور بلوچ عورت کا کرب

شاہینہ شاہین کا قتل بلوچ سماج میں عورتوں کی گھمبیر صورتحال کو ایک مرتبہ پھر منظر عام پر لے آیا ہے۔ بلوچ خواتین خاص طور پر وہ جو پدرشاہی کی سرخ لکیر کو پار کرنے کی ہمت کرتی ہیں وہ اس پر خطر صورتحال میں سب سے زیادہ متاثرہیں۔ یہ کہانی بلوچستان کے ہر اس عورت کی کہانی ہے جو بدلتے معاشی و سماجی حالات میں تنگ دائروں سے نکل کر اس سماج زندگی کا حصہ بننا چاہتی ہے جس پر مردوں کا غلبہ ہے ۔

The Agony of Baloch Women

The story of Shaheena Shaheen, a Baloch artist, TV host, and magazine editor killed on 5th of September in Turbat. Her murder brought into light the vulnerability of Baloch women especially of those who dare to make their way across the invisible red lines of patriarchy.

نادر جان کی زندگی سے وابستہ چند یاداشتیں

پروفیسر نادر قمبرانی بلوچستان کے مایہ ناز مارکسی استاد رہے ہیں جنہوں نے جدوجہد کی راہ میں اپنی جوانی کے بارہ سال جلاوطنی میں گزارے اور اپنے

قلم سے براہوئی ادب کو ترقی پسند خیالات سے ہمکنار کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ یہ تحریر ان کی تاریخی قدمات کی اعزاز میں پیش ہے۔

We Can’t Afford You: Punjab Shuts Doors To Baloch Students

The future of hundreds of marginalized students has been put in jeopardy as universities in Punjab end scholarship program for the students of Balochistan and erstwhile-FATA. This analysis aims at highlighting background of the free education program and implications of sudden policy reversal on Baloch students.